شوق اور پیشہ

سید قاسم علی شاہ

یہ سوچ کہ پیشہ اپنی پسند کا ہونا چاہیے اس موضوع پر ہمارے معاشرے میں بات نہیں ہوتی۔ پسندیدہ پیشہ اس وقت اختیار کرنا آسان ہوتا ہے جب بندے کو اپنے شوق کا پتا ہو۔ کوئی بھی چیز اپنے ہونے کا ثبوت دیتی ہے جس طرح کمرے میں لائٹ اپنے ہونے کا ثبوت ہوتی ہےاسطرح شوق اپنے ہونے کا ثبوت دیتا ہے۔جب شوق اور پیشہ ایک ہوں تو بندے کی رفتار تیز ہو جاتی ہے اگر راستہ نہ ملے تو بندہ راستہ بنا لیتا ہے۔ غالب اپنے خط میں لکھتےہیں” دنیا کا خوش بخت انسان وہ ہے جس کا ذریعہ معاش اور شوق ایک ہی ہو۔”ذریعہ معاش اور شوق ایک ہونے سے زندگی کمال ہوجاتی ہے۔ ایک اور جگہ پر وہ لکھتے ہیں کہ “دنیا کا ہر بندہ کام سے تھکتا ہے لیکن محبت سے کوئی نہیں تھکتا “یعنی کام سے محبت ہو تو تھکاوٹ کا احساس نہیں ہوتا۔ شوق والے کام کو کرنا آسان ہوتا ہے ۔اس میں معاوضے کی پروا نہیں ہوتی راستےخود بخود بننے لگ پڑتے ہیں۔ بندہ وقت کی قید سے آزاد ہو جاتا ہے۔ معلومات ملنا شروع ہو جاتی ہیں۔ شوق سے متعلقہ لوگ اچھے لگنے لگ پڑتے ہیں۔ اس دنیا کو آئینہ سمجھیں یہ دنیا آپ کو آپ کا اصل چہرہ دکھائے گی۔ اصل چہرے کی تلاش ممکن ہی تب ہوتی ہے جب بندہ دنیا کو دیکھتا ہے اور اس میں اپنی موٹیویشن اور انسپائریشن تلاش کرتا ہے ۔سوال اپنے اندر ہوتا ہے.اندرہی اٹھتا ہے جبکہ کائنات اس کا جواب دیتی ہے۔ بندے کی انسپائریشن بتاتی ہے.کہ اس کے آنے والے دن کیسے ہوں گے۔ گورے نے ہمارے مقابلے میں پیشے اور شوق کے متعلق بہت تحقیق کی ہے۔ گورا دیکھتا ہے کہ فلاں پیشے کے متعلق کن صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے ۔جیسے ماہر نفسیات کے لیے ضروری کہ وہ سننے میں اچھا ہو، اس کی ابزرویشن اچھی ہو، اس کا ایکسپویر ہو اس کے علاوہ اسے انسانی رویے کو پڑھنا اور سمجھنا آتا ہو۔ پیشہ اور اس کی ضروریات آپس میں ملیں تو کامیابی ملتی ہے۔ شوق کو تلاش کرنے کے متعلق سب سے پہلی تھیوری(ملٹی پل انٹیلی جنس) 1986ءمیں ہاورڈ گارڈن نے پیش کی۔ اس تھیوری کے مطابق ذہانت ایک نہیں نو ہوتی ہیں اور یہ ہر شخص میں مختلف ہوتی ہیں۔اس کے بعد “جان ہالینڈ” نے اپنی تھیوری پیش کی اس کے مطابق شخصیت کی تین سے چار اقسام ہوتی ہیں اس نے ان کی کیٹگریز بنا دیں اور ٹیسٹ بنا دیئے ۔ ہمارے ملک میں ابھی تک ان تھیوریز پر بات نہیں ہوئی۔ صحیح پیشے کو اختیار کرنے کےمتعلق جدید ترین تھیوری “ڈانلڈ کلفٹن” نے پیش کی اس تھیوری کو اس کے پوتے “ٹام روتھ” نے ایک کتاب(Strength Finder)میں لکھا ہے.اس تھیوری کے مطابق ایک شخص میں چونتیس صلاحیتیں ہوتی ہیں ان میں پانچ طاقتور ہوتی ہیں اور زندگی انہیں طاقتور صلاحیتوں کے گرد گھومتی ہے۔ ان صلاحیتوں کا اپنا اظہار ہے جیسے ایک صلاحیت جس کو “اچیور” کہا جاتا ہے ۔اس صلاحیت کے حامل لوگ ہرو قت اچیو کر نے کے چکر میں لگے رہتے ہیں۔یہ لوگ روزانہ اپنے آپ کو زیرو سے شروع کرتے ہیں۔ان کا دل کرتا ہے کہ آج کچھ بڑا کر کے دکھایا جائے۔ٹام روتھ یہ کہتا ہے ایسے لوگوں کو سیل کے شعبے میں جانا چاہیے۔ ایسے لوگوں کو مارکیٹنگ کا کام کرنا چاہیے۔جس شخص کو اچیومنٹ کے احساسات آتے ہیں وہ اچیور کی کیٹگری میں آتا ہے۔ ایسے بندے کو اگر اس شعبے میں لگا دیا جائے جہاں پر اچیو منٹ ہی نہ ہوتو وہ کارکردگی نہیں دکھا پائے گا۔ایسے بندے کی خوراک اچیومنٹ ہوتی ہے۔ہمارے ہاں Aptitude ٹیسٹ تو ہوتا ہے لیکن Attitude ٹیسٹ نہیں ہوتا۔ہمارے ہاں آئی۔کیو چیک ہوتا ہے.لیکن بندے کا رجحان کیا ہے یہ نہیں دیکھا جاتا۔ شخصیت کا ڈگریوں سے نہیں بلکہ رجحان اور صلاحیتوں سے پتا چلتاہے۔تعلیم بندے کو شوق سے روشناس کراتی ہے لیکن ہمارا تعلیمی نظام اس پر بات نہیں کر رہا ۔جدھر رجحان ہوتا ہے لوگ اسی طرف چل پڑتے ہیں اسی رحجان کی وجہ سے وہ مخصوص ڈگریاں حاصل کرتے ہیں ۔جب پاکستان بنا اس وقت ہمارے پاس نہ زیادہ ڈاکٹرز تھےاورنہ ہی انجینئر ۔ان کے نہ ہونے کی وجہ سے ان کی مانگ میں اضافہ ہوا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کے ذہن میں یہببات بیٹھ گئی کہ شائد ڈاکٹر ز اور انجینئرز ہی اصل پیشہ ہے۔ دوسری طرف پرائیویٹ اداروں کو بھی سمجھ آ گئی کہ لوگ ڈاکٹرز اور انجینئرز بننا چاہتے ہیں انہوں نے بھی اس کی تشہیر کی جس کی وجہ سے نمبروں کی دوڑ شروع ہوگئی ۔ان دو پیشوں میں لوگوںبکارجحان ہونے کی وجہ سے دوسرے پیشوں کی طرف دھیان نہیں دیا گیا۔ جب شوق ہو تو بندہ بڑے خواب دیکھتا ہے۔ بڑے خواب دیکھنے کے لیے امنگ اور امید چاہیے ہوتی ہے۔ امید نہ ہو نےکی وجہ سے بندے بڑے خواب نہیں دیکھتے ۔ آج ڈگری ہولڈرز کی بہت بڑی تعداد تو موجود ہے لیکن ان کے پاس امید نہیں ہے ۔شوق اور پیشہ ایک ہونے کے باوجود زندگی میں محنت کرنا پڑتی ہے۔دنیا میں جس شخص نے بھیناپنا نام بنایا اس نے راستے کی ٹھوکریں ضرور کھائیں۔محنت کا کمال یہ ہوتا ہے کہ اس کا آغاز بہت چھوٹا ہوتا ہے لیکن اس کا اختتام بہت بڑا ہوتا ہے پھرپردے اٹھانے اور گرانے والا دنیاکا سب سے بڑا ڈرامہ نگار (شیکسپیئر)بنتا ہے۔ ہر بڑے انسان کی کہانی تکلیف کی داستان ہوتی ہے ل۔ہزار غلطیوں کے بعد جا کر منزل ملتی ہے۔جو شخص شارٹ کٹ کے چکر میں ہوتا ہے وہ آگے نہیں بڑھ سکتا۔ جب تک بنیاد نہ بنے عروج نہیں ملتا ۔ محنت کے بغیر پھل نہیں کھایا جا سکتا ۔ میٹھا پھل کھانے کے لیےصبر کرنا پڑتا ہے۔میٹھا پھل کھانے کے لیے زندگی میں مقصد ہونا چاہیے ۔