پبلک ریلیشنز کے عہدہ میں کیریئر کیسے بنائیں؟

فاروق احمد انصاری

پبلک ریلیشن یا تعلقات عامہ کا مطلب ہے کسی ادارے کا دوسرے ادارے یا عوام سے رابطہ ، جس کیلئے باضابطہ ایک ادارہ یا ادارے میں ایک شعبہ ہوتاہے۔ پبلک ریلیشن کا لفظ پہلی بار 1898ءمیں استعمال ہوا، شروع میں اس کے لیے صرف پبلسٹی اور صحافت سے وابستہ لوگوں سے تعلقات کو ہی کافی مانا جاتا تھا۔ 1982ءمیں اس شعبے کو نئی تعریف دیتے ہوئے جماعتوں، اداروں، نظریات، خیالات، خدمات اور پیداوار یا پروڈکٹس کو عوام میں قابل قبول بنانے کے عمل کو پبلک ریلیشن کا نام دیا گیا۔ آج کی پی آر میں منصوبہ بندی، تعلقات، لوگوں کو انگیج کرنا، ان سے ملتے رہنا، ان کی خوشی غمی میں ساتھ رہنا اور اپنا امیج بہتر کروانا شامل ہے۔ لوگوں سے مؤثر رابطہ رکھنا، اس کا اہم حصہ ہے، یہ ذمے داری نہیں ایک طرزِ زندگی ہے۔ سیاسی پی آر کا مطلب اپنی گڈ وِل بنانا اور اسے بہتر کرنا ہوتاہے۔
پبلک ریلیشن کے شعبے میں کارگزار لوگوں کا بنیادی کام ابلاغ ہی ہے۔ ابلاغ کے اس عمل کے لیے پبلک ریلیشن کا کارکن ویسے ہی ذرائع اور وسیلے اختیار کرتا ہے، جو ابلاغ کے دوسرے میدانوں میں استعمال ہوتے ہیں مثلاً مطبوعہ مواد مہیا کرنے کے لیے وہ تصویروں سے مزین خبری اعلامیے جاری کرسکتا ہے، اپنے ادارے کی طرف سےمعلوماتی کتابچے، تعارف نامے، ہینڈبل، فولڈر، کیٹلاگ، ڈائریاں، کیلنڈر اور مطبوعہ خبرنامے یا ادارے کے رسائل اور جرائد وغیرہ تیار کرتا ہے۔ آڈیو ویڑول مواد کے طور پر ریڈیو، ٹی وی پروگرام، تقریروں، مذاکروں، جلسوں اور مباحثوں کا اہتمام کرتا ہے۔ بصری مواد مہیا کرنے کے لیے مظاہروں ، نمائش ، فلموں، سلائیڈوں، دستاویزی فلموں، ثقافتی تقریبوں، پریڈوں وغیرہ کے انعقاد کاانتظام کرتا ہے۔ غرض وہ ابلاغ کا ہر حربہ استعمال میں لاتا ہے۔ پبلک ریلیشن اورتشہیر مترادف اصطلاحات نہیں ہیں۔ تشہیر ،پبلک ریلیشن کا ایک حصہ ہوسکتی ہے، بجائے خود اسے پبلک ریلیشن کا عمل نہیں سمجھنا چاہیے۔
چونکہ پبلک ریلشن کے شعبے کا بنیادی کام ابلاغ ہے اوراس شعبے کے کارکن بھی خبری مواد کی تحریر، رائے عامہ کی تشکیل اور اخبار و رسائل کے اجرا جیسے کام کرتے ہیں، اس لیے اس پیشے میں تربیت یافتہ صحافی عام خواندہ لوگوں کے مقابلے میں زیادہ کامیاب رہتے ہیں اور بالعموم اس پیشے میں ذرائع ابلاغ میں کارگزار رہنے والے لوگ ہی کام کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کی ان سب جامعات میں جہاں ابلاغِ عامہ یا صحافت کا شعبہ موجود ہے ،وہاں ابلاغِ عامہ کے نصاب کے جزو کے طور پر پبلک ریلیشن کی پیشہ ورانہ تعلیم و تربیت کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ سرکاری محکموں میں پبلک ریلیشن افسروں اورکارکنوں کی تقرری کے لیے ابلاغِ عامہ کی ڈگری کی شرط اب عمومی طور پر اسامیوں کے اشتہارات میں نظر آنے لگی ہے۔ نجی اداروں اور تنظیموں میں پبلک ریلیشن افسران کی اسامیوں پرترجیحی طور پر تجربہ کار صحافیوں کا تقررہی عمل میں آتا ہے۔

