بچوں کو شوق سے پڑھنے دیں

سماجی علوم انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کااحاطہ کرتے ہیں ۔ اس میں فرد کی خواہشات اور ضروریات ، انفرادی برتائو اور اجتماعی رویے، گھریلو حالات اور ان کے اثرات شامل ہیں۔ معاشی ضروریات اور انتظامی معاملات، عدل و انصاف کی فراہمی اور بالا دستی حتیٰ کہ قومی اور بین الاقوامی تعلقات بھی اسی زُمرے میں آتے ہیں۔ انسان کی صحت اور اس کی نشوو نما، زندگی کی سہولت اور آسایش کے لیے تحقیق اور ایجادات بھی سوشل سائنس ہی کا موضوع ہیںاور سکول، کالج اور یونیورسٹی کے اداروں میں دی جانے والی تعلیم و تربیت بھی اسی میں شمار ہوتی ہے۔ مذہب کی تعلیم، اخلاقیات کی تعلیم وتلقین، شعر وادب اور آرٹ سب آج سوشل سائنسز میں شمار کیے جاتے ہیں۔ ملک میں ایسے نظام تعلیم کا قیام اور نفاذبھی جو قومی اقدار اور روایات سے ہم آہنگ اور بہترین مہارتوں سے آراستہ نسل تیا رکرسکے، ماہرین سماجی علوم ہی کی ذمے داری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیرئیر کونسلنگ میں والدین کا کردار​

غرض سماجی علوم سے مراد زندگی کے اُن تمام امور کا مطالعہ و تحقیق ہے جو کسی بھی لحاظ سے معاشرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہی مطالعہ و تحقیق معاشرے کے تمام طبقات کو اپنے فیصلوں کے متعلق ، اختیارات کے استعمال اور دن رات میں آنے والی تبدیلیوں سے متعلق راہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قوموں کے عروج و زوال کے پس منظر میں حالاتِ حاضرہ کا تجزیہ اور مستقبل کی منصوبہ بندی کرنے کی اہلیت وصلاحیت پیدا ہوتی ہے۔ خصوصیات سماجی علوم کے تمام تر شعبوں میں تجزیہ اور تحقیق کا کام بالعموم بہت زیادہ ہوتا ہے۔ ایسی فہم و فراست چاہیے جو وقت ، حالات اور انتظامیہ کے دباؤ کا خوش اسلوبی سے مقابلہ کر سکے۔ اس کے لیے وسعتِ مطالعہ اور زورِ قلم چاہیے۔دل کش اسلوبِ بیان ، دلیل کی کاٹ ، مضمون کی گہرائی ، محاوروں اور ضرب الامثال ، تاریخی حوالوں اور ماہرین کی آراء سے مزین تحریریں، مضامین، تجزیے اور رپورٹیں درکار ہیں۔ قرآن و سنت کی راہنمائی سماجی علوم کے ماہر کے اثرات کو بہت وسعت دیتی ہے۔ ہم عصر تہذیبوں اور ثقافتوں سے شناسائی، علاقائی اور خطے میں رائج دیگر زبانوں کے ساتھ دوستانہ ماحول بنانے اور نبھانے کی صلاحیت انسانی معاشرے کو سمجھنے اور راہنمائی دینے کا اہل بناتی ہے۔

آج ہمارا ذہین بچہ نیچرل سائنس  ہی کو سب سے بہترین سمجھتا ہے ۔ ایسے بچے جو آرٹس  پڑھیں یا اس شعبے میں اپنے شوق کا اظہار کریں تو انہیں نالائق اور کمزور سمجھا جاتا ہے۔ جس کے پاس وسائل ہوں گے وہ ہر قیمت پر اپنے بچے کو ڈاکٹر یا انجینئرہی بنانا چاہے گا خواہ بچہ اس کا رجحان اور صلاحیت رکھتا ہو یا نہیں۔سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت اپنی جگہ لیکن یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ یہی سب کچھ نہیں۔صرف انجینئرنگ کی جامعات بنا کر اور سائنس اور ٹیکنالوجی کارونا رو کر ہی ترقی اور کامیابی حاصل نہیں کی جاسکتی بلکہ آرٹس سمجھے جانے والے سماجی علوم بھی معاشرے کی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ فہم و فراست اور ذہانت و فطانت کا گہوارہ سماجی علوم ہی ہیں۔ اِنہی علوم سے آنے والی فطری قیادت تیار ہوتی ہے جو اس کی اہل ہوتی ہے کہ ترقی کا راستہ متعین کرے اور اس کے لیے حالات بھی سازگار بنائے۔ سماجی علوم کی ترقی وترویج سے مجرمانہ غفلت نے ہمیں تعلیمی دنیا کی تباہی، سیاسی نظام کی ناکامی ، منصوبہ بندی کی پستی، معیشت کی کمزوری، جرائم، اخلاقی بگاڑ، بے روزگاری، مایوسی، ذہنی دبائو اورخودکشی کے علاوہ کچھ نہیں دیا۔ لہٰذا آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب ان علوم کے حوالے سے اپنے رویے کو درست کریں تاکہ ہمارے قدم آگے بڑھ سکیں۔ اچھے ،ذہین اور اہل طلبہ و طالبات جو اس کا رجحان رکھتے ہیں انہیں شروع سے ہی ان مضامین کا انتخاب کرنا چاہیے ۔ اس سے ایک جانب ان کی صلاحیتوں کی نشوو نما ہوگی اور دوسری جانب ایک رُوبہ زوال معاشرے میں بہتری کے آثار نمایاں ہوں گے۔ سماجی علوم کے شعبے سماجی علوم ایک ایسا پیچیدہ باب اور کھلا سمندر ہے جس کی گہرائی میں نہ اترا جائے توحقیقت کو سمجھنا دشوار اور اپنے لیے کیرئیر پلاننگ مشکل ہوجاتی ہے۔

بچوں پر ابتدائی دور سے ہی محنت کی جائے۔ انھیں اس طرح کا ماحول فراہم کیا جائےاور انھیں اس طرح کی سرگرمیوں میں انگیج کیا جائے، جو ان کی شخصیت اور گرومنگ میں معاون ثابت ہوں۔ زندگی کے ابتدائی برسوں میں بچے جو سیکھتے اورمشاہدہ کرتے ہیں، وہ ان کی پوری زندگی پر اثرانداز ہوتا ہے۔