گدھے

عنوان: گدھے
تحریر:نوید اسلم ملک
وہ اردو صحافت کے نامور کالم نگار ہیں،کئی کتابوں کے مصنف ہیں،وطن عزیز میں ان کا اعلی مقام ہے،میرے استادوں کے بھی استاد یعنی میرے دادا استاد ہیں،کئی ممالک کی سیر و تفریح کر چکے ہیں۔بے شمار یونیورسٹیوں میں ان پر تحقیقی مقالے لکھے جا چکے ہیں۔سرکار سے بھی کئی ایوارڈز سے نوازے گئے ہیں۔میں مانتا ہوں کہ وہ اس کے حق دار ہیں۔پاکستانی صحافت میں ان کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔وطن عزیز کے سرکاری ٹی وی چینل کے چیئرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں۔میں ان کا مداح ہوں اور میری دیرینہ خواہش ہے کہ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر، چند ساعتیں ساتھ گزاروں اور محب اور محبوب والی شیریں باتیں کروں،خدا نے چاہا تو میری یہ تمنا بھی اک روز پوری ہوگی۔
چند روز قبل کچھ نوجوان ان کو زیر بحث لاکر تنقیدی گفتگو کر رہے تھے۔جس کی بنیاد ان کے چار کالمز کو بنایا گیا تھا۔آپ پہلے ان کالمز کا مختصر سا تعارف ملاحظہ فرمائیے۔انہوں نے اپنی ایک تصویر سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اس کیپشن  کے ساتھ ڈالی کہ   "مجھے سیگریٹ نوشی سے نفرت ہے،اس کی وجہ سے میری صحت کو بہت نقصان پہنچا ہے،میں کوشش بھی کر رہا ہوں اس سے چھٹکارا پانے کی مگر آپ کی دعاؤں کی بھی ضرورت ہے۔''اس پوسٹ کے کمنٹس،ان کے تین کالمزکا مواد ثابت ہوئے۔اس کے بعد انہوں نے ایک کالم لکھا کہ جس کا آغاز کچھ یوں تھا '' آج میں کالم نہیں دے رہا لیکن کالم سے بہتر چیز پیش کر رہا ہوں جو میں نے فیس بک سے اٹھائی ہے۔ واضح رہے یہ بالکل غیر سیاسی ہے، ملاحظہ فرمائیں۔'' اس کے بعد کالم کا سارا مواد فیس بک سے اٹھائی گئی  مذاحیہ پوسٹ ''نیوٹن اور سلطان راہی کے درمیان رابطہ پر مشتمل تھا ''  ان چار کالمز پر تنقید ہورہی تھی کہ اگر اسے لکھنا کہتے ہیں تو کوئی بھی لکھ سکتا ہے۔نوجوانوں میں سے ایک نے کہا کہ ان بابوں کو ریٹائرمنٹ لے لینی چاہئیے تاکہ نئے لکھنے والوں کو موقع ملے اور کچھ نیا لکھا جا چکے۔میں ان کی یہ گفتگو سنتے سنتے گویا ہوا کہ  آپ لوگوں سے میرا ایک سوال ہے کہ تم جس بندے پر بحث کر رہے ہو،کیا اس کے متعلق جانتے ہو؟تمہیں ان کی اچیومنٹس معلوم ہیں؟وہ سب خاموش تھے اور میری زبان سے بے ساختہ نکل گیا کہ تم جیسے نوجوان گدھے ہیں اور ہر وہ نوجوان گدھا ہے جو کہتا ہے کہ سینئیر موقع نہیں دیتے۔۔۔(جاری ہے)