معاشرتی المیہ: مٹی پاؤ تے آگے بڑھ جاؤ!

یہ اس سال جنوری کی بات ہے جب کراچی کے پوش علاقے میں ایک لڑکا انتظار حسین رات کی تاریکی میں گولیوں سے بھون دیا گیا۔ کیا کسی کو یاد ہے؟ وہ لڑکا کون تھا؟ اس کا قصور کیا تھا؟ اس کو کیوں قتل کردیا گیا؟اس کیس کے کردار کون تھے؟ قتل میں کتنے لوگ ملوث تھے؟کس نے کس کا ساتھ دیا؟ قتل کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا؟ کون سی قوت کارفرما تھی؟مدیحہ کیانی کون تھی؟ کہاں سے آئی کہاں کو گئی؟ کتنے بیان دئیے گئے، کتنے بدلے گئے؟ تحقیقات کہیں سے کہیں جانکلیں، وجہ کیا تھی، آج تک پتہ نہ چل سکا۔ 13 جنوری کے اس واقعے کو بھی باقی سانحات و واقعات کی طرح بھُلا دیا گیا۔ خیر جو بھی ہے، دوبارہ اس طرح کا کوئی واقعہ ہوا تو دیکھا جائے گا، ابھی تو ’مٹی پاؤ تے آگے بڑھ جاؤ‘! 13 جنوری ہی کو اُس وقت کے ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے 4 دہشت گردوں کو مقابلے میں ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا، جن میں ایک قبائلی علاقے کا نوجوان نقیب اللہ بھی تھا۔ سوشل میڈیا پر مہم شروع ہونے کے بعد سپریم کورٹ نے اس کا نوٹس لیا، آئی جی سندھ نے بھی ایک کمیٹی قائم کی۔ ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں اس کمیٹی نے شواہد کی روشنی میں اس بات کی تصدیق کی کہ پولیس مقابلہ نہ صرف جعلی تھا بلکہ مارے گئے مبینہ دہشت گرد بھی عام لوگ تھے جنہیں کئی روز پہلے حراست میں لیا گیا تھا۔ معاملہ سپریم کورٹ میں تھا۔ بار بار بلانے، حفاظتی ضمانت دینے پر بھی سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار پیش نہ ہوئے اور بالآخر 2 ماہ آٹھ روز بعد اچانک سادہ کپڑوں میں ملبوس راؤ انوار سفید گاڑی میں سپریم کورٹ پہنچے تو انہیں عدالت کے حکم پر گرفتار کرلیا گیا۔ راؤانوار کو جیل میں بی کلاس بھی مل گئی لیکن کیس حل نہ ہوا، نقیب اللہ کے اہلخانہ کو انصاف نہ ملا، اب تو آئی جی سندھ اور حکومت بھی بدل گئی، لیکن نقیب قتل کیس میں پولیس کی حکمت عملی اور پالیسی تبدیل نہیں ہوئی۔ نقیب سمیت 4 افراد کو مارنے والی راؤ انوار کی ساری شوٹر ٹیم اب بھی محفوظ ہے، عید گھروں پر مزے سے گزار دی ۔ روایت کے مطابق پولیس فریقین کے درمیان رابطوں کے نتائج کا انتظار کر رہی ہے، لیکن نقیب اللہ محسود کے والد نے قصاص و دیت سمیت کوئی بھی سمجھوتا کرنے سے انکار کردیا ہے۔ نقیب اللہ کے وکلاء کی عدم حاضری پر سماعت بھی 4 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔ راؤ انوار نے فرضی مقابلے میں نقیب کو کیوں قتل کیا؟ راؤ انوار کے سہولت کار کون لوگ ہیں، یہ اب تک پتہ نہ چل سکا۔ خیر جو بھی ہے، جانے والا تو چلا گیا، اب لوٹ کر تو نہیں آ سکتا، اس لیے’مٹی پاؤ تے آگے بڑھ جاؤ‘! 20 جنوری کو علی الصبح پانچ بہنوں کے اکلوتے چھوٹے بھائی کو فرضی پولیس مقابلے میں کراچی کی ایک مصروف ترین شاہراہ پر مار دیا گیا۔ ٹی وی چینل پر مقتول مقصود کی روتی بلکتی بہنوں کی ویڈیوز شئیر کی گئیں، دو بہنوں نے موقع واردات پر پولیس اہلکاروں کو پکڑ لیا، اپنے بھائی کا قصور پوچھا اور ان کو اپنی مجرمانہ غفلت تسلیم کرنے کو کہا لیکن پولیس اہلکاروں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ مقصود کے قتل کا مقدمہ درج ہونے کے باوجود پولیس اہلکاروں کو ڈھائی ماہ تک اُسی تھانے میں عہدوں پر برقرار رکھا گیا اور تو اور قتل کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی پولیس نے چار ماہ سے زائد عرصے تک خفیہ رکھی۔ پی اے ایف بس اسٹاپ کی 2 منٹ 35 سیکنڈ کی یہ واضح سی سی ٹی وی فوٹیج پولیس کی بربریت کی 'خوفناک مثال' ہے۔ لیکن عوام تو پیدا ہی بے موت مرنے کو ہوتے ہیں، ایک اور سہی، لہذا ’مٹی پاؤ تے آگے بڑھ جاؤ‘! واقعی اب یہ جملہ ہمارا قومی تکیہ کلام بن گیا ہے، بڑے سے بڑا سانحہ ہو یا چھوٹے سے چھوٹا واقعہ، ملک وقوم کو کتنا ہی بڑا دھچکا لگے، کتنی ہی بڑی آفت ہو، میڈیا اور سوشل میڈیا پر کتنا ہی اچھالا گیا ہو، حل کے لیے کتنی ہی آوازیں کیوں نہ اٹھائی گئی ہوں، دو سے تین دن واویلا ہوتا ہے، شنوائی ہوتی ہے لیکن کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا، یعنی وہی ڈھاک کے تین پات، ’مٹی پاؤ تے آگے بڑھ جاؤ‘!