تخلیقی صلاحیت

4C's
انسان دوچیزوں سے مرکب ہے ایک جسم دوسری روح۔روح کے بغیر انسان کی حیثیت مردہ ہے,نہ وہ سانس لے سکتاہے اور نہ ہی احساس و شعوررکھتاہے،یہی وجہ ہے کہ روح نکل جانے کے بعد انسان معمولی حرکت بھی نہیں کرسکتا۔ ہمارے تعلیمی نظام میں بھی چند چیزیں ایسی ہیں جو تعلیم کااصل مغز اور اس کی روح ہیں۔اگرکسی طالب علم میں وہ چیزیں نہ ہوں تو پھر وہ تعلیم ،روح کے بغیر جسم کی مانند ہے۔جومحض کتابوں کے سیاہ حروف توہوسکتے ہیں مگر ’’علم نافع‘‘ نہیں ۔آج کی اس تحریری نشست میں ہم ان چار بنیادی عناصرکو واضح کرنے کی کوشش کریں گے جن کا تعلیمی نظام میں ہونا بے حد ضروری ہے ۔ان کو 4C's کہا جاتاہے اور وہ ہیں:
(1)Creativity
(2)Character
(3) Confidence
(4) Contribution
 
Creativity
(تخلیقی صلاحیت)
اقوام عالم میں ترقی وہی قوم کرتی ہے جن کی تخلیقی صلاحیتیں بیدار ہوں۔اسی قابلیت کو بروئے کار لاکر وہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتی ہیں اور بڑے اہداف حاصل کرکے دنیا کو بدل کررکھ دیتی ہیں۔تعلیم کا پہلا مقصد ہی ’’تخلیقی صلاحیت‘‘ کو بیدار کرناہے۔جب کسی طالب علم میں یہ خاصیت پیداہوجائے تو وہ محض کتابوں پر اکتفا نہیں کرتا بلکہ کتاب اور استاد سے حاصل شدہ علم کو سامنے رکھ کر ، اپنی تخلیقی صلاحیت کو استعمال کرتاہے اور نئی سے نئی چیزوں کو معرضِ وجود میں لاتاہے۔وہ کائنات کی ہر شے میں غور وفکر کرتاہے ،اس کی پیدا کرنے کی وجوہات ڈھونڈتاہے اور یہی غور وتدبر اس کی Creativityکو جِلا بخشتا ہے۔
اس قابلیت کے حامل افراد کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ۔نیوٹن کی جگہ اگر کسی عام انسان نے سیب کو گرتے ہوئے دیکھا ہوتا تو وہ اٹھاکر کھالیتا،مگر یہ نیوٹن ہی کی قابلیت تھی کہ اس نے صرف سیب کو نہیں دیکھا بلکہ نیچے گرنے کی وجہ پر غور کیا اور اسی غور وفکرنے دنیا کو ’’کششِ ثقل‘‘ کا ایک عظیم نظریہ دیا۔
 
Character
(کردار)
تعلیمی نظام کی دوسری خاصیت ’’کردار‘‘ ہے۔کتابوں میں جو کچھ لکھا ہے اس کوعملی طورپر اپنے اوپر نافذ کرنا’’کردار‘‘کہلاتاہے۔’’کردار‘‘ آپ کو یقین کی دولت سے نوازتاہے اور یقین آپ کے دل و دماغ میں یہ بات بٹھادیتا ہے کہ میرا رزق فقط اللہ کی طرف سے ہے۔اس خاصیت کی بدولت پھر نہ آپ رشوت لیتے ہیں اور نہ دولت کمانے کے لیے غلط راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔اگر آپ وکیل ہیں تو پھر فقط سچ کا مقدمہ لڑتے ہیں،اگر آپ ڈاکٹر ہیں تو کمیشن کمانے کے لیے مریض کے اوپر دوائیوں کا اضافی بوجھ نہیں ڈالتے۔اگر آپ جج و منصف ہیں تو پھر آ پ کا قلم چند پیسوں کی خاطر نہیں چلتا۔یہ خاصیت آپ کو طاقت ور بنادیتی ہے ۔مضبوط کردار کا حامل انسان معاشرے کے منفی رجحان کا رُخ موڑلیتاہے۔وہ ہر ایک کے لیے مثال بن جاتاہے۔اس کے شاگرد اور اولاد اس پر فخر کرتے ہیں اور اس کے ’’سچے ‘‘ ہونے کی گواہی پورا زمانہ دیتاہے۔اور ایک وقت آتاہے کہ وہ مثال بن کر اَمر ہوجاتاہے۔
Confidence
(اعتماد)
تیسری خاصیت ’’اعتماد‘‘ ہے۔نالائق انسان اعتماد سے عاری ہوتاہے اسی لیے وہ ہرجگہ چوردروازہ ڈھونڈنے کی کوشش کرتاہے۔وہ ہر وقت سازشوں کا جال بُننے میں لگاہوتاہے۔اس کی ساری توانائیاں ’’سیاسی چال‘‘ بنانے میں لگتی ہیں۔الغرض وہ ہر وہ کام کرتاہے جس میں محنت نہ کرنی پڑے۔
 
