عنوان: سوال تو بنتا ہے پھر 2/2

آخری قسط "
ان چار کالمز پر نوجوانوں کا سوال تو بنتا تھا لیکن میرا سوال یہ ہے کہ اگر نئے لکھنے والے اتنا اچھا نہیں لکھیں گے کہ پذیرائی کے قابل ہو تو کیسے وہ بڑے اخبارات میں جگہ بنا سکتے ہیں۔جب نئے لکھاری ایسا لکھیں گے کہ پڑھنے والا عش عش کر اٹھے تو میں نہیں مانتا کہ کوئی نامور اخبار اسے اپنے صفحات کی زینت نہ بنائے۔
بے شمار نوجوان شکوہ کرتے ہیں کہ ہمیں اخبار میں لکھنے کا موقع نہیں ملتا۔ جب ان سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ نے کچھ لکھ کر بھیجا ہے شائع ہونے کے لیے؟کتنی مرتبہ؟تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ ابھی تک لکھا نہیں کیونکہ جب ہم جانتے ہیں کہ شائع نہیں ہوگا تو لکھیں گے کیوں؟ اس لیے لکھ کر وقت،کاغذ،سیاہی اور دماغ کی انرجی ضائع نہیں کرتے۔اب آپ بتائیں کہ اس میں قصور سینئرز کاہے یا جونئیرز کا۔دراصل نوجوان اپنے مقاصد میں واضح نہیں ہوتے۔وہ جب یہ نہیں جانتے کہ شائع کروانے سے پہلے لکھنا پڑتا اور لکھنے کے لیے بار بار کوشش کرنی پڑتی ہے۔پھر جیسے اچھا بولنے کے لیے اچھا سننا پڑتا ہے اس طرح اچھا لکھنے کے لیے اچھا پڑھنا بھی پڑتا ہے۔جو نوجوان لکھاری بننا چاہتے ہیں انہیں پہلے پڑھنا ہوگا، پھر اچھا پڑھنا ہوگا اور پھر لکھنا ہوگا،ایک بار نہیں بار بار لکھنا ہوگا،اس قدر لکھنا ہوگا کہ انہیں کسی کی سفارش کی ضرورت نہ پڑے۔اب تو حالات اس قدر بدل چکے ہیں کہ آپ کو کسی اخبار یا آن لائن نیوز ویب سائٹس کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ آپ جو لکھنا چاہتے ہیں وہ سماجی روابط کی سائیٹس پر اپنا اکاؤنٹ بنائیں اور شائع کر دیں۔اس طرح اگر آپ اتنا اچھا لکھ رہے ہیں تو ایسا ممکن ہی نہیں کہ اخبار یا ویب سائٹ،آپ سے رابطہ نہ کرے۔ایسے کئی کالم نگار ہیں جنہیں سوشل میڈیا پر کام کرنے کے بعد اخبارات اور دوسرے کئی اداروں سے لکھنے کی پیشکشیں ملی ہیں اور آج کل ایک اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔
جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا کہ حالات اور مواقع کا شکوہ کرنے والے نوجوان گدھے ہیں اسی طرح ایسے سینئرز بھی ہیں جو نئے لکھنے والوں کے لیے کوئی اچھا شگون نہیں رکھتے۔چند دن قبل میں ایک صحافی بابے کے پاس بیٹھا تھا اور ان سے دریافت کیا کہ حاسدی اور دبانے والے سینئرز کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ان کا کہنا تھا کہ ایسے چھوٹی سوچ رکھنے والے لوگ،میری نظر میں ایسے ہی ہیں جیسے تمہاری نظر میں حالات کا شکوہ کرنے والے نوجوان۔یہ سن کر مجھے ہنسی آ گئی اور وہ بھی مسکرا دیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔محنت کرنے والے دوسرے ٹیلنٹ رکھنے والے۔اگر یہ دونوں خوبیاں آپ میں ہیں تو زمانے کی کوئی طاقت آپ کو آگے نکلنے اور پھلنے پھولنے سے نہیں روک سکتی۔(ختم شد)
عنوان: سوال تو بنتا ہے پھر 2/2
کالم: نویداسلم ملک