ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر علی ساجد

ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر علی ساجد یو ای ٹی، لاہور سے گریجویٹ مکینیکل انجینئر ہیں۔ انہوں نے  انجینئرنگ مینجمنٹ میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی کی ڈگری امریکہ سے کی۔موصوف تمغہ امتیاز حاصل کر چکے ہیں۔UETاورNUSTکے سابق پروفیسر ہیں۔علاوہ ازیں LMDA-Management Consultants کے بانی اور سی ای او ہیں۔نوید اسلم ملک نے ''پاکستان کا نظام تعلیم اورآج کا نوجوان''کے عنوان پر ڈاکٹر علی ساجد سے CareerKarwan کے لیے انٹرویو کیا۔جو قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)
پاکستان کے نظام تعلیم کو کیسا دیکھتے ہیں؟
ڈاکٹر علی ساجد:  ہمارے ہاں یونیورسٹیوں میں اضافہ ہو رہا ہے لیکن بدقسمتی سے عصر حاضر کے جدید تعلیمی نظام اور مارکیٹ کے معیار کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جا رہا۔بچوں کو پریکٹکلی ہماری سرکاری یونیورسیٹیز نہیں سکھا رہیں۔اس کی کئی وجوہات ہیں،وقت کے ساتھ ساتھ سلیبس میں جدت نہیں لائی گئی،پروفیسرز کو دور حاضر کے جدید تعلیمی تقاضوں سے روشناسی نہیں کروائی گئی اور دنیا میں نئے ابھرتے ہوئے ٹرینڈز کو فوکس نہیں کیا گیا۔ روایتی سوچ،جس میں رٹا مار کر،میموری ٹیسٹ سے امتحان پاس کروا کر،تھیوری پڑھا کر،بچے کو مارکیٹ میں پھینک دیا جاتا ہے،بچے میں اعتماد نہیں ہوتا،نوکریاں ڈھونڈ رہا ہوتا ہے،سفارش کرواتا ہے،بہت ضروری ہے کہ بچوں کو خود اعتمادی دی جائے،اپنے کاروبار کا آغاز کرنے کی تعلیم اسکول،کالج اور یونیورسٹیوں میں دی جائے، فنی، تخلیقی اور ہر کارآمد و ضروری حوالے سے ہنر مند بنایا جائے۔
اگر ادارے یہ تعلیم نہیں دے رہے تو کیسے ہم نوجوان کو اس قابل بنائیں؟
ڈاکٹر علی ساجد:  اس کے لیے نوجوان اپنی اسکلز کو بہتر کریں،چھوٹی چھوٹی اسائنمنٹس پکڑیں اور پوری کریں، خود دفاتر میں جا کر کام کریں،چھوٹے چھوٹے پراجیکٹس پکڑیں،اس میں شروع میں بے یقینی ہوتی ہے، جن کو اپنے آپ پر اعتماد ہو،وقت کے ساتھ ساتھ، ان کے چھوٹے چھوٹے بزنس،  بڑے بڑے پراجیکٹس میں بدل جاتے ہیں، تو میں سب کو تجویز کروں گا کہ نئے ابھرتے ہوئے ٹرینڈز کو دیکھیں،مختلف اقسام کے ضروری نوعیت کے چھوٹے کورسز کریں اور سیکھیں جدید معلومات حاصل کریں۔
نوجوان انٹرن شپ نہیں کرتے لیکن جاب کرنا چاہتے ہیں۔کیا ایسے ممکن ہے؟
