پیپلز پارٹی کے 'سیاسی قبلے' لاڑکانہ میں دراڑیں پڑنے کا امکان

لاڑکانہ کو پیپلز پارٹی کے 'سیاسی قبلے' کی حیثیت حاصل ہے جہاں سے گزشتہ کئی دہائیوں سے پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈر ہی کامیاب ہوتے آئے ہیں، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو کا بھی یہ حلقہ انتخاب رہا ہے، شاید یہی وجہ ہے کہ پی پی پی کے نوجوان چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بھی اپنی زندگی کا پہلا الیکشن اسی حلقے سے لڑ رہے ہیں۔ ایک عام تاثر ہے کہ لاڑکانہ چونکہ پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے، اس لیے یہاں اسے شکست دینا ناممکن ہے لیکن حالیہ عام انتخابات میں حقائق اس کے برعکس دکھائی دیتے ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے کہ لاڑکانہ جیسے شہر میں پیپلز پارٹی کو مقابلے کا سامنا ہے اور قومی و صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر اسے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس اور تحریک انصاف کی شکل میں مخالفت کا سامنا ہے۔ اسی طرح متحدہ مجلس عمل، لاڑکانہ اتحاد اور ناراض کارکنان کی شکل میں مخالفین کی ایک مضبوط طاقت بھی ابھر کر سامنے آئی ہے جو شہر میں پیپلز پارٹی کی حکمرانی کے سورج کو غروب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ لاڑکانہ میں قومی اسمبلی کی 2 اور صوبائی اسمبلی کی 4 نشستیں ہیں، قومی اسمبلی کی ایک نشست این اے 200 پر بلاول بھٹو زرداری میدان میں ہیں جن کا مقابلہ متحدہ مجلس عمل کے راشد محمود سومرو کر رہے ہیں اور دونوں امیدواروں کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے، اسی نشست پر تحریک انصاف کی حلیماں بھٹو بھی میدان میں ہیں جو مقابلے میں ڈینٹ ڈال سکتی ہیں۔ نئی حلقہ بندیوں سے قبل یہ نشست این اے 207 تھی جس میں لاڑکانہ سمیت قمبر شہداد کوٹ کے بعض علاقے بھی شامل تھے تاہم اب یہ حلقہ تعلقہ رتو ڈیرو اور تعلقہ لاڑکانہ پر مشتمل ہے، گزشتہ انتخابات میں اس حلقے سے سابق صدر آصف علی زرداری کی ہمشیرہ فریال تالپور کامیاب ہوئیں جبکہ 2008 کے انتخابات میں بھی وہ بلامقابلہ منتخب ہوئی تھیں، تاہم ان کی گزشتہ 10 سالہ کارکردگی سے بیشتر مقامی افراد مطمئن نہیں جس کا اثر بلاول بھٹو کی انتخابی مہم پر پڑ سکتا ہے۔ بلاول بھٹو اور ان کے مدمقابل راشد محمود سومرو دونوں کی انتخابی مہم کے لیے شہید کارڈ استعمال کیا جارہا ہے اور شہر کی مختلف سڑکوں اور دیواروں پر چسپاں پوسٹرز اور پینا فلیکس پر امیدواروں کے ساتھ ساتھ بے نظیر بھٹو اور خالد محمود سومرو کی تصاویر نمایاں ہیں، جو اس جانب اشارہ ہے کہ ووٹ دینے سے قبل شہداء کو ضرور یاد رکھیں۔