یاسر پیرزادہ - انٹرویو

یاسر پیرزادہ نامور کالم نگار،مصنف،مزاح نگار اور کمشنر فیڈرل بورڈ آف ریونیو ہیں۔"کامیابی کا سفر'' کے عنوان پر نوید اسلم ملک نے "کرئیر کاروان"کے لیے یاسر پیرزادہ سے انٹرویو کیا۔جو قارئین کی دلچسپی کے لیے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)
آپ کا بچپن کیسا تھا؟
یاسر پیرزادہ:نویددیکھیں عام طور پر آپ نے سنا ہوگا کہ لوگ کہتے ہیں،ان کا بچپن بہت شاندار تھا،وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچپن لوٹ آئے،میں ایسا نہیں چاہتا،اس کا یہ مطلب نہیں کہ میرا بچپن کوئی برا گزرا ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر عمر کی اپنی ایک خوبصورتی ہوتی ہے،اس لیے مجھے بچپن کے مقابلے میں جو،اب کا دور ہے،وہ زیادہ اچھا لگتا ہے کیونکہ آپ نے سوال لڑکپن کا،کالج کے زمانے کا کیا ہے تو میرا کالج گورنمنٹ کالج لاہور تھا،میں نے چار سال وہاں گزارے،ایف ایس سی کی دو سال،اس کے بعد بی اے کیا،تو گورنمنٹ کالج میں بڑا بور ہوا کرتا تھا میں،میرا زیادہ تر وقت گورنمنٹ کالج کی لائبریری میں گزرا،اس زمانے میں مجھے فزکس سے بہت دلچسپی تھی،تھیوری آف ریلیٹیویٹی مجھے بہت Fascinate کرتی تھی،اب بھی کرتی ہے اور میں نے اس سے متعلق جتنی بھی کتابیں تھیں،پڑھ چھوڑی،مجھے آج افسوس ہوتا ہے اگر تب،میرے جو احساسات و تاثرات تھے،اگر لکھ لیتا تو اچھا رہ جاتا،ایک اچھی یاد بن جاتی،لیکن اس کے بعد بی اے میں نے کیا گورنمنٹ کالج سے تو مجھے بڑی بوریت رہی،میرے کوئی دوست نہیں بن سکے۔
اس بوریت کی وجہ کیا تھی؟
یاسر پیرزادہ:کوایجوکیشن نہیں تھی،یہ وجہ تھی،دیکھیں نہ آپ کالج میں جب جاتے ہیں،تب ایم اے میں کوایجوکیشن تھی،ان کو دیکھ کر ہماری حسرت بھری نگاہوں میں حسرت ہیں رہ جاتی تھی بالآخر وہ بی اے ختم ہوا تو پنجاب یونیورسیٹی میں داخلہ لیا تو یہ جو سال،پنجاب یونیورسٹی میں،پولیٹیکل سائنس ڈیپارٹمنٹ کے تھے،وہ بڑے یادگار تھے،اس میں کوایجوکیشن کے علاوہ بھی،مجھے پتا نہیں کیوں وہاں بڑی،بوریت محسوس ہوئی،میں نے راوی کے لیے کچھ لکھا بھی لیکن اس طرح میں گورنمنٹ کالج کو انجوائے نہیں کر سکا،جس طرح آپ عمومی طور ہر شخص سے گورنمنٹ کالج کی بڑائی یا فضیلت سنتے ہیں،بدقسمتی سے میں وہاں زیادہ اچھی یادیں نہیں  بنا سکا،اس میں کوئی شک نہیں وہ ایک تاریخی کالج ہے،جب میں وہاں تھا،تب غالبا ًایک سو پچیس سال ہونے کی تقریبات منائی گئیں لیکن میرا زیادہ یادگار جو دور ہے وہ پنجاب یونیورسٹی کا ہے۔  
پنجاب یونیورسٹی کے دور کے یادگار ہونے کیا وجہ تھی؟
یاسر پیرزادہ:ایک تو میں نے آپ کو بتا دی دوسرا ہم نے بڑا انجوائے کیا،دوست بھی بہت بنے میرے،ابھی تک میرے کچھ دوست ہیں جو اسی زمانے میں بنے تھے،کالج زمانے میں ایف ایس سی کے دوستوں میں سے،تین دوست ہیں،جن سے میرا اب بھی رابطہ ہے،کالج کے زیادہ تر دوست سکپ ہو گئے لیکن یونیورسٹی میں زیادہ تھے، جو ابھی بھی ہیں۔