ڈاکٹر علی ساجد:  دیکھیں جس طرح اسکول،کالج یا یونیورسٹی جاتے ہیں،فیس دیتے ہیں،پیٹرول لگتا ہے اور بھی آنے جانے میں اخراجات ہوتے ہیں، اسی طرح انٹرن شپ بھی اس پڑھائی کا حصہ ہے، ان کو ذہنی طور پر تیار رہنا ہوگا کہ کم از کم چھ ماہ کہیں سیکھنے کی غرض سے کام کریں، ایسے ہی  جیسے وہ تھیوری پڑھنے کے لئے جاتے تھے۔دفتروں میں بیٹھ کر،باس سب کچھ دیکھ رہا ہوتا ہے، وہ دیکھ رہا ہوتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے،کتنا ٹائم کام کر رہا اور کتنا فضول میں وقت ضائع کر رہا ہوتا ہے۔اس طرح کامیابی اور نوکری نہیں ملتی اور نہ  ہی رہتی ہے۔اپنا آپ مارنا پڑتا ہے خود کو کھونا پڑتا ہے۔اپنے وجود کو ادارے میں ضم کرنا پڑتا ہے۔اگر یہ کام کوئی نہیں کرنا چاہتا ہوتا تو وہ نوکریاں ڈھونڈتا رہے گا لیکن اسے کوئی کام نہیں دے گا۔یہ چھ مہینے صبر کا پیریڈ ہے۔کافی کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ اپنی شخصیت پر کام کرے،خود کو بدلے اور قابل بنائے۔دفتری اسٹائل کو سمجھے اور اپنائے، ٹرینگ کو فالو کرے،میرے پاس جو لوگ انٹرن شپ کرنے آتے ہیں  ،  میں انہیں   Groom کرتا ہوں،سکھاتا ہوں، ان میں سے جن کا رویہ اچھا ہوتا ہے،انہیں جاب پر رکھ لیتا ہوں  ۔اگر انٹرن شپ ایمانداری سے کی جائے تو زیادہ چانسز ہیں کہ آپ کو وہی ادارہ جاب کی آفر دے دے۔
کرئیر کونسلنگ اور موٹیویویشنل اسپیکرز کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ڈاکٹر علی ساجد:  جب نوجوان تعلیم مکمل کر کے یونیورسیٹی سے نکلتا ہے تو مارکیٹ میں جب نوکری و عزت نہیں ملتی تو وہ آہستہ آہستہ مایوس ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اب مایوسی کو ختم کرنا، اچھی سوچ سے، سوچ میں توانائی دے کر، سوچ میں تبدیلی لا کر، خود اعتمادی کے ساتھ، میں تجویز کروں گا کہ اچھی کتابیں پڑھے، اچھا نالج سیکھے۔
 کاروبار کیسے شروع کریں؟ 
ڈاکٹر علی ساجد:  جو کامیاب لوگ ہیں ان سے مشورے کرے۔اب انٹرنیٹ بزنس مقبول ہے پوری دنیا میں، لوگ فیس بک پر اشتہار دیتے ہیں،اپنی اسکلز مہیا کرتے ہیں یا دوسروں سے لیتے ہیں، خواتین بھی یہ کر سکتی ہیں، گھر رہ کر، میں ایسی بچیوں کو جانتا ہوں، جو میری طالبات تھیں،انہوں نے ڈگریاں لے کر بھی کاروبار کیا، آرٹیفیشل جیولری لیتی تھیں۔سستی خرید کر آن لائن مہنگی بیچتی تھیں۔ فیس بک پر تصویر ڈالتی تھیں۔اس ڈلیوری کے لیے ایک لڑکا رکھا ہوتا تھا۔ جو متعلقہ کسٹمر تک پروڈکٹ پہنچا دیتا تھا۔اس طرح کے نئے نئے آئیڈیاز تلاش کرتے رہیں،سوچتے رہیں اور کرتے رہیں کچھ نہ کچھ، اللہ سے دعا بھی کرتے رہیں،وہ برکت ڈالتا ہے۔
آج تک کبھی مایوس ہوئے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا؟
