تیس فیصد صلاحیتیں استعمال کریں، ہیرو بن جائیں!

نعیم سلہری
شاید آپ نے ایک کمزور ماں کی وہ کہانی سُن رکھی ہو جس میں وہ اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے تنہا ہی گاڑی اُٹھا لیتی ہے۔ یہ ہماری غیر معمولی مخفی طاقتوں کی عمدہ مثال ہے۔ انسان کے اندر شاندار صلاحیتیں موجود ہیں چونکہ یہ صلاحیتیں ہمارے اندر خوابیدہ رہتی ہیں اس لیے ہم ان سے آگاہ نہیں ہو سکتے۔ جو لوگ اس جوہر سے واقف ہو جائیں وہ کامیابی کی مثال بن جاتے ہیں اور جو ناآشنا رہتے ہیں وہ بس گزارے کی زندگی بسر کرتے رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنی ان خوابیدہ صلاحیتوں کا 20 فیصد استعمال کر لیں تو ہم ذہین وفطین کہلائیں اور 30 فیصد استعمال کر لیں تو ہم عظیم ہیرو بن جائیں۔
لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں ہر وہ انسان جو ذہین یا ہیرو ہے اس نے اپنی خوابیدہ صلاحیتیں دوسروں کی نسبت زیادہ استعمال کی ہیں۔ ایڈیسن نے اپنی بعض ایجادات میں کامیاب ہونے کے لیے تجربات کو سیکڑوں مرتبہ دُہرایا۔ وہ اپنی مخفی صلاحیتوں کو جلابخش کر ذہین وفطین لوگوں کی صف میں شامل ہو گیا۔ آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو ترقی دیں۔ فرانسیسی فلاسفر ہنری برگساں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ مسلسل آگے بڑھنا زندگی کی عین فطرت ہے اور حیات کا یہ اصول ہے کہ ہر زندہ چیز مستعدی سے ترقی کرتی ہے۔
اس اصول پر عمل کرتے ہوئے آپ نے بھی نہ صرف مسلسل آگے بڑھنا ہے بلکہ خود کو زیادہ مستعد، روشن دماغ اور بہتر بنانے کی سعی بھی کرنی ہے۔ آپ نے اپنے آپ کے ساتھ سخت مگر دوسروں کے ساتھ سخیوں والا رویہ رکھنا ہے اور کبھی خود کو بہانوں اور خود فریبی کا شکار نہیں ہونے دینا۔ اگر آپ خود کو نکما سمجھیں گے تو دوسرے بھی آپ کے بارے میں ایسا ہی سوچیں گے۔
میں ہمیشہ اس بات پر افسوس کرتا ہوں کہ میں کالج میں زیادہ دیر پڑھ نہ سکا۔ میری خواہش تھی کہ میں بیرون ملک جا کر اعلیٰ تعلیم حاصل کروں مگر حالات نے مجھے ایسا کرنے کی اجازت نہ دی، شاید اسی لیے مجھے اب بھی اپنی زندگی میں ایک خلا سا محسوس ہوتا ہے۔ میں جب کاروبار کے سلسلہ میں دُنیا گھومتا ہوں، مختلف لوگوں سے ملتا ہوں تو مجھے اپنی ان محرومیوں کا اور بھی شدت سے احساس ہوتا ہے کیونکہ جب آپ کسی ایسے غیر ملکی کاروباری شخص سے ملتے ہیں جس کی قوم کی روایات اور تاریخ کا آپ کو علم نہ ہو تو اس سے آپ کے لیے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
جب آپ کاروبار کی غرض سے سفر میں ہوتے ہیں تو آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ جس شخصیت سے آپ ملنے والے ہیں اس کے مذہبی عقائد اور دلچسپیاں کیا ہیں لہٰذا آپ کو ہر طرح کی ممکنہ صورت حال کے لیے تیار رہنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر کیا آپ اسلام یا ہندومت کے بارے میں کچھ جانتے ہیں یا پھر آپ کو سوڈان اور الجیریا کی تاریخ کے بارے میں کتنی معلومات ہیں۔
میں بعض اوقات اپنے کاروباری دوروں میں کالج کے پروفیسر حضرات کو ساتھ لے جاتا ہوں تا کہ وہ متعلقہ قوم کے بارے میں مجھے بریفنگ دے سکیں۔ یہ ابتدائی معلومات اور ہدایات متعلقہ قوم کی تاریخ، معاشرتی حالات، حالات حاضرہ اور دیگر پہلوؤں کے بارے میں میرے علم میں اضافہ کرتی ہیں۔ گو کہ اس طرح کی معلومات تیز رفتار ٹرین سے باہر کے نظارے دیکھنے کے مترادف ہوتی ہیں لیکن پھر بھی ان سے میرے اندر ایک نئی توانائی اور طاقت بھر جاتی ہے۔
اسی لیے میں اکثر کہتا ہوں کہ (Status quo) حسب سابق حالت برقرار رکھنا بھی تنزلی ہے اور اگر آپ صرف اپنی ذات سے غرض رکھتے ہیں تو لوگ بھی چپکے سے آپ کے پاس سے گزر جاتے ہیں۔ اگر کوئی زندگی میں ایسا رویہ اختیار کرتا ہے تو اس کے لیے سب کچھ ختم ہو جاتا ہے کیونکہ اس کے پاس مستقبل کی ترقی کے لیے کوئی توقعات نہیں ہوتیں۔ مسلسل کامیاب صرف وہی لوگ ہوتے ہیں جو سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ کرنے کی عادت برقرار رکھتے ہیں۔
ہمیشہ خود کے ساتھ رویہ سخت رکھو، کبھی یہ نہ سوچو کہ آپ نے سب حاصل کر لیا اور نہ ہی جو حاصل کر چکے ہو اُس پر مطمئن ہو کر بیٹھ جاؤ۔ ساری زندگی محو سفر رہو کیونکہ اگر آپ آگے نہیں بڑھیں گے تو مفلوج ہو کر رہ جائیں گے۔ اپنے جواہر کو آخری حد تک اُجاگر کرو کیونکہ آپ خود ہی وہ ہستی ہو جو اپنی مرضی سے اپنی مخفی صلاحیتوں کو جگا سکتی ہے۔