پاکستان میں خواتین کی سی ایس ایس امتحان دینےکے رجحان میں اضافہ

پاکستان میں خواتین کی سی ایس ایس امتحان دینے میں دلچسپی بڑھ گئی جبکہ مجموعی امیدواروں میں کمی ہوئی ہے،فیڈرل پبلک سروس کمیشن پاکستان کی سالانہ رپورٹ 2016ء میں انکشاف ہوا ہے کہ 2016ء میں سی ایس ایس امتحان کے لیے 20717 امیدواروں نے کاغذات جمع کیے جبکہ 2015ء میں یہ تعداد 22412 تھی اس تناسب سے 1695 کم درخواستیں جمع ہوئی ان میں سے 9643 امیدواروں نے تحریری امتحان دیا جبکہ 2015ء میں یہ تعداد 12176 تھی تحریری امتحان میں صرف 202 امیدوار کامیاب ہوئے اس طرح تحریری امتحان میں کامیابی کا تناسب 2.09 فیصد بنتا ہے جو کہ 2015ء میں 3.11 فیصد تھا اس طرح 1.2 فیصد کم امیدوار امتحان میں پاس ہوئے جبکہ کل خالی آسامیوں کی تعداد 351 تھی ریکارڈ کے مطابق 2015ء میں 333 آسامیوں پر 238 امیدوار کامیاب ہوئے اور ان کامیاب امیدواروں میں 132 مرد اور 106 خواتین تھیں۔اس طرح کل کامیاب ہونے والے امیدواروں میں 45 فیصد خواتین اور 55 فیصدمرد کامیاب ہوئے جبکہ 95 اسامیوں کو پر نہ کیا جا سکا جبکہ 2016 میں ایک بھی اسامی پر بھرتی عمل میں نہیں لا ئی جا سکی اگر تحریری امتحان پاس کرنے والے تمام امیدواروں کو کامیاب قرار دے بھی دیا جائے تو 149 آسامیاں خالی ہونگی جو کہ 2015ء کے مقابلے میں 54 زیادہ ہیں۔

فیڈرل پبلک سروس کمیشن آف پاکستان نے بڑی تعداد میں طلبہ کے ٹیسٹ میں فیل ہونے کی وجوہات میں لکھا ہے کہ طالب علموں کی خراب کارکردگی کی بڑی وجہ ٹیوشن سنٹرز ،گیس پیپرز، گائیڈ بک ہیں جن کوتعلیم کے دوران استعمال کرتے ہیں جن سے ان کی اپنی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے اور وہ حالات کا تجزیہ کرنے،ا س کو حل کرنے اور مسائل کوسمجھنے سے قاصر ہو جاتے ہیں۔

سی ایس ایس کے امتحان میں امیدواروں کے فیل ہونے کی وجہ ٹیوشن سنٹرز ،گیس پیپرز، گائیڈ بکس ہیں،2015ء کے مقابلے میں 2016ء میں 1695 کم درخواستیں دی گئیں ، تحریری امتحان صرف 2.09 فیصد نے پاس کیا جو کہ 2015ء میں 3.11 فیصد تھا۔351 خالی اسامیوں پر تحریری امتحان صرف 202 امیدواروں نے پاس کیا ۔ابھی تک 2016ء میں ایک بھی اسامی پر بھرتی نہ ہو سکی۔