ڈاکٹر علی ساجد:  شیطان اس طرح کے وسوسے ضرور ڈالتا ہے لیکن آپ قوت یقین کے ساتھ،اللہ کی ذات پر توکل کے ساتھ اور اعتماد کے ساتھ جب مارکیٹ میں آتے ہی  تو اللہ تعالی کی مدد ،  رحمت ،  برکت و نصرت سایہ بن کر سر پر آجاتی ہے۔لوگ اس پر اعتبار نہیں کرتے۔وہ سمجھتے ہیں کہ شاید یہ سب افسانی باتیں ہیں۔بعض صورتوں میں مجھے بڑی بڑی اچھی جگہوں سے پیش کشیں آئی۔ وائس چانسلر کی آفر آئی لیکن میں نے جوائن نہیں کیا۔میں نے کہا کہ میں نے نوکری کرنی ہی نہیں۔میرے اسٹوڈنٹس بے شمار ہیں۔جن میں سی ایسی ایس آفیسرز۔ڈی ایم جی آفیسرزبھی شامل ہیں۔ یہ سب اب بھی آتے ہیں، میرے لیے بڑا آسان تھاکہ میں کسی بھی اچھی یونیورسٹی میں نوکری کر لیتا۔امریکہ میں ایک یونیورسٹی میں پڑھاتا تھا،وہ چھوڑ کرمیں ادھر آیا ہوں تو کمفرٹ لائف چھوڑ کر جب آپ چیلنج لائف میں داخل ہوتے ہیں تو اللہ تعالی کی رضا آتی ہے۔جب آپ معاشرے میں ویلیو ایڈ کرنے لگ جاتے ہیں   تو اللہ تعالی کی برکت آپ کے اوپر ہوتی ہے۔کچھ بڑا کرنے کے لیے اپنے کمفرٹ ذون سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔
نوجوان کمفرٹ ذون سے باہر نکلنا نہیں چاہتا لیکن کامیابی حاصل کرنا چاہتا ہے۔کیا ایسے ممکن ہے؟
ڈاکٹر علی ساجد:  نہیں نہیں اس طرح ممکن نہیں،قدرت کے بہت واضح پیغامات ہیں کہ جو صحیح چلے گا میں اس کو نوازوں گا اور جو جتنا گڑھ ڈالے گا۔اتنا میٹھا ہوگا۔ آپ بی بی حاجرہ والا واقعہ دیکھیں۔انہوں نے کتنے چکر لگائے تھے۔پانی کی تلاش میں، خدا کو، وہ اتنا پسند آیا کہ  وہاں سے پانی کا لازوال خزانہ نکل پڑا، جو ابھی تک چل رہا ہے اور اس سے پہلے پانی کا نام و نشان تک نہیں تھا۔تو قدرت خو دسے کرتی ہے۔جب آپ توکل کے ساتھ ٹکریں مارتے ہیں۔دعا کریں۔کوششیں کریں۔قرآن پاک میں اللہ تعالی فرماتا ہے " انسان کے لیے وہی کچھ ہے جس کی اس نے کوشش کی"۔اس میں کہیں بھی راز،عقیدے،جنس یا کسی اور تفریق کا ذکر نہیں ہے۔آپ جس بھی عقیدے کے مالک ہو ں ،  ٹکریں مارنا، کوشش کرنا لازمی ہے، اگر آپ یہ نہیں کرتے تو کامیابی آسان نہیں۔پھر ٹکروں کے لیے بھی لوگوں سے مشاورت کریں۔جستجو برقرار رکھیں۔مجھے سورت آل عمران کی تین آیات کا ترجمہ یاد آرہا ہے۔
 اللہ ارشاد فرماتے ہیں کہ "جب کسی چیز کا عزم کر لو۔  پھر لوگوں سے مشاورت کرو۔ پھر مجھ پہ بھروسہ رکھو'' آپ مشاورت میں لوگوں سے رابطہ کریں،انٹرنیٹ سے دیکھیں، سیکھیں،کامیاب لوگوں کی کہانیاں پڑھیں کہ کیسے لوگ کامیاب ہوئے اور جو کامیاب لوگ آپ کے اردگرد ہیں۔صحیح طریقے سے کامیاب ہونے والے۔غلط سے نہیں۔ غلط طریقے سے کامیاب ہونے والے اختتام پر جیل میں ہوتے ہیں یا ڈپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں  تو آپ نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہم نے اللہ کی رحمت پر یقین رکھنا ہے۔اس کی رحمت و سہارے کو نہیں بھولنا، جذبہ عشق و صداقت سے آگے بڑھیں گے تو ضرور ترقی و کامیابی ہوگی۔اس پر خداکا نظام ہی ایسا ہے کہ وہ حق نہیں رکھتا۔ محنت کا ثمر ضرور دیتا ہے۔نوازتا ہے۔
