سکول جانے والے بچوں اور بچیوں کے تعددی فرق میں پانچ برس میں 50 فیصد تک کمی لائی جائے گی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات

اسلام آباد (کرئیرکاروان) وفاقی وزیر منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات مخدوم خسرو بختیار نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں تعلیم کے شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لئے کام کررہی ہے، حکومت وژن 2025ء کے تحت سکول جانے والے بچوں اور بچیوں کے تعددی فرق کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہے اور آئندہ پانچ برس میں اس فرق میں 50 فیصد تک کمی لائی جائے گی اور 2025ء تک ہر بچہ یا بچی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوگا، حکومت قومی وسائل کو عوام کی فلاح و بہبود اور ملکی ترقی کے لئے بروئے کار لانے کے لئے حقیقت پسندانہ حکمت عملی اختیار کر رہی ہے جس کے ثمرات تیزی کے ساتھ سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انھوں نے اجلاس کے شرکاء سے کہاکہ آپ تحقیق کے لئے ایسے منصوبے بنائیں جس سے ملک و قوم کو فائدہ پہنچے اور معاشی بوجھ کم ہو سکے۔سینٹرل ڈویلپمنٹ کے اجلاس میں تعلیم سے متعلق 2 منصوبے پیش کیے گئے جس میں پہلا منصوبہ پورے سندھ میں ثانوی تعلیم کی بہتری کے لیے 11533.500 ملین روپے کی لاگت کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس نے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیا ہے۔ دوسرا منصوبہ پاکستان میں انسانی ترقی کے اشاریہ کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی کے اہداف پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے 2995.896 ملین روپے کا منصوبہ پیش کیا گیا جس کو اجلاس نے منظور کر لیا ہے۔