سی ایس ایس،مقابلے کا ایک مشکل امتحان ہے،آپ کے ذہن میں کب آیا کہ مجھے یہ کرنا چاہئے؟
یاسر پیرزادہ:اصل میں اس سوال کا جواب میں کافی دفعہ دے چکا ہوں،مجھے اتنا اچھا نہیں لگتا کہ میں اسے ایسے بیان کروں جیسے میں نے بہت بڑا کارنامہ یا معرکہ مارا ہے،یہ امتحان ہے،ہر سال لوگ دیتے ہیں اور کوئی ڈیڑھ /دو سو بندہ پاس ہوجاتا ہے،بس یہ ہے،ظاہر ہے مشکل ہے تو چھ سات ہزار لوگوں میں سے صرف چند ہی کلیئر کر پاتے ہیں،میں سمجھتا ہوں کہ یہ کوئی خاص یا بڑا کارنامہ نہیں ہے،اس کے لیے ایک خاص طرح کی تیاری کرنا پڑتی ہے،تھوڑا سیریس ہونا پڑتا ہے،کچھ بیک گراؤنڈ اگر تعلیمی طور پر بہتر بنا ہوا ہے تو وہ مدد کرتا ہے،کچھ مزید اگر ایجوکیشن کو ٹھیک کر لیا جائے،مطلب اس طرح کے کئی کام ملا کر کرنا پڑتے ہیں،پھر بھی آپ کی قسمت کا کردار اہم ہوتا ہے کیونکہ بعض لوگ پانچ،سات نمبروں سے پاس ہوجاتے ہیں اور بعض کی بدقسمتی سے ایک،دو نمبر سے ناکامی ہو جاتی ہے،اس طرح قسمت اثرانداز ہوتی ہے،پھر ڈومیسائل کا بھی مسئلہ ہے،یہ سارے فیکٹرز ہیں، جن کو آپ قسمت کا نام دیں لیں یا کچھ اور۔
آپ میں وہ کونسی خوبیاں ہیں، جنہوں نے آپ کوایک اچھا کالم نگاربنانے کے ساتھ ساتھ مقابلے کے امتحان میں کامیابی سے ہمکنار کیا؟
یاسر پیرزادہ:سچی بات بتاؤں آپ کو شاید لگے کہ میں کوئی کسرِ نفسی سے کام لے رہا ہوں یا ایسا کچھ،میں کوئی اتنا زیادہ نہیں سمجھتا کہ میں نے کوئی بہت بڑا تیر مار لیا ہے،بڑے بڑے لوگ کامیاب ہوتے ہیں،بہت ان کے کارنامے ہوتے ہیں، تو ٹھیک ہے آپ کہہ لیں کہ مجھے لکھنے کا شوق تھا،والد صاحب کو دیکھتا بھی تھا،اس لیے گھر میں ایک ماحول تھا کتابوں والا،ان کی لائبریری میں بچپن سے کتابیں پڑھنا شروع کیں،تب میں اسکول میں پڑھتا تھا،اس لیے لکھنے کا رجحان بن گیالیکن میں نے باقاعدہ لکھنا تو بہت عرصے بعد شروع کیا ہے،۲۰۰۶ سے میں ریگولرلکھ رہا ہوں۔اچھا لکھتا ہوں یا برا،یہ فیصلہ قارئین کرتے ہیں لیکن سچی بات ہے کہ میں اسے کوئی بڑی چیز نہیں سمجھتا،جیساکہ میرے کالم کا عنوان ہے،میں کوشش کرتا ہوں کہ ذرا ہٹ کے لکھوں۔
لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیسے لکھیں،لیکن میرا سوال ہے کہ کیسے پڑھیں؟
یاسر پیرزادہ:پہلی تو بات ہے کہ نیت ہونی چاہئے پڑھنے کی،اگر آپ کی نیت ہے پڑھنے کی پھر تو میری کوئی نا کوئی ٹپ آپ کی مدد کر دے گی لیکن اگر کسی بندے کی نیت نہیں ہے پڑھنے کی تو پھر آپ اس کو جو مرضی ٹپ دے دیں، اس کے کسی کام کی نہ ہوگی وہ ٹپ۔آج کل ہم بہت زیادہ سنتے ہیں کہ موبائل فون کی وجہ سے لوگوں میں مطالعے کی عادت نہیں ہے،تو موبائل فون کیا صرف پاکستان میں استعمال ہوتا ہے، امریکہ، یورپ یا انڈیا میں نہیں ہوتا؟انڈیا میں، دہلی میں اتنی زیادہ کتابیں شائع ہوتی ہیں جو شاید پورے پاکستان میں نہیں ہوتی تو پھر اس کی کیا وجہ ہے؟تو اس کی وجہ موبائل فون تو نہیں ہے۔ٹھیک وہ ایک فیکٹر ضرور ہو سکتا ہے،اس کوبہانہ کہہ لیں آپ۔