کریئرپلاننگ کاطریقہ کار

کریئر کی منصوبہ بندی کس طرح کی جائے، اس کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ آپ کسی پروفیشنل کریئر کونسلر سے رابطہ کریں جو آپ کی اس حوالے سے رہنمائی کرے۔ لیکن پاکستان میں کریئر کونسلرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ کریئر پلاننگ کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود وہ طریقہء کار اپنائیں جو پروفیشنل کریئر کونسلرز اختیار کرتے ہیں۔ اس طریقہء کار سے آپ زیادہ آسانی اور زیادہ بہتر طور پر تعین کر سکتے ہیں کہ بطور طالب علم خود آپ کے لیے کون سا شعبہ زیادہ فائدہ مند ہے۔ 1: ذہانت کا امتحان (آئی کیو ٹیسٹ) 2: رجحان /مزاج 3: دلچسپی 4: معاشی حالات 5: صنف 6: دستیاب تعلیمی مواقع 1آئی کیو لیول کو ٹیسٹ کرنا: اس ٹیسٹ میں کسی بھی انسان کی ذہنی صلاحیتوں کی سائنسی بنیاد پر پیمائش کرنا مقصود ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ طالب علم مطلوبہ شعبے میں جانے کی بنیادی قابلیت رکھتا ہے یا نہیں، آئی کیو ٹیسٹ یعنی ذہانت کی جانچ کے مرحلے میں صرف طالب علم کی خواندگی اور حافظے کے معیار کو چیک کیا جاتا ہے۔ 2 رویہ: عملی زندگی میں کامیابی کے لیے کسی بھی شعبے کے انتخاب کے لیے لازمی ہے کہ طالبِ علم کا رویہ اس شعبے کے بارے میں درست ہو۔ رویے کو تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے کافی محنت درکار ہوتی ہے ۔ 3 طالب علم کی ذاتی دلچسپی: کسی بھی انسان سے اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں لیا جا سکتا۔ اگر زبردستی کام کروا بھی لیا جائے، تو بھی اس میں وہ نفاست نہیں ہوگی جو دلچسپی سے کرنے پر آتی ہے۔ اسی طرح جب تک کہ طالب علم کی کسی کام میں ذاتی دلچسپی نہیں ہوگی وہ اس شعبے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ 4 خاندان کے معاشی حالات: اپنے لیے  کسی بھی کورس کا انتخاب کرتے وقت اپنے خاندان کے معاشی حالات کو مدِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں طلبہ و طالبات کی بہت بڑی تعداد ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہے، لیکن حکومتی سطح پر ملک بھر میں میڈیکل کالجز اور ان میں سیٹوں کی تعداد بہت کم ہے۔ ہر سال پاکستان بھر سے لاکھوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات میڈیکل کالجز میں داخلے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف چند ہزار کو ہی داخلہ ملتا ہے اور باقی کے لیے صرف نجی کالجز بچتے ہیں جن کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔  5 صنف: پاکستانی معاشرے میں خواتین کے بارے میں کافی تنگ نظری موجود ہے اس لیے لڑکیوں کو ان شعبہ جات کا انتخاب کرنا چاہیے جس میں اگر وہ عملی زندگی میں جاب کرنا چاہیں تو ان کو زیادہ مشکلات نہ ہوں۔ 6 دستیاب تعلیمی مواقع: اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر طالب علموں اور ان کے والدین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس وقت کون کون سے تعلیمی شعبہ جات میں وہ داخلہ لے سکتے ہیں۔ مثلاً عمومی طور پر ایف ایس سی پری میڈیکل کرنے والے خواہشمند طلبہ اس کے بعد کے مزید شعبہ جات کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں ۔  ہر طالب علم کو اپنی شخصیت، صلاحیت، خواہش، ذہنی استعداد، مالی وسائل اور اپنی عملی ضروریات کو دیکھ کر اپنے لیے بہترین شعبے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