خاتون ٹیچر کی ہلاکت ،تحقیقاتی رپورٹ میں سکول انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی اور سکول رجسٹریشن منسوخ کرنے کی سفارش

خاتون ٹیچر کی ہلاکت ،تحقیقاتی رپورٹ میں سکول انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی اور سکول رجسٹریشن منسوخ کرنے کی سفارش
ملتان (کرئیرکاروان)13مئی کو نجی سکول میں خاتون ٹیچر کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے و الی کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کہاہے کہ اس واقعہ کی ذمہ داری سکول انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے ۔ٹیچر کی ہلاکت سکول انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث واقع ہوئی۔تحقیقاتی رپورٹ میں سکول انتظامیہ کے خلاف سخت کارروائی اور سکول رجسٹریشن منسوخ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سکول انتظامیہ کی جانب سے عاصمہ کو فوری طبی امداد اور ہسپتال پہنچانے میں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔انکوائری رپورٹ کے مطابق گاڑی دستیاب ہونے کے باوجود زخمی ٹیچر کو طویل انتظار کے بعد رکشے پر ہسپتال منتقل کیاگیاجبکہ بروقت طبی امداد کی فراہمی سے ٹیچر عاصمہ کی جان بچائی جاسکتی تھی۔ رپورٹ کے مطابق واقعے کے بعد ریسکیو 1122 سمیت کسی ادارے کو مطلع نہیں کیا گیا۔ انکوائری کمیٹی نے سکول کی کمرشلائزیشن اور سائٹ پلان کی تحقیقات کرانے کی بھی سفارشات پیش کردیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سکول انتظامیہ کی جانب سے ٹیچرز کو کم تنخواہوں کی ادائیگی بھی افسوس ناک ہے۔کمیٹی نے سفارش کی کہ تعلیمی اداروں کو آئندہ ابتدائی طبی امداد کی فراہمی اور میڈیکل اخرجات برداشت کرنے کا پابند کیا جائے۔واضح رہے کہ کمیٹی نے یہ تحقیقات ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو آغا ظہیر عباس شیرازی کی سربراہی میں مکمل کی۔ڈپٹی کمشنر عامر خٹک نے انکوائری رپورٹ موصول ہونے کے بعد سکول انتظامیہ کیخلاف سخت کارروائی کا حکم دیدیاہے۔ڈپٹی کمشنر عامرخٹک نے کہا کہ انسانی جان کے ضیاع میں ملوث افراد کو سخت قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