پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم پر اختلافات، جمہوری عمل کیلئے مثبت اشارہ؟

ملک کے طول و عرض میں عام انتخابات 2018 کی گونج ہے اور سیاسی جماعتیں بھرپور انداز میں تیاریوں میں مصروف ہیں۔ کہیں انتخابی منشور بتائے جارہے ہیں، کہیں دعوے کیے جارہے ہیں، کہیں کارکردگی گنوائی جارہی ہے تو کہیں تبدیلی کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں۔ لیکن ان سب صداؤں میں سب سے بلند ان سیاسی کارکنوں اور وفاداروں کی آواز ہے، جنہیں پارٹی ٹکٹ نہ ملنے پر قیادت سے شکوہ ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم سب کو ہی ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں میں ٹکٹوں کی تقسیم پر اعتراضات، اختلافات اور جھگڑوں کی خبریں آئے روز سننے کو مل رہی ہیں۔ ایک طرف پرانے اور جدوجہد کرنے والے سیاسی کارکنوں کو نظر انداز کرکے امراء، بڑے زمینداروں، سرمایہ داروں اور بااثر شخصیات کو پارٹی ٹکٹ جاری کرنے پر سیاسی جماعتوں کے اندر شدید اختلافات سامنے آرہے ہیں، تو دوسری جانب تجزیہ کار اسے مثبت اشاریہ اور سیاسی جماعتوں میں عوام کی مقبولیت سے تشبیہہ دے رہے ہیں۔ انتخابی ٹکٹوں کی تقسیم میں سب سے زیادہ اختلافات تحریک انصاف میں موجود ہیں، جہاں کارکنان اور عہدیداران اپنے چئیرمین کے لیے درد سر بن گئے ہیں۔ پی ٹی آئی کارکنوں نے بنی گالا میں واقع عمران خان کی رہائش گاہ کے باہر ڈیرہ ڈال رکھا ہے، جبکہ کئی شہروں میں بات جھگڑوں تک جاپہنچی ہے۔ ایسے میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پارلیمانی بورڈ کے ساتھ مل کر میرٹ پر ٹکٹس دینے سے متعلق فیصلے کیے، اس لیے کسی کے کہنے پر وہ اپنا فیصلہ تبدیل نہیں کریں گے۔ پارٹی ٹکٹوں پر اعتراضات اور اختلافات سے ایک پہلو یہ نکلتا ہے کہ کسی جماعت کی عوام میں مقبولیت بڑھ رہی ہے، تجزیہ کار دوسری جانب مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما، سابق وزراء اور کارکنان بھی ٹکٹوں کی تقسیم کو بندر بانٹ قرار دے کر قیادت کے خلاف سراپا احتجاج ہیں اور ن لیگ کے ناراض رہنما چوہدری نثار الگ کھری کھری باتیں کر رہے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وزراء، کارکنان اور کئی رہنما بھی منظورِ نظر افراد کو ٹکٹ دینے پر نالاں نظر آتے ہیں اور سابق اراکین اسمبلی آزاد امیدوار کی حیثیت سے انتخاب لڑنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اُدھر ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت کے آپس کے اختلافات نے بھی پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل کو متاثر کردیا اور جلد بازی میں بھرے گئے فارمز میں غلطیاں بھی انہیں میدان سے باہر کرنے کا باعث بن گئیں، جس کے باعث ایم کیو ایم رہنماؤں میں مایوسی نظر آرہی ہے۔ اس تمام صورتحال میں سیاسی تجزیہ کار پروفیسر توصیف احمد کہتے ہیں کہ پارٹی ٹکٹوں پر اعتراضات اور اختلافات سے ایک پہلو یہ نکلتا ہے کہ کسی جماعت کی عوام میں مقبولیت بڑھ رہی ہے اور لوگ اُس پارٹی کا ٹکٹ حاصل کرنا چاہتے ہیں، دوسری طرف جس پارٹی نے اپنے کارکنان کو شفاف نظام کے لیے تیار کیا، لیکن ٹکٹ مجبوری کے تحت وہی پرانی روایت پر دیئے، وہاں اب شفافیت کے عمل کا مطالبہ جڑ پکڑ رہا ہے کہ انتخابی ٹکٹ کی تقسیم سمیت ہر عمل شفاف ہونا چاہیے اور پارٹی کے اندر بھی اس بات کا احتساب کیا جانا چاہیے۔ پروفیسر توصیف کہتے ہیں کہ 1985 سے سیاست میں رہنے والے کئی سیاسی خاندان تحریک انصاف میں شامل ہوئے لیکن سب کو ٹکٹ نہ مل سکے تو وہ بھی مایوس ہوئے۔ دوسری جانب یہ صورتحال ہے کہ پیپلز پارٹی کو پنجاب میں ٹکٹ دینے کے لیے امیدوار نہیں مل رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام سیاسی کارکن کی جانب سے شفافیت کا مطالبہ سیاسی جماعتوں کی مقبولیت کے ساتھ ان کے لیے ایک چیلنج بھی ہے، جو جمہوری عمل کے لیے مثبت ثابت ہوگا۔ الیکشن میں یہی کوئی ایک مہینہ رہ گیا ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں اپنے اندرونی اختلافات کو کس انداز میں ڈیل کرتی ہیں اور خود کو عام انتخابات کے لیے موزوں جماعت کے طور پر متعارف کرواتی ہیں۔ x