تعلیم اور قومی پالیسیاں

2018 اعلیٰ تعلیمی شعبہ کے حوالے سے نہات اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس سال وفاقی و صوبائی ہائر ایجو کیشن کمیشن کے سر براہوں سمیت 20 سے زائد سرکاری جامعات کے وائس چانسلرز کی تقرری ہوگی۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے مختلف اہم فیصلوں کے ذریعے خود مختار اداروں کے سر براہوں کی تقرری کے لئے صاف، شفاف اور میرٹ پر مبنی عمل پر زور دیتے ہوئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو پابند کیا ہے کہ وہ شفافیت کے وضع کردہ اصول و ضوابط پر عمل در آمد یقنی بنائیں اور تقرری کے عمل کے دوران امید واروں کو میرٹ پر ان کی اہلیت، تجربے اور خصوصیات کو مد نظررکھ کر منتخب کیا جائے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کی وضع کردہ گائیڈ لائنز پر عمل درآمد یقینی بناتے ہوئے دوسرے شعبوں کی طرح اعلیٰ تعلیمی شعبہ میں متنازعہ تقرریوں اور قانونی کارروائی سے اجتناب کیا جائے اور صرف اور صرف میرٹ پر مبنی تقرریوں کو یقینی بنایا جائے۔ اسی ضمن میں وفاقی ہائر ایجو کیشن کمیشن کے نئے چیئرمین کی تعیناتی کے لئے بنائی جانے والی سرچ کمیٹی نے اخبارات میں اشتہار دے دیا ہے۔ سرچ کمیٹی کو اس اہم عہدے پر کسی کو تعینات کرنے سے پہلے ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا کہ کہیں ایسا کوئی چئیرمین نہ آ جائے جس پر نیب کو انکوائری بٹھانی پڑے کیونکہ ایسی متنازعہ شخصیت نہ صرف جگ ہنسائی کا باعث ہوگی بلکہ ساتھ ہی ساتھ شفافیت اور میرٹ پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ جائے گی۔ سرچ کمیٹی کو یہ بھی خیال رکھنا ہوگا کہ موجودہ چئیرمین ہائر ایجو کیشن کمیشن ڈاکٹر مختار جب تعینات ہوئے تو سول سوسائٹی اور ماہرین تعلیم کی جانب سے کئی سوال اٹھائے گئے۔ چار سال مسلسل ان کی تعیناتی کے خلاف احتجاج جاری رہا۔ ملک بھر کی جامعات و دیگر سٹیک ہولڈرز بھی تذبذب کا شکار رہے اور انہیں سالوں میں پاکستان اعلیٰ تعلیمی شعبہ کے میدان میں مسلسل تنزلی کا شکار رہا۔

ورلڈ اکنامک فورم کی ہیومین کیپیٹل رپورٹ 2017ء کے مطابق پاکستان کی تعلیم اور ہنر مندی کے حوالے سے 130 ممالک میں 125ویں نمبر پر آیا ہے جبکہ پاکستان دوسرے جنوبی ایشیائی ممالک سے بھی کافی پیچھے ہے۔ رپورٹ کے مطابق نیپال جیسا ملک جو ایشین ٹائیگر بننے کی بڑکیں مار رہا ہے اور نہ ہی کسی حریف کو ناکوں چنے چبوانا چاہتا ہے 98ویں نمبر پر ہے۔ اسی طرح ہمارا روایتی حریف انڈیا 103ویں اور ہم سے عمر میں بچوں جیسا بنگلہ دیش 111ویں پوزیشن پر ہے۔ اسی طرح عالمی مسابقتی رپورٹ 2017/18 کے مطابق پاکستان اعلیٰ تعلیم اور تربیت کے شعبوں میں 120ویں پوزیشن پر ہے جبکہ سری لنکا 85ویں، نیپال88ویں، انڈیا 40ویں، بنگلہ دیش 99ویں، ایران 69ویں، بھوٹان82ویں اور ملائیشیا 23ویں پوزیشن پر ہے۔

ٹائمز ہائر ایجو کیشن کی جاری کردہ جامعات کی عالمی درجہ بندی کے مطابق صرف 4 پاکستانی جامعات دنیا کی بہترین 1000جامعات میں شامل ہیں جبکہ 2016ء میں ان پاکستانی جامعات کی تعداد 7 تھی۔

سٹیک ہولڈرز اس اہم شعبہ میں خامیوں کی نشاندہی کرتے رہے۔ میرٹ اور شفافیت پر مبنی تقرریوں کا مطالبہ کرتے رہے اور با لآخر قومی احتساب بیورو کو اس پر ایکشن لینا پڑا اور اب موجودہ چئیر مین ہائر ایجو کیشن کمیشن کی تعیناتی کے خلاف تحقیقات کا عمل باقاعدہ شروع ہو چکا ہے لہذا اس مرتبہ متنازعہ اور شفافیت کے بر عکس تعیناتی سے پرہیز کیا جائے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم مستقبل میں بھی کام، کام اور بس کام کی جگہ احتجاج احتجاج اور بس احتجاج کرتے رہیں۔