جبکہ قابل انسان کے پاس اپنی صلاحیت وعلم پر اعتماداور اللہ کی ذات پر یقین ہوتاہے۔یہی یقین اس کی آنکھوں میں خوداعتمادی کی روشنی پیدا کردیتی ہے اور یہ ایسی طاقت ہے جس کے بل بوتے پر انسان کوئی بھی محاذ فتح کرسکتاہے۔اعتماد اور یقین کے زیور سے آراستہ شخص کبھی شارٹ کٹ نہیں اپناتااور نہ ہی وہ سازشوں کا شکار ہوتاہے۔وہ جب ایک خواب دیکھتا ہے تو اس کو پوراکرنے کا پختہ عزم بھی کرلیتاہے۔اس کی شخصیت میں مقناطیسیت پیدا ہوجاتی ہے اور لوگ اس کے اردگرد جمع ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ایک سے دو ،دو سے چار اور پھر ہزار۔ہوتے ہوتے وہ ایک کارواں بن جاتاہے اورپُراعتمادانسان اس کارواں کا روحِ رواں ۔وہ خود بھی منزل پر پہنچتاہے اور اپنی قوم و معاشرے کو بھی منزل پر پہنچاکر ہی دم لیتاہے۔
اس خاصیت کی حامل شخصیت کی سب سے بڑی مثال ہمارے سامنے قائد اعظم محمد علی جناح کی ہے ،جنہوں نے اعتماد اور یقین کی بدولت اہلِ اسلام کو ایک آزاد اور عظیم الشان مملکت کا تحفہ دیا۔
 
Contribution
(معاشرے کوکچھ دینا)
چوتھی خاصیت ’’Contribution‘‘ ہے۔دنیا اسی شخص کو یاد رکھتی ہے جو کچھ دینے کا جذبہ رکھتاہو۔انسان کے اندر تعلیم حاصل کرنے کے بعد اگر یہ خاصیت نہ ہو تو پھر اس تعلیم کا کوئی فائدہ نہیں۔دنیا کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو معلوم ہوگا کہ یہاں بڑے بڑے بادشاہ ،جاہ وجلال کے مالک لوگ،اہل ثروت و دولت اور بے پناہ زمینوں کے جاگیردار گزرے ہیں مگر ۔۔تاریخ نے صرف انہی کو اپنے سینے میں جگہ دی ہے جنہوں نے انسانوں کے فائدے کے لیے کچھ کیااور اس دنیا کو کچھ دیا۔چاہے وہ اچھے نظریہ کی صورت میں ہو،کسی ایجاد کی صورت میں ہو یا مال ودولت کی صورت میں۔اور جن لوگوں نے صرف اپنے لیے زندگی گزاری، اپنی خوبیوں کو اپنی ذات تک محدود رکھا تو ان کے نصیب میں صرف دو گز زمین ہی آئی ہے ۔
عقل مندوں کا کہنا ہے کہ اگر آپ کے دنیا میں آنے سے فرق نہیں پڑا تو آپ کے جانے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ہاں اتنا ضرور ہوگا کہ آپ کے جانے پر کسی قبرستان میں ایک قبر کا اضافہ ہوجائے گا۔
 
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ تعلیمی ادارے اپنے سلیبس میں ان چارچیزوں کو شامل کرکے ،کورس کا لازمی حصہ بنائیں ۔طلبہ وطالبات تعلیم کے ساتھ ساتھ ان اوصاف کو بھی اپنائیں تاکہ ہم اعلیٰ اقدار کی حامل قوم بن کر دنیا میں ایک منفرد مقام پیداکرسکیں۔
محمد شبیر خان