تعلیم کے دوران اپنی سکلز میں اضافہ کریں

 انجینئر یاسر عباس بلوچ

تعلیم سے بڑھ کر کوئی ہتھیار نہیں اسی تعلیم کی وجہ سے یورپ نے ترقی کی ہے آج ہر کوئی یورپ کی تعلیم حاصل کرناچاہتا ہے وہاں کی مصنوعات کے استعمال کو تر جیح دی جاتی ہے صرف یہ تعلیم میں ترقی کی وجہ سے ہے تاریخ کے الفاظ ملتے ہیں کہ جب تاج محل کی تعمیر کی جارہی تھی اسی وقت آکسفورڈ یونیورسٹی کی تعمیر جاری تھی فرق صرف اتنا ہے کہ انہوں نے تعلیم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا اسی بنا پر وہ ہر چیز میں ہم سے آگے ہیں بہت سی مثالیں ملتی ہیں جس سے نئے طلباء کو علم کے حصول میں شوق پیداہوتا ہے اور تقویت بھی ملتی ہے
یہاں پر اگر میں جاپان کا ذکر نہ کروں تو نا انصافی ہوگی جب امریکہ نے جاپان کو ایٹم بم سے تباہ کردیا تھا تو اس وقت کے صدر کے اپنی قوم سے جو الفاظ کہے وہ تاریخ میں ایک مثال ہیں انہوں نے کہا
’’ہتھیار پھینک دواور اوزار اٹھا لو اب ہم دنیا کو اوزاروں سے فتح کریں گے‘‘اس کے بعد جاپان نے ٹیکنالوجی میں دنیا پر اپنا راج کرکے دکھایا آج بھی جاپان کی ٹیکنالوجی کی پروڈکٹ کو ہم مستند اور کامیاب جانتے ہیں۔
تعلیم حاصل کرنے والے اپنے دوستوں کو ان چیزوں کو بتانا لازمی ہے تاکہ وہ تعلیم کا مقصد جان سکیں جو کہ ہمارے معاشرے میں ختم ہوچکا ہے تعلیم کے نظام کو ہما رے ملک میں ایک مذاق بنا کر رکھ دیا گیاہے صرف اور صرف بھیڑ چال پر ہما را تعلیمی نظام چل رہا ہے اپنی ہر کالم میں اور وہ طلباء جو انفارمیشن مجھ سے حاصل کرتے ہیں سب سے پہلے ان کو میں یہی کہتا ہوں کہ خدارا اس بھیڑ چال سے بچیں خود ریسرچ کریں خود اپنے کیرئیر کا انتخاب کریں اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو پروفشنل لوگوں سے معلومات لیں خاص کر جو نئے نظام سے منسلک ہوں یا ان سے متعلق جانتے ہوں۔
میری ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ میں طلباء کے اندر شوق پیدا کروں کہ وہ خود اس قابل ہوجائیں انکوصحیح غلط کا خود علم ہوجائے اس لیے اس مرتبہ بھی اپنے تجربے اور علم سے زیادہ سے زیادہ آپ کو فائدہ ہوسکے کیونکہ اب نئے طلباء جو انٹر میں آرہے ہیں ان کے لیے بتاتا چلوں کہ اپنے دوستوں کی خاطر اور کسی کی خواہش پر اپنے کیریئر کا انتخاب مت کیجئے گا اس سے آپ کا اپنا ہی نقصان ہوگا۔
کچھ ضروری باتیں اورحقائق:
۱۔میڑک کا امتحان دینے والے طلباء اپنے رزلٹ کا انتظار مت کریں فوراٌکسی پروفیشنل کالج میں داخلہ لیں اور پڑھائی شروع کریں خاص کر وہ طالب علم جن کی پرسنٹیج 80سے زیادہ ہے وہ طالب علم جو 90فیصد نمبرز کے حامل ہیں ان کے لیے ملک کے پروفیشنل نامورپرائیوٹ کالجز فری تعلیم کا اہتمام کرتے ہیں اور وہ بعض میں 100اور بعض میں 50طلباء کی تعداد ہوتی ہے اس لیے فوراٌ اپنی پری فرسٹ ائیر کا آغاز کریں
۲۔F.Sc Pre-Engineeringزیادہ اچھا آپشن ہے جو میڈیکل نہیں پڑھنا چاہتے کیونکہ اس فیلڈ کا طالب علم کہیں بھی جاسکتا ہے چاہے وہ کمپیوٹر ہویا کامرس 249لیکچرشپ یا پھر ٹیکنالوجسٹ آسان الفاظ میں کہ وہ آل راؤنڈر بن جاتا ہے جہاں پھر دل کرے اسے مولڈ کرلیں
