صلاحیتیں جو کرئیر بنانے کے لیے ضروری ہیں

رحمان محمود خان

اگر آپ کسی تعلیمی ادارے میں اب نہیں رہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب مزید کچھ نیا سیکھنا نہیں چاہئے۔ درحقیقت تعلیم سے فراغت اور ملازمت کے حصول کے بعد اکثر لوگ تن آسانی اختیار کرتے ہوئے بہت سی ایسی صلاحیتوں سے منہ موڑ لیتے ہیں جو زندگی میں کامیابی کے لیے بہت ضروری ہوتی ہیں اور ان کا حصول کچھ زیادہ مشکل بھی نہیں ہوتا۔اس حوالے سے اکثر ماہرین اپنی آرا دیتے رہتے ہیں جن میں سے ہم نے کچھ کا انتخاب کیا ہے۔درج ذیل میں زندگی کی ان صلاحیتوں کا ذکر کیا جارہا ہے جن میں مہارت ہر اس شخص کے لیے ضروری ہے جو کرئیر میں ترقی کا خواہشمند ہو:
 کس طرح دیانتداری کا مظاہرہ کیا جائے
اگر آپ کسی سے طے شدہ ملاقات میں تاخیر کا شکار ہو تو اس کا الزام ٹریفک جام یا کسی اور چیز کے سر پر نہ ڈالیں۔ بس اس فرد سے معذرت کرلیں اور زیادہ تفصیلات میں مت جائیں کیونکہ وضاحتیں اور بہانوں سے اپنی ساکھ کو خطرے میں ڈالنے کی بجائے سادہ الفاظ میں معذرت کرلیں جو کہ دوسرے فرد پر آپ کی شخصیت کا اچھا اثر ڈالے گا۔
 تنقید کو کیسے برداشت کریں
کوئی بھی اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اسے بتایا جائے کہ اس نے غلط کام کیا ہے یا اسے یہ کام زیادہ موثر طریقے سے کرنا چاہئے تھے۔ یہ بہت آسان ہے کہ کسی فرد کی تنقید پر سخت ردعمل ظاہر کیا جائے یا اسے مکمل طور پر نظر انداز کردیا جائے، مگر زندگی میں کامیابی کے لیے تنقید کو قبول کرنا پڑتا ہے اور ہمیشہ مثبت انداز سے ردعمل ظاہر کرنا ہوتا ہے اور کبھی یہ ہیں سوچنا چاہئے کہ یہ لوگوں کی بیماری ہے جو وہ آپ کی غلطیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔
کیسے دلچسپ بات چیت شروع کی جائے؟
بات چیت کو بڑھانا ممکنہ طور پر سب سے زیادہ نظر انداز کی جانے والی صلاحیت ہے اور ایک شرمیلے شخص کیلئے تو ایسا کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ تاہم اگر آپ ہمت کرکے اپنے ساتھ بیٹھے افراد کی کسی بحث یا بات چیت میں حصہ ڈال سکیں تو اس کا اختتام کسی نئے دوست، ایک کاروباری تعلق یا کسی اور بہتری کی شکل میں ہوسکتا ہے۔
ضرورت کی چیز کو کیسے مانگا جائے؟
 کسی چیز کو مانگنے کی صلاحیت آپ کے کرئیر کو بہت آسانی سے آگے لے جاسکتی ہے تاہم اگر آپ کے اندر تنخواہ میں اضافے، ترقی یا بڑی ڈیل ی ہمت ہی نہ ہو تو کچھ بھی حاصل ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں رہتا۔ اگر کسی چیز کی درخواست کا خیال آپ کیلئے گھبراہٹ کا باعث بنتا ہے تو اس کی مشق دفتر سے باہر کرنے کی کوشش کریں، مثال کے طور پر کسی دکان والے سے کم قیمت پر اشیاءدینے کا کہہ، آپ جتنا خود کو غیر اطمینان بخش صورتحال میں ڈالیں گے اتنا ہی آپ کو اندازہ ہوگا کہ یہ اتنی بھی غیر اطمینان بخش نہیں۔ 
اپنے وعدوں کو کیسے پورا کریں؟