کسی مصنف نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ اگر آپ روزانہ دو گھنٹے مطالعے کو دیں اور پھر اس نے ایک لسٹ دی ہے پوری،اگر آپ وہ ساری کتابیں پڑھ لیں تو اس کے مطابق آپ کے پاس اتنا علم آجائے گا کہ آپ ایک اچھے فلاسفر بن جائیں گے۔سارا علم تو نہیں لیکن اتنا ضرور آجائے گا کہ غلط اور صحیح میں تضاد کر سکیں۔ہر فیلڈ کے بارے میں ضروری و بنیادی معلومات آجائیں گی۔اب آپ کا جو سوال ہے کہ کیسے پڑھا جائے؟۔۔۔میرا جواب ہے کہ اپنی دلچسپی والی کتابوں کو پہلے پڑھا جائے۔جو کتابیں آپ کو اچھی لگتی ہیں،ان سے شروع کریں تاکہ آپ کو بوریت نہ ہو،آپ کو پتا ہوگا کہ آپ کو فلاسفی سے دلچسپی ہے یا بائیولوجی سے،فزکس سے یا کیمسٹری سے۔ تو اپنے مطلب کی کتابیں پہلے دیکھیں۔دوسرا جو بھی کتاب
 آپ نے پڑھنی ہے،وہ خود آپ کو پڑھائے گی اگر وہ اچھی لکھی ہوئی ہے تو۔لہذا آپ کو ذبردستی پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ہوتا ہے کہ آپ نے کسی کتاب کے بارے میں سنا ہو کہ یہ بہت ہی شاندار و شاہکار کتاب ہے ہوسکتا ہے وہ آپ کو اچھی نہ لگے۔لیکن اگر بہت بڑی کوئی کتاب ہے جس کو دنیا میں لوگ مانتے ہیں،مثال کے طور پہ جیسے دوستوفسکی کا ناول ہے کوئی،ظاہر ہے آ پ اس کو ایسے ہی تو ریجیکٹ نہیں کریں گے میں نے کوئی دس صفحے پڑھے ہیں،مجھے مزہ نہیں آیا،اس کے کم از کم سو ڈیڑھ سو صفحے یا کوئی ایک آدھ  ناول تو پورا پڑھیں،اس کے بعد آپ اپنی کوئی بھی رائے قائم کریں۔یہ ان کتابوں کے بارے میں ہے جن کو دنیا نے مانا ہوا ہے کہ یہ اچھی کتابیں ہیں۔اس کے علاوہ آپ کو جو بھی کتاب اچھی لگتی ہے ضرور پڑھیں۔مثا ل لیجئے،آپ کسی فلم کا کوئی ایک سین یاٹریلر دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں کہ یہ فلم دیکھنے والی ہے یا نہیں۔پہلی دفعہ مجھے یاد ہے کہ میں کسی کے گھر گیا اور وہاں ٹیبل پر ابنِ صفی کا ناول پڑا ہوا تھا،میں نے اس کا پہلا صفحہ پڑھا اور اس کے بعد مجھے پتا ہی نہیں کہ چلا کہ میں نے ایک گھنٹے میں اسے مکمل پڑھ لیا۔حالانکہ وہ ناول ابنِ صفی کی سیریز کا تیسرایاچوتھا حصہ تھا۔یعنی وہ شروع سے نہیں تھا لیکن اس کے باوجود وہ اتنا دلچسپ تھا۔ایک اور طریقہ یہ ہے کہ آپ نے اس میں سے جہاں سے اہم لگیں وہاں ہائی لائٹر یا پنسل وغیرہ سے نشان لگا لیں، اسٹارز بنا لیں تاکہ جب کبھی دوبارہ کتاب پڑھیں تومکمل کتاب نہ بھی اگر پڑھی جا سکے تو وہ اہم نکات دیکھ کر مختصر وقت میں ساری کتاب ری وائز ہو سکے۔ایک بات اور جس کو پڑھ کر میں خود بڑاحیران ہوا تھا،ڈیل کارنیگی نے لکھا تھا کہ خود اس نے جو کتاب پڑھی تھی دو سال بعد خود اسے وہ دوبارہ پڑھنی پڑ گئی تھی کیونکہ وہ اسے بھول چکا تھا۔لہذا یہ ٹینشن نہ لیں کہ میں جو کتاب پڑھتا ہوں مجھے یاد نہیں رہتا۔بار بار پڑھنے کی ضرورت آپ کو ہمیشہ پڑتی رہتی ہے۔پھر ایک اور بات ہے کہ ہو سکتا ہے کتاب کے کچھ صفحے اچھے نہ لگیں لیکن بحیثیت مجموعی وہ کتاب اہم ہو،تو آپ بجائے اس کے کہ وہ کتاب رکھ دیں بہتر ہے کہ کچھ صفحات چھوڑ کر آگے چلے جائیں اور کتاب مکمل پڑھیں پھر ان صفحات کو دیکھ لیں۔وہ حصہ آپ کو خود ہی اٹریکٹ کر لے گا۔