نوجوانوں سے جب پوچھا جاتا ہے کہ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد کیا کریں گے تو جواب آتا ہے کہ نوکری، اس سوچ کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
ڈاکٹر علی ساجد:  یہ بہت غلط مائنڈ سیٹ ہے۔میں جب یو ای ٹی میں اسکول آف بزنس کا ہیڈ تھا۔میں نے کہا کہ میرے پاس کوئی بندہ، جاب کے لیے لیٹر لے کر نہ آئے، جس نے نوکری نہیں کرنی وہ میرے پاس آئے، میں نے سب کو کہا کہ اپنے اپنے بزنس کریں، کسی بچی نے بوتیک کھول لی، کسی نے آفس سپلائی کا کام شروع کردیا۔میں نے سب کی حوصلہ افزائی کی۔آج انہوں نے کام کروانے لیے اپنے نیچے ملازم رکھے ہوئے ہیں۔
سفر ہے شرط مسافر نواز بہتیرے 
ہزارہا شجر سایہ دار راہ میں ہے
تو آپ راہ پکڑیں بڑے لوگ کاروان کے ساتھ مل جاتے ہیں۔آگے بڑھنے کا جذبہ ہونا چاہئے۔کام کرنے کے لیے زیادہ انوسٹمنٹ ضروری نہیں ہے۔بس آئیڈیا جدید اور اہم ہونا چاہئے۔
نوجوان کی سوچ کو کیسے بدلیں کہ وہ جدید دور کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھے؟
ڈاکٹر علی ساجد:  دیکھیں جی:سوچ میں جب تک نیا پن نہیں ہے بات آگے نہیں بڑھ سکتی، پرانی و روایتی سوچ سے آپ وہ کچھ کمائیں گے جو صدیوں سے لوگ کمارہے اور کر رہے ہیں۔سوچ میں نیا پن ہو، فکر ہو تو تبدیلی آ سکتی ہے کیونکہ تبدیلی ذہن کی ہے۔مجھے ایک شعر یاد آرہا ہے کہ 
سوچوں کے بدلنے سے نکلتا ہے نیا دن
سورج کے چمکنے کو سویرا نہیں کہتے 
سوچیں بدلیں۔نتائج بدل جائیں گے۔جس طرح کے نتائج چاہتے ہیں ویسی سوچیں اپنا لیں۔جب تک آپ روایتی سوچوں اور خیالات سے نہیں نکلیں گے کچھ بھی نیا نہیں ہو سکتا۔جو جو کماتے ہیں ساتھ ساتھ اسے تقسیم بھی کریں۔ چاہے وہ پیسہ یا علم ہے۔اپنے ساتھ والوں کو بھی اسپورٹ کریں اور نیچے والوں کا بھی سہارا بنیں۔دوسروں کی بھی قدر کریں۔اپر کلاس مزید اوپر اور لوئر کلاس مزید نیچے ہوتی جا رہی ہے۔سرکار اس معاملے میں ناکام ہے اب خود ہی یہ بھی کرنا ہوگا۔
آپ ماہر ہیں، انٹرویو میں فیل ہونے والوں کی چند وجوہات کونسی ہیں؟
ڈاکٹر علی ساجد:  دیکھیں اس کی پہلی وجہ ہے کہ ڈگریاں مل رہی ہیں، علم نہیں مل رہا، بچے میں فیلڈ کی آگہی نہیں ہوتی، ضروری ہے کہ کمیونیکیشن اسکلز کو بہتر کریں، ہر طرح سے، لکھنے میں بھی اور بولنے میں بھی۔اردو اور انگریزی کو کیسے بہتر کرنا ہے۔کمپیوٹر اسکلز improve کریں۔اپنے رویے کو مثبت اور بہتر کرنا ہے۔جذباتی زیادہ نہ ہوں۔ منفی نہ سوچیں۔جس میں یہ چند خصوصیات ہوتی ہیں وہ بندہ خود بخود آئیڈیل بن جاتا ہے اور باس کی نظر میں آجاتا ہے۔وہ جب دیکھتا ہے کہ بندہ پروڈکٹو بھی ہے۔کام بھی کرتا ہے۔سوچ مثبت بھی ہے نئی بھی ہے تو اس طرح جو بندہ الگ،نیا اور اچھا سوچتا ہے باس اسے پسند کرتا ہے۔ایسی سوچ والوں کو باس encourage کرتے ہیں۔