قانون کی اعلیٰ تعلیم

سلیم انور عباسی

 قائداعظم محمد علی جناح جو بذاتِ خود ایک قانون دان تھے، نے سیاسی و قانونی جدوجہد سے پاکستان کے خواب کو حقیقت کا رُوپ دے دیا۔ دنیا کا کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا، جب تک قانون اور انصاف کی سب تک رسائی ممکن نہ ہو۔ قانون کی بالادستی اور انصاف کی فوری فراہمی کا تعلق براہ راست امن و امان اور معاشی انصاف پر ہے۔جن معاشروں میں انصاف کا بول بالا رہا،وہی ترقی کے راستے پر گامزن ہوئے۔ آج پاکستان میں عدلیہ فعال ہے اورسب سے اہم پیش رفت یہ ہوئی ہے کہ ا ب سپریم کورٹ آف پاکستان نے لا کالجز کے تعلیمی معیار سے متعلق یہ ہدایت کی ہے کہ آئندہ برس سے ایل ایل بی کا ڈگری کورس پانچ سالہ ہو گا۔ معیار پر پورا نہ اترنے والے لا کالجز سے یونیورسٹیز اپنا الحاق ختم کر دیں۔ پاکستان میں ایل ایل بی کے بعد بظاہر مزید تعلیم حاصل کرنے کی خاص ضرورت نہیں ہوتی،لیکن اگر آپ قانون میں پی ایچ ڈی سند کیخواہاں ہیں تو آپ مزید قانونی تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔

ایل ایل بی، پوسٹ گریجویٹ ڈگری کورس

ایل ایل بی لا پوسٹ گریجویٹ ڈگری کورس میں اصول قانون، اصولِ قانون اسلامی، آئینِ پاکستان، قانون کی تعبیر و تشریح، مسلم پرسنل لا، قانون معاہدہ و بیع، پارٹنر شپ ایکٹ، مرکنٹائل لا، انشورنس، ٹیکس، رینٹ، شہادت، لیبر، کمپنی وغیرہ سے متعلق قوانین کو شامل کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے احکامات سے قبل ایل ایل بی سال اوّل میں چار مضامین پڑھائے جاتے رہے، جن میں تاریخِ عالم کا تقابلی مطالعہ، شریعت لا، حقوقِ انسانی اوراسلامی و مغربی اصول قانون کا تقابلی مطالعہ شامل تھا۔ سال دوم میں صرف دو پیپر پاس کرنا ہوتے تھے۔ طالب علم انٹرنیشنل لا، سماجی قانون سازی، جرمیات (جرائم سے متعلق)، قانونِ شہادت، کمپنی لا اور مضاربت، شپنگ لا، ٹیکسیشن اور لیبر لا میں سے کسی دو مضامین کا انتخاب کرسکتا تھے۔ اس کے علاوہ دو سو مارکس کا تھیسس لکھنا پڑتا تھا۔ تھیسس کا موضوع نصاب میں شامل مضامین سے متعلق ہوتا تھا۔ امتحانات میں مضامین کی یہ ترتیب اب تبدیل ہوگئی ہے۔ سپریم کورٹ کے احکام کے مطابق اب کورس آؤٹ لائن کے مطابق پیپرز کی نئی حکمت عملی نئے سیشن سے شروع ہوگی۔ اگر آپ وکیل بننا چاہتے ہیں تو آپ کسی بھی لا یونیورسٹی میں بطور پرائیویٹ یاریگیولر امیدوار یا پھر آن لائن داخلہ لے سکتے ہیں۔ ایل ایل بی میں داخلے کا معیار کسی بھی یونیورسٹی سے کم از کم، سیکنڈ ڈویژن میں بی اے/بی کام/بی ایس سی ڈگری اور کم از کم 70فیصد مارکس ہیں۔ داخلہ امتحان بھی لازمی شرط ہے، جس کے بعد ہی داخلہ ممکن ہو پاتا ہے۔ ایل ایل بی آنرز کا معیار بھی یہی ہے۔ قانون کی یہ ڈگری آپ کو لیگل ایگزیکٹیو،جج جیسے اہم عہدوں پر فائز کرسکتی ہے۔اعلیٰ تعلیم کے لیے بیرون ملک اسکالر شپ پر بھی جایا جاسکتا ہے۔ اگر آپ اچھے مقرر یا انسانی حقوق کے علم بردار ہیں تو یہ ڈگری آپ کو جرم کے خلاف آواز اٹھانے اور قانون کی بالادستی میں ممد و معاون ہوگی۔
ایل ایل ایم، گریجویٹ ڈگری کورس
ایل ایل ایم لاگریجویٹ ڈگری کورس قانون کے شعبہ جات کی جامع، گہری، ایڈوانسڈ اور اسپیشلائزڈ معلومات مہیا کرتا ہے،جس میں تھیوریز اور پریکٹیکل کے ساتھ سائنسی بنیادوں پر قانونی مضامین اور شعبہ جات کی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس کے خاص موضوعات ایڈمنسٹریٹیو لا،الٹرنیٹ ڈسپیوٹ ریزولوشن، بینکنگ لا، کارپوریٹ لا، کمپیریٹیو/بزنس لاز،کمپنی/کمرشل کانسٹیٹیوشنل لا،کمپیریٹیو انوائرمینٹل لا، کمپیریٹیو ہیومن رائٹس، آئینِ پاکستان، جرمیات، انٹلیکچوئل پراپرٹی لاز، انٹر نیشنل اکنامک لا، انٹر نیشنل ٹریڈ لا، اسلامی قوانین، لیبر قوانین، قانون و سیاست، قانونِ شہادت، لا آف انٹرنیشنل انسٹیٹیوشنز، لا آف ٹیکسیشن ہیں۔ اس ڈگری کے حصول کے لیے داخلے کی اہلیت ایچ ای سی سے تسلیم شدہ تعلیمی ادارے سے بی اے/ایل ایل بی یا مساوی سند،جن میں مضامین پر حاصل شدہ مارکس کا تناسب کم از کم 50فیصد یا سیکنڈ ڈویژن ہو۔سند کیلئےGAT سرٹیفکیٹ بھی ضروری ہے۔یہ کورس 8سسمسٹر پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس سند کے بعد آپ ٹیکسیشن قوانین میں خدمات فراہم کرنے کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں میں کام کرسکتے ہیں۔ ان موضوعات پر دسترس کے بعد آپ کو امریکا، جرمنی، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، روس اور فرانس جیسے بڑے ممالک میں ملازمت کی ضمانت بھی مل جاتی ہے۔ایل ایل ایم کی ڈگری آپ کو محقق اور قانون دان کے مرتبے پر فائز کرسکتی ہیکیونکہ اس میں تحقیق کا طریقہ کار اپناتے ہوئے قانون کے تمام زاویوں سے معاملات کو پرکھا اور حل کیا جاتا ہے۔