”کیریئر پلاننگ“ آٹھویں جماعت کے بعد!

فاروق احمد انصاری

آٹھویں جماعت کے طالب علم شعور وادراک کی منزلیں تیزی سے طے کرنے لگتے ہیں۔ وہ صرف تعلیم ہی نہیں بلکہ زمانے اور اپنے ارد گرد ہونے والی تبدیلیوں اور ترقیوں کا زیادہ بہتر انداز سے مشاہدہ کرنے لگتے ہیں اور ان کی سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیتیں ان کو نت نئی راہیں دکھا تی ہیں۔یہی وقت ہوتاہےان کے فیصلہ کرنے کا کہ انہیں اب آگے کیا پڑھنا ہے ؟کیا بنناہے ؟ ان کے خواب کیا ہیں ؟ ان کا رحجان کس طرف زیادہ ہے؟ ان سوالوں کا جواب انھیں کیریئرکے لیے بہتر پلاننگ کرنے کے قابل بناتا ہے۔

تیاری ابھی سے شروع کریں

بحیثیت آٹھویں جماعت کے طالب علم، آپ کے ذہن میں سوال اٹھتاہوگاکہ آٹھویں جماعت کے امتحان میں اچھے نمبر لانے سے آپ کے مستقبل کے پیشے کا کیا تعلق ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ تعلیمی زندگی کا یہ مرحلہ ہر طالب علم کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے۔ آپ سیکنڈری سکول کے امتحانات میں جو نمبر حاصل کرتے ہیں، اس کی بنیاد پر دیکھا جاتا ہے کہ کن مضامین میں آپ اچھے ہیں اور کن میں بہتری کی گنجائش ہے، ان ہی نمبروں کی بنیاد پر آپ کی کارکردگی جو جانچا جاتا ہے۔ سیکنڈری سکول کی کارکردگی سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ آپ کس قسم کے طالب علم ہیں اور وہ کون سے شعبے ہیں، جہاں آپ کو اپنی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ یہ جانچ اور جائزہ ہر ایک کے لیے مفید ہوتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ فائدہ طالب علم کو ہوتا ہے کہ وہ ان مضامین اور شعبوں پر توجہ دے کر اور محنت کرکے اپنی کارکردگی کو بہتر بنانے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ جو شعبے کمزور نظر آرہے ہیں اس پر آپ اپنے والدین اور اساتذہ سے مشورہ کرسکتے ہیں کہ ان مضامین میں اچھے نمبر حاصل کرنے کے لیے مزید کیا کرنا چاہیے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپ ابھی سے تیاری شروع کردیں۔

کون سے مضامین میں آپ کی دلچسپی ہے؟

آٹھویں کے بعد ہی آپ کو فیصلہ کرناہوتا ہے کہ آپ سائنس لیں گے، کامرس یا پھر آرٹس! اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ سائنس میں میٹرک کرکے آپ انجینئر نگ یامیڈ یکل کالج میں داخلہ لے سکتے ہیں تو آپ کو کیمسٹری ،فزکس اور میتھ کو بہت جذبے اور دلچسپی سے پڑھنا ہو گا۔ اس ضمن میں آپ سائنس میگزین یا اخبار ات میں شائع ہونے والے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ایڈیشنز کا مطالعہ کریں تو یہ مستقبل میںآپ کے بہت کام آئیں گے۔سکول میں پڑھائے جانے والے مضامین کے علاوہ بھی آپ کو جو دیگر مضامین یا مشغلے اچھے لگتے ہیں، ان کے بارے میں مطالعہ کریں اور اپنی دلچسپی کے مضامین اور مشغلوں کے بارے میں تازہ ترین حالات سے واقف رہیں۔

مطالعہ، سیکھنے کا بہترین طریقہ

کتابوں کے مطالعے کو پہلی ترجیح دیں کیونکہ یہ صرف سکول میں ہونے والے امتحانات میںاچھے نمبر حاصل کرنے کے لیے ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر موڑ پر عمدہ فیصلہ سازی کے لیے بھی ضروری ہے۔ مطالعے اور پڑھائی کی اچھی عادتیں پروان چڑھ جائیں تو وہ زندگی بھر کام آتی ہیں اور آگے بڑھنے میں مدد دیتی ہیں۔ پڑھنے لکھنے کا عمل سکول میں ختم نہیں ہوجاتا بلکہ یہ کالج، یونیورسٹی اور اس سے آگے پیشہ ورانہ زندگی میں بھی جاری رہتا ہے۔

ہوم ورک لازمی کریں

سکول سے ملنے والا گھر کا کام یا ہوم ورک اکثر بچوں کو بوجھ لگتا ہے لیکن ہوم ورک مکمل کرنا، بطور طالب علم آپ کی پڑھائی کا فریضہ ہے۔ ہوم ورک کرتے ہوئے آپ کو پڑھنے اور سیکھنے کا ایسا موقع ملتا ہے، جس میں بظاہر کوئی آپ کی نگرانی نہیں کرتا۔ جب آپ پڑھائی مکمل کرکے پیشہ ورانہ زندگی میں داخل ہوں گے تو وہاں آپ کو اکثر کام کسی کی نگرانی کے بغیر خود ہی کرنے ہوں گے اور یہیں ہوم ورک خود سےکرنے کی عادت آپ کے بہت کام آئے گی۔

پیشہ ورانہ کیریئر کے بارے میں جانیے

آٹھویں جماعت سے آپ کو یہ جستجو شروع کر دینی چاہیے کہ کون سے کام آپ کو اچھے اور دلچسپ لگتے ہیں۔ گھر میں والد ، والدہ ، ملازمت یا کاروبار کرنے والے بڑے بھائی بہن، قریبی رشتے داروں اور دوستوں کے والدین کے پیشوں کے بارے میں جانیے، اس سے یہ پتہ چلے گا کہ کون سے پیشوں میں آپ کو دلچسپی ہوتی ہے کہ آگے چل کر آپ بھی یہی کام کریں۔ تعلیم اور عمر کے اس دور میں آپ پیشہ ورانہ کاموں کے بارے میں جتنا زیادہ جاننے کی کوشش کریں گے، آگے کی تعلیم میں اپنی پسند، صلاحیتوں اور رجحان کے مطابق مضامین منتخب کرنے اور عملی زندگی میں اپنی پسند کا کیریئرمنتخب کرنے میں آپ کوکوئی مشکل نہیں ہوگی، آپ اطمینان کے ساتھ اپنے کیریئر کی سیڑھیاں کامیابی سے چڑھتے چلے جائیں گے۔
(بشکریہ روزنامہ جنگ)