مقصد

 
علی عباس ٹرینر،ٹریولراورکتاب(تصوف اور آج کے صوفی)کے مصنف ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لکھنا،بولنا،ٹریننگ دینا،کسی کے سامنے اپنا نقطہ نظر بیان کرنا، یہ تمام کمیونیکیشن کی اقسام ہیں،کمیونیکیشن سے پہلے آپ کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟ آپ اپنی کمیونیکیشن سے لوگوں میں کیا شعور بیدار کرنا چاہتے ہیں؟لوگوں کوکونسی ایسی چیز دینا چاہتے ہیں جو ان کے لیے افعال ثابت ہو سکے؟میں نے جب کتاب لکھی تھی تو مجھے جو وجہ ملی وہ یہ تھی کہ ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت اور تعصب بہت زیادہ ہے،میں نے پھر سوچا کہ ہوسکتا ہے کہ میں کچھ ایسا Contentڈیلیور کر سکوں،جس کو پڑھ کرسنی،شیعہ،دیوبنداور دوسرے تمام فرقے ایک دوسرے کی عزت اور برداشت کریں، اُس رویے سے ایک محبت کی فضا قائم ہواور ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھیں۔میرے سامنے جب بھی کوئی کسی عالم،مذہبی رہنما یا امام کی تعریف کرتا ہے تو میں اس سے ایک ہی سوال کرتا ہوں، کیا آپ کسی دوسرے فرقے کے پیچھے نماز پڑھ لیں گے؟اگر تو وہ نماز پڑھ لیں گے تو وہ میری سوچ میں اچھا اسکالر یا عالم ہوتا ہے اور اگر وہ کہے کہ میں نہیں پڑھوں گا نماز تو اس کا مطلب ہوا کہ وہ دوسروں کو مسلمان تسلیم نہیں کر رہا،اس کے ذہن میں خود کا ایک تعصب اور خود کی ایک بائیسڈ نیس موجود ہے،ایسے لوگوں کو میں نہیں چاہتا کہ پروموٹ کیا جائے اور جو لوگ فرقہ واریت کو ختم کرنا چاہتے ہیں،محبت بانٹنا چاہتے ہیں اورHarmonyکا ماحول چاہتے ہیں،مذاہب میں بھی اور فرقوں میں بھی،میں چاہتا ہوں ایسے لوگوں کو زیادہ ترجیح دی جانی چاہئے،ان کا پیغام لوگوں تک پہنچنا چاہئے۔ 
خود اعتمادی کی کمی کو کیسے ختم کیاجا سکتا ہے؟اس کے لیے تین کام ضرور کریں،اپنے سے زیادہ علم والے کے ساتھ وقت گزارنا شروع کریں،سیروسیاحت کرنا شروع کریں، مختلف جگہوں پر جائیں،مختلف کتابیں پڑھیں اور ایسے سیمینارز و ایونٹس اٹینڈ کریں جن میں آپ کو بھی بولنے، گفتگو کرنے، شرکت کرنے کا موقع ملے۔انہوں نے بے روزگار نوجوانوں کے لیے چند تجاویز دیتے ہوا کہا کہ پاکستان میں گزشتہ الیکشن میں دس ہزار لوگوں نے شرکت کی، جن میں سے صرف چند ایک ہی کامیاب ہو کر صوبائی وقومی اسمبلی میں پہنچے۔اب جو بقایا ناکام سیاستدان تھے ان کو سیٹلائٹ میڈیا کوریج نہیں دیتا لیکن انہیں بھی اپنی شہرت اور عوامی روابط کی ضرورت ہے، آپ حضرات اپنا اپنا پلان لے کر ان کے پاس جائیں، ان کی سرگرمیوں کوریکارڈ کریں،لکھیں اور سوشل میڈیا کی زینت بنائیں،یوٹیوب چینلز،فیس بک پیجز اور دوسری سوشل سائٹس پر ان کا پروفائل بنائیں۔اس کے بدلے میں آپ ان سے اپنی سروسز کے چارجز لیں اور جدید دور کی نئی ضروری مہارتیں سیکھ کر بہترین زندگی گزاریں۔