جب زندگی میں مقصد ہوتو بندہ صحیح راستے پر رہتا ہے۔اگر بچوں کو زمانہ طالب علمی میں یہ شعو ر دے دیا جائے۔کہ اگر آپ نے زندگی میں ترقی کرنی ہے تو اپنے شوق اور پیشے کو ایک کرو۔اگر شوق اور پیشہ ایک نہیں ہوگا تو آپ تر قی نہیں کر سکتے۔ بچوں کے والدین کو ،اساتذہ کو چاہیے کہ وہ اپنا ایکسپویز بڑھائیں ۔آج بچےکو رزلٹ سے پہلے فیلڈ کا پتا ہونا چاہیے اسے پتا ہونا چاہیے کہ فلاں فیلڈ کا فلاں فائدہ ہے۔آ ج گورے نے اس پر کام کر کے بتایا ہے کہ دنیا میں کن مضامین میں جاب کے مواقع زیادہ ہیں اور کن مضامین میں مواقع کم ہیں۔ ہمارا میٹرک کا بچہ لاعلم ہوتا ہے وہ مشورے پر چل رہا ہوتا ہے۔وہ والدین کی خواہشوں کے تابع ہوتا ہے ۔ہمارے تعلیمی نظام نے بے روزگار لوگوں کو استاد بنا کر مصروف کر دیا ۔ ان میں اساتذہ میں بہت بڑی تعداد ایسی ہے جن کا پڑھانے کے ساتھ تعلق نہیں ہے لیکن وہ جاب کی مجبوری کی وجہ سے اس شعبے میں آگئے۔استاد وہ ہوتا ہے جو نفسیات جانتا ہو جو جانتا ہو کہ کسی کو خود شناس کیسے کرنا ہے۔حضرت واصف علی واصفؒ فرماتے ہیں اچھے انسان کا ساتھ خود شناسی کو ممکن بنا دیتا ہے۔تعلیم وہ چیز ہے جس سے خود شنا س لوگ پیدا ہوتے ہیں۔آج تعلیم ہے لیکن خود شناسی نہیں ہے۔ اگر ہم اپنے اندر دیکھیں گے ، اپنی تلاش کریں گے، اپنی صلاحیتوں کو دریافت کریں گے،اپنی انسپائریشن دریافت کریں گے تو سمت بنے گی۔ سمت ہوگی تو منزل آئے گی اگر سمت نہ ہو تو پھر منزلیں نہیں آیا کرتیں۔گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ صحیح پیشے کے انتخاب کے متعلق کام کرے اور اس کو تحریک کی شکل دے ۔اگر گورنمنٹ اپنی ذمہ داری قبول کر لے اور تعلیمی اداروں میں سیمینارز کروائے تو بہت بہتری آئےگی ۔والدین کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کے خوابوں کو قتل نہ کریں بلکہ بچوں سے کہیں کہ وہ اپنے خوابوں کی پیروی کریں ۔انہیں بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے آ پ کو جس کام کے لیے بھیجا ہے اور جس منزل پر آپ نے پہنچنا ہے آپ وہ کام کریں۔ ہم اپنے بچوں کے بارے میں دوستوں اور عزیز رشتہ داروں سے پوچھتے ہیں ہمیں کبھی اپنے بچوں سے بھی پوچھنا چاہیےکہ ان کا دل کیا بننے کو کرتا ہے۔ہرشخص دنیا میں کسی خاص مقصد کے لیے آیا ہے وہ مقصد تب ہی پورا ہوگا جب وہ اپنے خوابوں کا پیچھا کر ے گا اور اپنے کام میں ایکسی لینس ہوگا۔ “تھری ایڈیس” میں عامرخان کہتا ہے ” میں ایکسی لینس کا پیچھا کروں گا کامیابی جھک مار کے میرے پیچھے آئے گی۔”پیسہ کمانا چھوٹی چیز ہے.لیکن زندگی میں خوش ہونا بڑی چیز ہے۔ اگر آپ شوق کا پیچھا کرتے ہیں تو خوش بھی رہیں گے اور زندگی بھی مزے میں رہے گی۔