انفرادی خصوصیات

اس دلچسپ میدانِ عمل میں آنے والوں میں جو انفرادی خصوصیات درکار ہوتی ہیں ان میں اچھی شخصیت، تحریر و تقریر پر دسترس، عمدہ، دلکش اور دلچسپ گفتگوکرنے کی اہلیت، اپنے ادارے یا محکمے و شعبے سے گہری وابستگی، وفاداری، مجلسی آداب سے آگاہی، ذمہ داری، خوش لباسی اور شگفتہ مزاجی وہ اوصاف ہیں، جو آپ کو آپ کے ادارے کی ہی نہیں بلکہ عوام الناس میں بھی ہر دلعزیز شخصیت بنادیتے ہیں۔

پیشے کی نوعیت

بڑے اداروں میں پبلک ریلیشن کے الگ شعبے اورنظامتیں قائم ہیں اور ان میں ایک وسیع عملہ کار گزار ہوتا ہے، وہاں کچھ لوگ دفتروں میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں اور کچھ کارکن اخبارات کے دفاتر اور دیگر پبلک مقامات پر فیلڈ میں کار گزار ہوتے ہیں۔ دفتر میں بیٹھنے والے مطبوعہ، بصری اورسمعی موادکی تیاری کا کام کرتے ہیں۔
اعلامیے، ہینڈ بل، بروشر اور کتابچے وغیرہ تیار کرتے ہیں یا خبر ناموں کی تیاری کا کام کرتے ہیں اور جو لوگ فیلڈمیں کام کرتے ہیں، وہ رائے عامہ کے ترجمانوں، ذرائع ابلاغ کے کلیدی افراد، اعلیٰ سرکاری وغیر سرکاری حکام اور ممتازشخصیات سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ تقریروں، مباحثوں، جلسوں، مذاکروں، ثقافتی تقریبات، مظاہروں، نمائشوں وغیرہ کے انعقاد کا اہتمام کرتے ہیں۔ چھوٹے اداروں میں جہاں ایک ہی پبلک ریلیشن افسر ہوتا ہے، اسے دفتر کے اندر اور دفتر کے باہر سب جگہ کام کرناپڑتا ہے۔

ترقی کے مواقع

بڑے نجی اداروں میں افسران کو دی جانے والی مراعات اور تنخواہیں اتنی پرکشش ہوتی ہیں کہ کہنہ مشق اورپرانے صحافی اپنا برسوں کا کیریئر چھوڑ کر پبلک ریلیشن کے پیشے کو اپناتے نظر آتے ہیں۔ صوبائی حکومتوں کے محکمہ ہائے اطلاعات سے افسراطلاع کا تقرر سترہویں گریڈمیں ہوتا ہے۔ افسر اطلاعات سے اوپر بالترتیب اسسٹنٹ ڈائریکٹر ، ڈپٹی ڈائریکٹرپبلک ریلیشن اور ڈائریکٹر جنر ل پبلک ریلیشن کے مدارج ہوتے ہیں۔ ان مدارج کے لیے بالترتیب19,18اور20گریڈ مخصوص ہیں۔ مرکزی محکمہ اطلاعات میں افسر اطلاعات، اسسٹنٹ ڈائریکٹر، ڈائریکٹر، ڈائریکٹر مجاز اطلاعِ عامہ اور پرنسپل افسر کے پانچ مدارج ہیں، جو16گریڈسے شروع ہوکر20گریڈ پر ختم ہوتے ہیں۔