انٹرویو میں کون سی بنیادی غلطیوں سے بچنا چاہیے؟

عبدالرحمن محمود خان

آج کے دور میں ملازمت کا حصول کوئی آسان کام نہیں،جس طرح پرانے وقتوں میںقصے مشہور تھے کہ خزانے کو پانے کے لیے شہزادے کو جان جوکھوں میں ڈالنی پڑتی تھی اور کبھی کبھار توجادوگروں اور پریوں سے بِھڑنا پڑتا تھا،اسی طرح آج کے دورمیں کسی ملازمت کے حصول کے لیے طرح طرح کے ٹیسٹ اور آخر میں انٹرویو جیسے مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔دوستو!ہم جس مادی دور سے گزر رہے ہیں،اِس میںمذکورہ معاملات کسی خزانے کو پانے سے کم نہیں۔ہم ایسے زمانے میں داخل ہوچکے ہیںجہاں کسی نوکری کے لیے اہل ہونا اس بات کی ضمانت نہیں کہ آپ کو یہ ملازمت مل جائے گی۔یہاں انٹرویو کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے۔آپ کو نوکری پر رکھنے والے آپ سے یہ امید نہیں کررہے ہوتے کہ آپ بغیر کسی غلطی کے اپنا انٹرویو مکمل کرلیں گے تاہم کچھ غلطیاں ایسی ہوتی ہیں جن سے بنتا کام بھی بگڑ جاتا ہے۔ آج ہم آپ کو ایسی چند غلطیوں کا بتائیں گے جو اکثر اوقات انٹرویو کے دوران ہوجاتی ہیں۔

تفصیل جانیے

انٹرویو سے قبل کمپنی کی ویب سائٹ کا جائزہ لیں یا اُس کے بارے میں دستیاب معلومات جان لیں تاکہ انٹرویو کے دوران آپ کمپنی کے بارے میں بخوبی آگاہ ہونے کے باعث آسانی سے انٹرویو دے سکیں۔انٹرویو کے دوران انٹرویو کرنے والا شخص آپ سے یہ کہتا ہے کہ ان کے پاس 45 منٹ اور متعدد سوالات ہیں تو اس کا مطلب پہلے سوال کا جواب آپ کو10 منٹ کے اندر ختم کرلینا چاہیے۔ کمپنی یا نوکری کے بارے میں لاعلم ہونا یہ بات بالکل درست ہے کہ کسی کمپنی کی اندرونی رازوں کا علم آپ کو ایک انٹرویو کے دوران تو نہیں ہوگا۔تاہم اگر آپ کو اپنی نوکری اور کمپنی کے بارے میں بنیادی باتوں کا بھی علم نہیں، یہ بات انٹرویو کے دوران برا تاثر ڈال سکتی ہے۔ اس کا بہترین حل کمپنی کی جانب سے دیا گئے اشتہار اور کمپنی کی ویب سائٹ کا جائزہ لینا ہے۔ 

جواب مختصر اور ٹھوس

انٹرویو لینے والے شخص نے کئی افراد کے انٹرویو کرنے ہوتے ہیں کیونکہ انٹرویوکے دوران کسی بھی سوال کاغیر ضروری طور لمبا جواب دینے سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ آپ اپنے خیالات کا اظہار کم الفاظ میں کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے۔ یہ کسی بھی انٹرویولینے والے کے لیے ناراضگی کا باعث بن سکتا ہے جسے آپ کے علاوہ بھی کئی افراد کے انٹرویو کرنے ہیں۔ انٹرویولینے والے کی جانب سے اشاروں کا جائزہ لیں اور اگر وہ آپ کے جوابات میں اشاروں سے بیزاری کا تاثر دے رہا یامداخلت کررہا ہے تو یہ ایک اشارہ ہے کہ آپ شاید ضرورت سے زیادہ وقت لے رہے ہیں۔
لازمی پڑھیں: ڈپلومہ کی اہمیت

تفصیلات سے گریز کریں

 انٹرویو لینے والے افراد یہ بات جاننا چاہتے ہیں کہ آپ نے ماضی میں کیا حاصل کیا ہے۔ تفصیلات میں جائے بغیر بات کرنے سے آپ اپنے انٹرویولینے والے شخص کے لیے مشکل پیدا کردیں گے کہ وہ آپ کو اس نوکری کے لیے منتخب کرے۔ مثال کے طور پر یہ کہنا ہے کہ”میں آن لائن مارکیٹنگ کے بارے بہت کچھ جانتا ہوں“، اس کے بجائے اگر یہ کہا جائے کہ گزشتہ ملازمت میں مَیں آن لائن مارکیٹنگ ٹیم کا سربراہ تھا اور میری تجاویز کے باعث ہماری سوشل میڈیا پر انگیج منٹ 40 فیصد بڑھ گئی تھی“۔
یہ بھی پڑھیں: انٹرن شپ کیوں ضروری؟

سوالات کے جواب نہ دینا

کبھی کبھار کچھ امیدوار کچھ مضامین پر بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ جیسا کہ ان کی پچھلی نوکری کے بارے میں بات کرنا کہ وہاں سے کیوںنکالے گئے یا انہوں نے نوکری خود چھوڑی اور اس کے پیچھے وجہ کیا تھی؟ایک انٹرویور باآسانی یہ بات سمجھ جائے گا کہ آپ کسی سوال کا جواب دینے سے گریز کررہے ہیں اور یہ بات آپ کے خلاف جاسکتی ہے۔ایسے موقع پر بہترین صورت یہی ہے کہ آپ سچ اعتماد کے ساتھ پیش کریں۔ 

بڑھا چڑھا کر پیش کرنا

زیادہ تر امیدوار اس سوال کا مناسب جواب نہیں دے پاتے کیوں کہ عام طور پر انہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ انٹرویو کے دوران اپنے آپ کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا بہتر ہے۔تاہم زیادہ تر انٹرویورز یہ سمجھ جاتے ہیں اور واقعی یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ کیا آپ یہ نوکری کرنے کے لیے درست امیدوار ہیں یا نہیں۔ اگر انٹرویور اس طرح کے سوالات آپ کے سامنے رکھے تو ان کا مناسب انداز میں جواب دیں۔ اگر انٹرویور کا خیال ہے کہ آپ کا کسی مخصوص شعبے میں مطلوبہ تجربہ نہیں تو یہ آپ کا کام ہے کہ اسے اس بات پر قائل کریں کہ آپ اپنے کم تجربے کے باوجود اس مسئلے کو کس طرح حل کریں گے۔