سی ایس ایس میں نوجوانوں کا رجحان کیوں نہیں؟

نجم الحسن عطاء

 

ایک زمانہ تھا جب سی ایس ایس پاس کرنے والے طالب علموں کو پاکستان کی ’’کریم‘‘ کہا جاتا تھا۔ پاکستان میں کسی قسم کا بھی انتخاب ہو وہ سو فیصد میرٹ پر نہیں ہوتاالبتہ سی ایس ایس میں میرٹ کا خیال رکھا جاتا تھا لیکن 1980 کے بعد سی ایس ایس میں بھی میرٹ کو نظرانداز کردیا گیا۔ یہ بھی ذہن میں رہے کہ جہاں شہر اور دیہات کے نوجوانوں کو ملازمتوں اور تعلیم حاصل کرنے کے مواقع یکساں میسر نہ ہوں وہاں میرٹ برائے نام رہ جاتی ہے جس سے معاشرہ بند دماغوں سے اٹ جاتا ہے۔ 

پاکستان کے ابتدائی دو اڑھائی عشروں میں سی ایس ایس کے امتحان میں بیٹھنے والوں کے پاس نہ تو کتابوں کیلئے پیسے ہوتے تھے نہ جوتے یا لباس خریدنےکیلئےرقم ہوتی تھی۔ بجلی کے کھمبوں کے نیچےبیٹھ کر طالب علم پڑھتے تھے ۔ خود ٹیوشن پڑھاکر اپنے اور گھر کے اخراجات پورے کرتے تھے اور اسی کے ساتھ CSS کی تیاری بھی کرتے تھے۔ اسی طرح ہائر ایجوکیشن حاصل کرنے والے طالب علم بھی بڑی محنت کرتے تھے، نقل کرنا جرم سمجھا جاتا تھا۔

پاکستان میں نوجوانوں کا تناسب

پاکستان کی آبادی کے تناظر میں آج نوجوانوں کی آبادی تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کا اندازہ یو این او UNO پاپولیشن فنڈ نےلگایا ہے۔ 20 کروڑ آبادی کے ملک میں 63 فیصد نوجوانوں کی آبادی ہے۔ اس میں بھی 58.5 ملین 20 سے 24 سال کے نوجوان ہیں اور 15 برس سے چھوٹے لڑکوںاور بچوں کی عمر کا تناسب 69 فیصد ہے۔ یہ دونوں عناصر رحمت بھی ہیں اور زحمت بھی ہیں۔ اگر ان کو درست تعلیم حاصل نہ ہو اور روزگار کے مواقع دستیاب نہ ہوں، یہ سڑکیں ماپنے والے نوجوان ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں۔ 

پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد کینیڈا، سنگاپور، سوئٹزلینڈ، آسٹریلیا کے علاوہ کئی ممالک سے زیادہ ہے۔ نوجوان معاشرے کی توانائی ہوتے ہیں اور ان کا ترقی میں اہم رول ہوتا ہے۔ ان کی اسکلز اور ان کے رویئے ہی پیش آنےوالے چیلنجز کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔ سرکاری اور نجی شعبے کی ذمہ داری کہ وہ ان کو ملازمتوں اور تعلیم کے مواقع فراہم کرے۔ سرکاری شعبے میں تعلیم زوال پذیر ہے اور نجی شعبے میں یہ تجارت بن گئی ہے۔

تعلیمی نظام اور سی ایس ایس کی صورتحال

چین اور ہندوستان اس کوشش میں ہیں کہ وہ اپنے نوجوانوں کو ’’اسکل فل‘‘ بنائیں اور وہ اس میں کامیاب بھی ہیں۔ ان کے سرکاری اسکول مسابقت میں نجی اسکولوں میں کم نہیں ہیں۔ پاکستان میں تین اقسام کے اسکول ہیں جس سے طبقاتی اور امتیازی سسٹم پیدا ہوگیا ہے۔ سرکاری اسکول تعلیم کا ضیاع ہے اور ٹارچر ہے، چند نجی مہنگے اسکولوں کو چھوڑ کر باقی اسکولوں میں جدید تقاضوںکو پورا نہیں کیا جاتا اس لئے طالب علم گلوبل اور مقامی جاب مارکیٹ میں بہتر ملازمت حاصل نہیں  کرسکتے۔ ہائر ایجوکیشن ایم اے، بی اے کی حالت یہ ہے طالب علموں کی اکثریت ایک اچھی ای میل لکھ نہیں پاتے۔ دوسری جانب دوسری جانب پروفیشنلز امتحانات کا جائزہ لیں تو سب سے اہم امتحانات CSS کے سمجھے جاتے ہیں۔ 

آپ اندازہ کریں کہ گذشتہ برس CSS کے امتحانات کے نتائج نہایت مایوس کن اس لحاظ سے تھےکہ انگریزی کے پرچے میں 94 فیصد امیدوار فیل ہوگئے تھے جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ انگریزی ہی سرکاری زبان ہےچونکہ چاروں  زبانوں اور اردو میں کوئی بڑا کام نہیں ہوا اس لئے وہ جدید تقاضوں کو پورا نہیں کرتیں۔ ماضی میں زیادہ غریب گھرانوں کے نوجوان بڑی محنت کرکے سی ایس ایس کے امتحانات میں بیٹھتے تھے، وہ جاب حاصل کرنے کے بعد دانشوروں، شاعروں، ادیبوں اور مصروں کی عزت کرتے تھے اور سماج میں نام کماتے تھے۔

سی ایس ایس امتحان کی تیاری

یہ مشاہدے میں آیا کہ سی ایس ایس میںاگر دس ہزار اپلائی کرتے ہیں تو ان میں سے 40 فیصد امتحان کے خوف سے بھاگ جاتے ہیں حالانکہ سبھی کو علم ہے کہ 28 سال کی عمر سے پہلے تین چانس سی ایس ایس کے امتحان میں بیٹھنے کے دستیاب ہیں۔ سی ایس ایس میں گروپ اسٹڈی بہتر رہتی ہے، اس میں یہ آسانی ہوتی ہے کہ گروپ میںکسی کو ایک مضمون کے بارے میں زیادہ علم ہے تو وہ دوسرے تک بہ آسانی منتقل کردیتا ہے۔یہ بہتر ہے کہ جو پڑھا جائے اس کا بار بار ٹیسٹ لیا جائے لیکن یہ ذہن میں رکھا جائے کہ سی ایس ایس کا امتحان ایم اے انگلش والوں کیلئے زیادہ موزوںہوتا ہے۔ 

خود سے تیاری کے ساتھ کسی اچھے استاد سے بھی گاہے بہ گاہے مشورہ لینا یا پڑھنا چاہئے۔ پاکستان میں اچھے منتظموں کی ضرورت ہے، اگر وہ ملک و قوم کا خیال رکھے تو انتظامی امور بہتر ہوسکتے ہیں۔ ٹائون پلاننگ اور انوائرمنٹل سائنسز جدید مضامین ہیں، اس پر زیادہ دھیان دینا چاہئے۔ امید کی جاتی ہے کہ مستقبل میں اچھے منتظم سامنے آئیں گے۔