ٹک ٹاک ایپ نوجوانوں کےلئے نقصان دہ قرار

 ٹک ٹوک کو چین نے 2016 میں لانچ کیا تھا دو سال میں ٹک ٹوک نے شہرت کی بلندیوں کو چھو لیا، اتنی شہرت فیس بک اور یوٹیوب کو بھی حاصل نہیں ہوئی۔ دوسال میں اس ایپ کو 500 ملین سے  زیادہ لوگوں نے ڈاؤن لوڈ کیا ہے، دنیا کے 150 ممالک کے لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں۔ ٹک ٹوک پر نوجوان بچے 15 سکینڈ کی ویڈیو شئیر کر کےمشہور ہونے کی کوشش کر تے ہیں ۔ ماہرین کے مطابق اس ایپ نے کم وقت میں بہت شہرت حاصل کی ہے لیکن یہ ایپ کوئی بزنس پلان دینے میں ناکام رہی ہے۔ یوٹیوب  کی  طرح  ہر  کو  انسان یہاں  سے  کماءی  نہیں  کر  سکتا  اور  وقت  کا  ضیاع  ہے۔ٹک ٹوک کی بیماری میں صرف ۔لڑکیاں ہی نہیں، بلکہ بچے بھی دیوانے ہیں اور لڑکیوں کے ساتھ اپنی ویڈیو بناکر لوگوں میں شیئر کرتے ہیں، جس سے بیہودگی اور فحاشی بھی بڑھ رہی ہے۔ اس ایپ کو دنیا کے مختلف ممالک میں بند بھی کیا جا چکا ہے،