تقدیر - یاسر پیرزادہ

کئی سال پہلے کی بات ہے، ممبئی میں بھارت کے فلم فئیر ایوارڈ کی تقریب برپا تھی۔ اس تقریب میں امیتابھ بچن کو بہترین اداکار کا ایوارڈ دیا گیا۔ ظاہر ہے کہ امیتابھ کا یہ پہلا ایوارڈ نہیں تھا اور وہ اس سے پہلے بھی لا تعداد ایوارڈ جیت چکے تھے چنانچہ تقریب کے بعد ایک ٹی۔وی۔چینل کے میزبان نے ان سے پوچھا کہ ”آپ کی اس قدر کامیابی اور شہرت کا راز کیا ہے ؟“ تو اس بے مثال اداکار نے صرف ایک لفظ کا جواب دے کر دریا کو کوزے میں بند کردیا۔ امیتابھ کا جواب تھا ”بھاگ(قسمت)۔“
بلاشبہ امیتابھ نے بہترین یک لفظی جواب دیا تھا لیکن اس جواب نے میرے دماغ میں بیک وقت کئی سوالوں کو جنم دے دیا۔ مثلاً اگر قسمت ہی سب کچھ ہے تو کیا ہنر مندی، محنت یا ذہانت کوئی چیز نہیں؟ اور اگر ہے، تو پھر ان تینوں چیزوں کا انسان کی کامیابی یا ناکامی میں کتنا عمل دخل ہے…؟ قسمت سے زیادہ یا کم؟ کیا ہماری فیصلہ کن تقدیر پہلے سے لکھی جا چکی ہے؟ کیا اس کائنات کا ہر لمحہ، ہر واقعہ پہلے سے طے شدہ ہے؟ اور اگر سب کچھ پہلے سے ہی کہیں لکھا ہوا اور طے شدہ ہے تو پھر خواہ مخواہ جھک مارنے کا کیا فائدہ؟ ان سوالوں نے ذہن میں ایسے گنجل ڈال دئیے جیسے بسنت کے موقع پر لوٹی ہوئی ڈوروں میں ڈل جاتے ہیں اور بالآخر اس وقت نکلتے ہیں جب ڈور کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کو احتیاط سے علیحدہ کر کے گانٹھیں لگا دی جائیں۔
فرض کریں کہ آپ اپنی گاڑی میں کہیں جا رہے ہیں۔ اچانک آپ کی نظر پٹھوروں کی ریڑھی پر پڑتی ہے اور آپ کے منہ میں پانی بھر آتا ہے، آپ فوراً گاڑی کو سائیڈ پر لگاتے ہیں اور پھر اطمینان سے بیٹھ کر تین چار گرما گرم پٹھورے کھا جاتے ہیں۔ آپ کی یہ کھابہ گیری آپ کے پندرہ منٹ کھا جاتی ہے لیکن کوئی بات نہیں۔ آپ دوبارہ گاڑی سٹارٹ کر کے اپنی منزل کی طرف روانہ ہونے لگتے ہیں کہ اچانک آپ کے موبائل فون کی گھنٹی بجتی ہے۔ دوسری طرف آپ کی بیوی ہے جو ہسٹرائی انداز میں چیختے ہوئے آپ کی خیریت دریافت کر رہی ہے۔ آپ گھبرا جاتے ہیں کیونکہ آپ کو پتہ چلتا ہے کہ ٹھیک اسی جگہ ایک بم بلاسٹ ہوا ہے جہاں آپ نے پندرہ منٹ پہلے پہنچنا تھا۔ آپ کی روح کانپ جاتی ہے اور ایک لمحے میں آپ نہ جانے کیا کچھ سوچ لیتے ہیں۔ اس کے بعد آپ خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ آپ کی جان بچ گئی اور پھر جلد از جلد اپنے بیوی بچوں کے پاس پہنچنے کی کرتے ہیں۔ اس سارے ڈرامے میں پٹھوروں نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ اگر وہ پٹھوروں کی ریڑھی وہاں نہ ہوتی تو نہ آپ وہاں رکتے اور نہ پٹھورے کھاتے اور نہ آپ کی جان بچتی۔ لیکن قدرت کو یہ منظور نہ ہوتا کیونکہ آپ کو ہر حال میں اس جگہ پندرہ منٹ کے لئے پٹھورے کھانے کے لئے رکنا ہی تھا، چاہے کچھ بھی ہو جاتا۔ یعنی یہ بات طے شدہ تھی کہ آپ مقررہ جگہ (جہاں دھماکہ ہوا) پر اپنے سوچے ہوئے وقت کے مطابق نہ پہنچ سکے اور نتیجے میں آپ کی جان بچ جائے۔ یہ قدرت کا سسٹم ہے۔ اس سسٹم میں ہر چیز دوسری چیز کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اور مکمل طور پر ہم آہنگ ہے۔ اگر اس سارے نظام کا کوئی بھی ایک بھی ٹکڑا، کسی شخص کا کوئی فیصلہ، اختیار یا امکان کسی دوسرے امکان سے متصادم ہو جائے تو سارا نظام دھڑام سے گر جائے گا۔ یعنی اس نظام میں لا تعداد ٹکڑے، واقعات، امکانات اور ایکشن پوری ہم آہنگی میں ایک دوسرے کے ساتھ نتھی ہیں۔ ان میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے ہل نہیں سکتا، سب کچھ طے شدہ ہے، اور اس نظام کے ہر ذرے کو بخوبی علم ہے کہ اس نظام کو چلانے میں اس کا کردار کیا ہے کیونکہ اگر کائنات کے تمام ذرے آپس میں ہم آہنگ نہیں ہوں گے اور انہیں قدرت کی طرف سے ایک طے شدہ ”رول“ ادا کرنے کے لئے نہیں ملے گا تو پھر یہ سسٹم نہیں چلے گا بلکہ تباہ ہو جائے گا۔ بقول شاعر:
لے سانس بھی آہستہ کہ نازک ہے بہت کام