اب اعلیٰ تعلیم سے ہٹ کر کچھ بات تعلیمی شعبہ کی بھی کرتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب ہمارے سکول اور کالجزعلم و دانش اور تہذیب کے مراکز سمجھے جاتے تھے۔ یہاں سے عقل و شعور کی کرنیں پھوٹتی تھیں جو پوی دنیا منور کیا کرتی تھیں۔ ایک وقت تھا جب بچے کو آوارہ گردی میں ملوث پا کر اہل علاقہ شکوہ کرتے تھے کہ کیا آپ کا بچہ سکول نہیں جاتا۔ نوجوان کو سگریٹ نوشی کی لعنت میں ملوث پاتے تھے تو کہا جاتا تھا چھوٹی عمر میں کام پر ڈال دیا گیا ہے۔ اپنے سے بڑو ں کی صحبت میں رہے گا تو ایسا ہی بنے گا۔

یعنی بچے کی گھر میں کی جانے والی تربیت کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں میں ہونے والی تربیت بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہوتی تھی۔ تعلیمی تربیت کا مقصد تضاد و نفرت کو دور کرتے ہوئے انسانی ذہن کو اصل حقائق سے روشناس کراتے ہوئے ایسا ماحول تشکیل دینا ہے جہاں مختلف الطبع لوگ باہم مل جل کر رہنے کا سلیقہ اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا طریقہ سیکھ سکیں مگر افسوس کے ہمارے ہاں اس کے بر عکس ہے۔

ابھی حال ہی میں قومی اسمبلی میں ایک بل پیش ہوا ہے جس کے مطابق نویں تا بارہویں کلاس کے سٹوڈنٹس کا ہر سال تعلیمی اداروں میں نشہ آور ادویات استعمال کرنے کا ٹیسٹ لیا جائے گا۔ اس بِل سے ایسا لگتا ہے کہ بارہویں کے بعد یعنی ہائر ایجو کیشن حاصل کرنے والوں کو نشے کی سند جاری کی جا رہی ہے کہ تسی آزاد او(آپ کو اجازت ہے)۔ بل میں سفارش کی گئی ہے کہ ٹیسٹ میں فیل ہونے والوں سے 5لاکھ تک جرمانہ لیاجائے اور ٹیسٹ نہ دینے والوں کو سالانہ پرچوں میں نہ بیٹھنے دیا جائے۔ آپ اور میں سب جانتے ہیں کہ ہمارے تعلیمی ادارے منشیات فروشوں کی آماجگاہیں بن چکے ہیں لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ ہم اس طرح کھلے عام اس طرح کے ٹیسٹ لے کر جگ ہنسائی کا سبب بنیں اور جو سٹوڈنٹس منشیات کی لعنت سے بے خبر ہیں انہیں بھی با خبر کیا جائے کہ یہ تمام آپشنز بھی موجود ہیں۔ اس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ مشکوک سٹوڈنٹس کا ہی ٹیسٹ کروایا جائے اور اگر کسی کا ٹیسٹ منفی نکلے تو براہِ کرم اس سے باقاعدہ تحریری معافی مانگی جائے تاکہ بچے کی حوصلہ افزائی ہو اور ایسے اساتذہ کو اس عمل سے دور کھا جائے جو غلط سزا دینے کے بعد شرمندہ ہونے کے بجائے ڈائیلاگ بازی کا سہارا لیتے ہیں۔

ہمارے تعلیمی ادارے با لخصوص جامعات تعلیم و تحقیق اور تربیت سے عاری ہوتے جا رہے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں طلبہ کے اندر گھٹن اور بے چینی کی کیفیت ہے۔ انتہاپسندی، عدم بردا شت اور منشیات کی لعنت کے خاتمے کیلئے کو ئی جامع پلان ترتیب نہ دینے کے بجائے بچوں کے منشیات ٹیسٹ لیے جا رہے ہیں جو ایسے ہی ہیں کہ مرض تو جاتا نہیں کیوں نہ مریض کو مار دیا جائے۔

نفسیات کے قائدے کے مطابق اوائل عمری میں انسانی ذہن کو جس دھارے سے جوڑ دیا جائے اس کے اثرات ساری عمر ساتھ رہتے ہیں اگر آج ان بچوں کو ان مراحل سے گزاریں گے تو تا حیات اسی گھٹن کا شکار رہیں گے۔