۳۔D.A.E عام الفاظ میں انجینئر کا ڈپلومہ کہتے ہیں اس سے کوشش کریں کہ آخری آپشن میں رکھیں کیونکہ اب اس وقت ان کی تعداد بڑھ گئی ہے اور ان کو کھپانے کے لیے کوئی مواقع اس ملک میں موجود ذیادہ نہیں ہیں بچے اس وقت پڑھ تو لیتے ہیں مگر جب کوئی جاب نہیں ملتی تو وہ بہت ڈسہارٹ ہوجاتے ہیں
۴۔A-Levelپڑھنے کے شوق رکھنے والے اس بات کا دھیان رکھیں کہ ان کی قدر کم کرکے رکھ د یتے ہیں اس کی وجہ یہاں کہ طالب علم جو یہاں کے بورڈ سے امتحان دیتے ہیں ان کو 15فیصد زیادہ ترجیح دیتے ہیں اس کا ہر گز مطلب نہیں کہ اے لیول والے طلباء ان سے کم ہیں بلکہ حقیقت تو یہ ہے جو طالب علم اے لیول کرتے ہیں ان کی قابلیت باقی بچوں سے بہت زیادہ ہوتی ہے اس کی وجہ تعلیمی نظام ہے جو وہ یورپ کے نظام کو فولو کرتے ہیں رٹا سسٹم نہیں ہوتا۔
ؐکیونکہ اب بچے انٹری ٹیسٹ کی تیاری میں مصروف ہونے جارہے ہیں ان کے لیے چند اہم باتیں ضرور شیئر کروں گا
۱۔انٹری ٹیسٹ کی تیاری کسی اچھے پروفیشنل ادارے سے کریں اور جتنا ہو سکے اس میں اپنا conceptکلیئر کریں اس بات کا دھیان رکھیں ادارہ طلباء کے لیے ہی کام کرتا ہو ایسے ادارے بھی آرہے ہیں جو صرف پیسہ بناؤ کی مہم پر عمل پیرا ہیں لہذا اس ادارے کے متعلق اپنے اساتذہ سے ضرور پوچھیں ۔
۲۔انجینئرنگ کے طلباء ECAT گروپ میں رہیں بعض ادارے پیسہ بنانے کے لیے پرائیوٹ یونیورسٹی میں زیادہ اپلائی کرنے والے بچوں کو ایک گروپ میں رکھ کر نو سے دس گھنٹے تک بہت سی چیزیں روز پڑھانا شروع کر دیتے ہیں جس سے طالب علم پڑھائی سے جی چراتا ہے اور کسی ایک چیز پر concentrateنہیں رکھ پاتااس لئے ECATکی ہی تیاری کریں وہ بھی اچھی طرح تو آپ کے سا رے مسلے حل ہوجائیں گے
اسی طرح میڈیکل والوں کے لیے بھی ہے کہ وہ صرف MCAT پر بھرپور توجہ دیں ان کے لیے بھی آگے راستے ہزار ہیں
۳۔بعض یونیورسٹی انٹری ٹیسٹ NTS\NATلیتی ہیں یا پھر اپنا خود بھی conductکرواتی ہیں تو ان میں زیادہ سے زیادہ چانس ہوتے ہیں داخلے کیلئےUndergraduate Admission کے لیے چند باتیں:
۱۔میں پہلے بھی بتا چکا تھا کہ سب سے بہترین جو سکالرشپ اس وقتLUMS لمز کا ہے اس جو امیدوار اس میں کامیاب ہوگیااس نے اپنے بہترین مستقبل میں قدم رکھ دیا اس لیے لمز کے NOPپروگرام میں ضرور اپلائی کریں اس کو ہاتھ سے جانے مت دیں
۲۔NUSTاور GIKIکے لیے سکالرشپ بھی ضرور حاصل کریں یہ ملک کی بہترین یونیورسٹیز میں شمار ہوتی ہیں
۳۔یونیورسٹی کا انتخاب HECکی ویب سائٹ سے کر سکتے ہیں اس میں رینکنگ کے حساب سے گورنمنٹ ’سیمی گورنمنٹ اور پرائیوٹ یونیورسٹیز کی باقاعدہ لسٹ موجود ہے اس یونیورسٹی کو خود بھی کھنگالیں جس میں آپ داخلہ لینا چاہ رہے ہیں۔
۴۔پروفیشنل کالج کا انتخاب بھی دھیان سے کریں اس کالج کو متعلقہ یونیورسٹی سے NOCملا ہوا ہو اگر کسی پروگرام میں affiliated ہے تو اس بات کو ذہن میں رکھیں اسی پروگرام میں ہی داخلہ لیں اور وہ طلباء جو انجینئر نگ کالج میں داخلہ لینا چاہتے ہیں اس با ت کا یقین کرلیں کہ وہ کالج PECسے ضرورمنظور شدہ ہے
دوستو اپنی تعلیم کے دوران اپنی سکلزskillsکو ضرور بڑھائیں خاص کر communicationجو انسان کے اعتماد کی عکاس ہوتی ہے اپنی فیلڈ سے متعلق جو بھی skillsہیں اس کو بڑھائیں کمپیوٹر کی اہمیت ہر فیلڈ میں بڑھتی جارہی ہے اس لیے ٹیکنالوجی سے Updateرہیں۔