آفاق کی اس کارگہ شیشہ گری کا
طے شدہ تقدیر کے اس نظریے کا ایک اور پہلو بھی ہے اور وہ مزید دلچسپ ہے۔ اس کے مطابق کائنات میں واقعات ایک خاص تسلسل میں رونما ہوتے ہیں۔ چونکہ چیزیں پہلے سے طے شدہ ہیں اس لئے آنے والے واقعات بھی طے شدہ ہیں اور اگر ہم اپنی آنکھیں کھلی رکھیں اور اپنی زندگی کے روز مرہ واقعات کا غور سے مشاہدہ کریں تو ہمیں یہ جاننے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی کہ آئندہ کیا ہوگا۔ اس کی مثال بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ ایک فلم دیکھ رہے ہوں اور جب آپ وہ فلم آدھی دیکھ چکیں تو یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں کہ ہاف ٹائم کے بعد کیا ہوگا؟ اس بات کا قوی امکان ہے کہ آپ کا اندازہ درست ثابت ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس فلم میں تو سب کچھ پہلے سے ہی طے شدہ ہے اور ریکارڈ ہو کر ڈی۔وی۔ڈی۔میں موجود ہے اوراب تبدیل نہیں ہو سکتا… لہٰذا اگر آپ اپنی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے فلم کے پچھلے ”سینز“ کی روشنی میں کوئی اندازہ لگائیں کہ فلم کا اختتام کیا ہوگا تو غالب امکان یہی ہے کہ آپ کا اندازہ درست ثابت ہو گا۔
بظاہر یہ نظریہ کافی دلچسپ لگتا ہے اور بہت سارے سوالات کے جوابات بھی دیتا ہے لیکن بعض اوقات چیزیں اتنی سادہ نہیں ہوتیں جتنی نظر آتی ہیں۔ خاص طور پر تقدیر کا چکر تو بالکل ہی گورکھ دھندا ہے کیونکہ زندگی فلم نہیں ہوتی اور نہ ہی اس قدر طے شدہ واقعات پر مبنی ہوتی ہے جن کے بارے میں ٹھوس اندازے لگائے جا سکیں۔ لیکن بعض اوقات کچھ ایسے واقعات آپ کی آنکھوں کے سامنے رونما ہوتے ہیں جس سے ایک دفعہ پھر اس نظرئیے کی صداقت کا یقین ہو جاتا ہے۔ مثلا ًکون سوچ سکتا تھا کہ 1970 میں ایک کرشماتی لیڈر کے طور پر ابھرنے والا ذوالفقار علی بھٹو محض نو سال بعد اپنے ہی آرمی چیف کے ہاتھوں پھانسی کے پھندے پر جھول جائے گا؟ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کون سوچ سکتا تھا کہ اسے پھانسی لگانے والا جرنیل بھی ایک دن اپنے ساتھیوں سمیت کسی طیارے کے ”حادثے“ میں ہلاک ہو جائے گا؟ اسی طرح کس کے گمان میں تھا کہ ایک دن نواز شریف جیسا جلا وطن رہنما ملک میں دوبارہ موجود ہوگا اور اس وقت اسے جلا وطن کرنے والا جرنیل عملی طور پر خود جلا وطنی کی زندگی گزار رہا ہوگا؟ کس کی سوچ تھی کہ ایک دن بھٹو کی بیٹی بھی اس ملک میں بیہمانہ طریقے سے قتل کر دی جائے گی؟ اور کس مائی کے لعل کا اندازہ تھا کہ ایک دن آصف علی زرداری صاحب اس ملک کے صدر ہوں گے؟
اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ سب تقدیر ہی کے کھیل ہیں لیکن میرے خیال میں یہ وہ تقدیر نہیں ہے جو پہلے سے طے شدہ یا کہیں لکھی پڑی تھی بلکہ یہ وہ تقدیر ہے جو واقعات کی مناسبت سے تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کوئی نہ کوئی ایسی طاقت ضرور ہے جو ہماری زندگیوں پر کسی نہ کسی مرحلے میں اثر انداز ہوتی رہتی ہے۔ میں اسے ”خدائی مداخلت“ یعنی ”Divine Intervention“ کہتا ہوں۔ تاہم میری ناقص رائے میں یہ ”خدائی مداخلت“ بہت ہی کم موقعوں پر اپنا جلوہ دکھاتی ہے اور اپنے بنائے گئے نظام کا توازن خراب نہیں کرتی۔ اس کی مثال آٹو پائلٹ پر اڑتے ہوئے اس جہاز کی مانند ہے جس کا پائلٹ صرف اس وقت جہاز کے خودکار نظام میں مداخلت کرتا ہے جب کوئی ہنگامی صورتحال درپیش ہو یا جب اس کی اپنی مرضی ہو۔ ہم اپنی زندگیوں کے فیصلے اپنی مرضی سے کرنے کے مجاز ضرور ہیں لیکن جہاں کہیں یہ ”خدائی مداخلت“ وارد ہوتی ہے وہاں ہماری پلاننگ دھری کی دھری رہ جاتی ہے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اس تمام قصے کو محض ایک فقرے میں بیان کیا ہے کہ ”میں نے خدا کو اپنے ارادوں کی شکست سے جانا ہے۔“ مجھے حضرت علی رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے قول کی صداقت میں رتی برابر بھی شبہ نہیں!!