تعلیمی نظام اور سی ایس ایس کی صورتحال

پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد کینیڈا، سنگاپور، سوئٹزلینڈ، آسٹریلیا کے علاوہ کئی ممالک سے زیادہ ہے۔ نوجوان معاشرے کی توانائی ہوتے ہیں اور ان کا ترقی میں اہم رول ہوتا ہے۔ ان کی اسکلز اور ان کے رویئے ہی پیش ا?نےوالے چیلنجز کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ سرکاری اور نجی شعبے کی ذمہ داری کہ وہ ان کو ملازمتوں اور تعلیم کے مواقع فراہم کرے۔ سرکاری شعبے میں تعلیم زوال پذیر ہے اور نجی شعبے میں یہ تجارت بن گئی ہے۔
چین اور ہندوستان اس کوشش میں ہیں کہ وہ اپنے نوجوانوں کو ”اسکل فل“ بنائیں اور وہ اس میں کامیاب بھی ہیں۔ ان کے سرکاری اسکول مسابقت میں نجی اسکولوں میں کم نہیں ہیں۔پاکستان میں تین اقسام کے اسکول ہیں جس سے طبقاتی اور امتیازی سسٹم پیدا ہوگیا ہے۔ سرکاری اسکول تعلیم کا ضیاع ہے اور ٹارچر ہے، چند نجی مہنگے اسکولوں کو چھوڑ کر باقی اسکولوں میں جدید تقاضوںکو پورا نہیں کیا جاتا اس لئے طالب علم گلوبل اور مقامی جاب مارکیٹ میں بہتر ملازمت حاصل نہیں کرسکتے۔ ہائر ایجوکیشن ایم اے، بی اے کی حالت یہ ہے طالب علموں کی اکثریت ایک اچھی ای میل لکھ نہیں پاتے۔ دوسری جانب دوسری جانب پروفیشنلز امتحانات کا جائزہ لیں تو سب سے اہم امتحانات CSS کے سمجھے جاتے ہیں۔ 
آپ اندازہ کریں کہ گذشتہ برس CSS کے امتحانات کے نتائج نہایت مایوس کن اس لحاظ سے تھےکہ انگریزی کے پرچے میں 94 فیصد امیدوار فیل ہوگئے تھے جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ انگریزی ہی سرکاری زبان ہے چونکہ چاروں زبانوں اور اردو میں کوئی بڑا کام نہیں ہوا اس لئے وہ جدید تقاضوں کو پورا نہیں کرتیں۔ ماضی میں زیادہ غریب گھرانوں کے نوجوان بڑی محنت کرکے سی ایس ایس کے امتحانات میں بیٹھتے تھے، وہ جاب حاصل کرنے کے بعد دانشوروں، شاعروں، ادیبوں اور مصروں کی عزت کرتے تھے اور سماج میں نام کماتے تھے۔