آپ کے کالمزپڑھ کر پتا چلتا ہے کہ کرئیر کونسلنگ،سیلف ہیلپ اور موٹیویشنل اسپیکرز کے بارے میں آپ کی رائے ذرا ہٹ کے ہے،ایسا کیوں ہے؟
یاسر پیرزادہ:لوگوں کی روزی لگی ہوئی ہے،اچھی بات ہے،میں تو خوش ہوتاہوں کہ یہ بھی ایک طریقہ کار ہے،دنیا میں تو تھا ہی اب پاکستان میں بھی آگیا ہے،اس میں میرا جو ایک اعتراض ہے کہ جس طرح دنیا میں کامیاب ہونے والے جن لوگوں کی مثالیں دی جاتی ہیں،لوگوں کو موٹیویٹ کرنے کی، ایک تو ان میں مبالغہ آرائی بہت ہوتی ہے۔ان میں ذرا فیکٹس درست نہیں ہوتے،یعنی کہ ایک بندہ صبح چھ بجے اٹھتا تھا،وہ سار دن کام کرتا تھا،پینتیس سال تک اس کی یہ عادت تھی،یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ پینتیس سال تک روزانہ صبح چھ بجے اٹھیں،اس میں آدمی بیمار بھی ہوتا ہے،کچھ اور بھی ہو سکتا ہے، اس لیے ایسا ممکن نہیں کہ پینتیس سال تک ایک ہی روٹین برقرا ر رہے یا ہوتا ہے کہ یک پستہ راتوں میں وہ دریا پار کر لیتا تھا،کیسے کر لیتا تھا؟اس طرح تو نہیں ہوتا۔لیکن چلیں یہ بھی لوگوں میں خصوصیات ہوتی ہیں لیکن وہ بندے صرف دریا پار کرنے کے ماہر ہوتے ہیں،انہیں کچھ اور نہیں آتا ہوتا،اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ ہر بندے میں ہر خوبی نہیں ہوتی، ہر بندہ دوسرے سے یونیک ضرور ہوتا ہے،اس کو آپ ہر کسی کامیاب بندے کی مثال دے کر کامیاب نہیں کر سکتے۔لیکن کچھ اصول مشترک ضرور ہو سکتے ہیں۔جیسے محنت کرنا اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرنا۔مجھے جو اعتراض ہے وہ ان لوگوں کی مثالیں دینے سے ہے جو بہت exceptionally ہوتے ہیں، وہ geniusلوگ ہوتے ہیں،ان میں غیر معمولی صلاحیت ہوتی ہے،اچھا پھر وہ ان ممالک یا حالات میں پیدا ہوئے، پرورش پائے،جہاں ان کو اپنی صلاحیتیں نگھارنے کے مواقع بھی زیادہ ملے۔یعنی ایک بندہ ہے جس کے ساتھ آپ کا دوڑ میں مقابلہ ہے وہ آپ سے پہلے ہی پانچ سو میٹر آگے کھڑا ہے تو اس سے مقابلہ تو نہیں بنتا۔اگر وہ امریکہ میں،سانفرانسسکو میں،یورپ میں کہیں پیدا ہوا ہے تو وہ آپ سے پہلے ہی کافی آگے ہے، اس سے ابھی تک آپ کا مقابلہ نہیں بنتا لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں لوگوں کو ڈی موٹیویٹ کرتا ہوں۔میں لوگوں کو کہتا ہوں کہ آ پ اس کو پہلے defineکریں،آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟اگر آپ پیسے کمانا چاہتے ہیں تو وہ ایک اور مہارت ہے، اگر آپ کا مقصد شہرت ہے تو اس کی کچھ اور ضرورتیں ہیں۔ہمیں اس بات پر غور کرنا چاہئے کہ کیسے ایک اچھی زندگی گزارنی چاہئے۔مجھ سے کسی بچے نے پوچھا کہ بل گیٹس تو کالج کا ڈراپ آؤٹ تھاتو پھر پڑھنا کیوں ضروری ہے؟تو بھئی سوال ہے کہ کیا آپ بل گیٹس ہیں؟وہ تو بہت جینئس تھا جس نے مائکروسوفٹ دیا،دوسری بات ہے وہ ڈراپ آؤٹ تھا ہاورڈ کیا اور ہم ڈراپ آؤٹ ہیں لاہور کے تھرڈ کلاس کالج کے۔تو جی فرق تو ہے۔