ہوسکتا ہے کہ آپ نے اپنے دوست کو کہا ہو کہ آپ اس کی کسی تقریب میں آئیں گے یا آپ نے دفتر کا کوئی اضافی کام کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، صورتحال جو بھی آپ کو اپنے الفاظ پر پورا اترنے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔ وعدہ خلافی لوگوں کا آپ پر اعتماد اور اعتقاد کو بھی ختم کردیتا ہے اور ان کا یہ تاثر وقت گزرنے کے ساتھ مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔
کیسے موثر انداز سے بات چیت کی جائے؟
آپ کسی بھی شعبے میں کام کررہے ہو، بولنے اور لکھنے کو ہمیشہ بہتر بنانے کی کوشش کی جانی چاہئے، اس کیلئے آپ اپنے لیے خود کو چیلنج دینے والے راستے سوچیں اور کچھ سمجھ نہ آئے تو ایک ای میل یا میٹنگ کے نوٹس ہی لکھنا شروع کردیں۔اسی طرح ٹیم میٹنگ میں اپنے خیال یا آئیڈیا پر بات چیت نہ کرنا اسے پیچھے ڈھکیل سکتا ہے، اس کے مقابلے میں پانچ تک گنتی گنیں اور پھر بولنا شروع کردیں۔ اگر آپ شرمیلی فطرت کے حامل ہیں تو خاموش رہنے کی بجائے اپنے خیالات کو الفاظ کی شکل میں زبان سے بولنے کا چیلنج لیں۔ کیسے ہر قسم کے حالات سے مطابقت پیدا کریں:زندگی میں اچانک نقصانات، اداسی اور پریشانیاں تو آتی رہتی ہیں اور آپ کو سمجھنا ہوگا کہ کیسے آپ مشکل وقت پر خود کو منفی سوچ سے باہر لاتے ہیں۔ عمر کی تیسری دہائی وہ وقت ہوتا ہے جب انسان ذمہ داریوں سے آزاد ہوتا ہے ،اس لیے یہ وقت تجربات، ناکامی اور پلٹ کر پھر کامیابی کے حصول کیلئے بہترین ہوتا ہے، اس سے آپ کو ناکامی اور اس کے بعد صورتحال پر خود پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے۔
اچھے آداب کا اظہار کیسے کریں؟
اکثر دفتری امور کھانے کی میز پر طے ہوتے ہیں، تو اس موقع پر بلند آواز میں چبانا، پورا منہ کھول کر کھانا، انگلیاں چاٹنا، میز پر کہنی ٹکانا درحقیقت عام آداب اور سماجی صلاحیتوں کی کمی کا اظہار کرتا ہے جس کا نتیجہ منفی تاثر کی شکل میں نکلتا ہے۔ غصے کو کیسے کنٹرول کریں:غصہ آنا ایک فطری امر ہے تاہم اسے اپنے ارگرد موجود افراد پر نکالنے کی بجائے مثبت سمت کی جانب لے جانا زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ آپ کا غصہ آپ کو ناقابل یقین کام کرنے میں بھی مدد فراہم کرسکتاہ ے، بس آپ کو اپنے غصے کو کنٹرول کرنے میں مہارت حاصل کرنا ہوگی۔ اپنی آمدنی کے مطابق زندگی گزارنا: پرتعیش زندگی بری نہیں تاہم اس صورت میں جب آپ اس کے متحمل ہوسکتے ہو، خود کو کسی ایسے طرز زندگی کیلئے غلام مت بنائیں جو عارضی ثابت ہو، اپنی آمدنی کے مطابق اعتدال سے زندگی گزاریں اور بچت کریں، اور اپنی حد کے مطابق ہی چیزیں لینے کی کوشش کریں۔
اگرآپ کو یہ رپورٹ پسند آئی؟اگر آپ بھی کوئی تبصرہ یا رپورٹ لکھتے ہیں تو آپ ہمیں اس ای میل پر رابطہ کریں،اس کے علاوہ آپ ہمیں اپنے آرٹیکلز(مضمون)اردو کمپوزنگ کے ساتھ بھیج سکتے ہیں۔
peghaamnews@gmail.com