طارق بلوچ صحرائی

طارق بلوچ صحرائی عصرِحاضر کے دانشور، مفکراور منفرد افسانہ نگار ہیں۔   ”سوال کی موت“اور ”گونگے کا خواب“ ان کی شہرہ آفاق کتابیں ہیں۔نوید اسلم ملک نے   ”تصوف اور حالات حاضرہ“کے عنوان پرموصوف سے "کرئیر کاروان  "کے لیے انٹرویو کیا۔جو قارئین کے لیے پیش خدمت ہے۔(ادارہ)
آپ کے بچپن کی یادیں، پسماندہ یا ترقی یافتہ علاقے سے منسلک ہیں؟
طارق بلوچ صحرائی:اصل میں ہوتا یہ ہے کہ جب فطرت اور اللہ کی حکمتوں پر غور کرتے ہیں توآپ کو پتا چلتا ہے کہ اللہ نے یہ سارا نظام اور منصوبہ بنایا ہوتا ہے کہ کس بندے کو کیا بنانا ہے؟کیسے بنانا ہے؟کیا ایکسپوژر دینا ہے؟میں جس علاقے میں پیدا ہوا وہ ایک بیک ورڈ علاقہ تھا، رینالہ خورد کا ایک گاؤں تھا۔تو وہاں پیدائش ہوئی اور دلکش کھیتوں میں ایک چھوٹی سی بستی تھی۔وہاں سے مجھے قدرت کے مناظر کو دیکھنا، مشاہدہ کرنا، سکون بخشتا تھااور یونہی مجھے نیچر سے عشق ہوگیا۔میں نے اپنی کتاب " سوال کی موت"میں لکھا ہے کہ فطرت ہمیشہ آگے بڑھتی ہے اور وہی پھلے پھولے گا جو فطرت سے پیار کرے گا۔اؒلحمدللہ مجھے فطرت میں رہنے کا موقع ملا اور پھر ہم اس بستی سے رینالہ شہر میں منتقل ہوئے۔جب میں شہر میں آیا تو مجھے گاؤں اور شہر کے لوگوں کی سوچ میں  فرق کا اندازہ ہوا کیونکہ میں نے دونوں کو دیکھا ہوا تھالیکن شہر آکر بھی فطرت سے میرا پیار ختم نہیں ہوا۔مجھے معلوم تھا کہ دیہات کے لوگ کیسا سوچتے ہیں؟ان کی محرومیاں کیا ہیں؟پھر وہاں سے لاہور ہجرت کر لی۔اس طرح اللہ کا شکر ہے کہ ہر طرز کے ماحول میں رہ کر دیکھا ہے اور مشاہدات کیے ہیں۔اس طرح قدرت نے میرا یکسپوژر بڑھا دیا۔پھر خوش قسمتی سے جب میں لاہور آیا تو اشفاق احمد صاحب اور بانو آپا جیسی شخصیات کی صحبت نصیب ہوئی۔ پھر اللہ جی نے مزید احسان کیا کہ مجھے بابا عرفان الحق جیسے استادِ محترم سے نوازا،وہ بابا اشفاق احمد صاحب کے بھی بابا جی تھے۔یہ ساری نعمتیں اللہ مجھے دیتا گیا پھر سوچا کہ اگر اللہ نے مجھے اتنا کچھ دیا ہے تومیں کیوں نہ لوگوں میں یہ تقسیم کروں،لوگوں کو بتاؤں کہ زندگی کیا ہے؟دیکھیں کہ ہر کھیل کا کوئی نہ کوئی کوچ ہوتا ہے۔یہاں پر چونکہ اتنی آگہی نہیں ہے تو زندگی کا کوچ ہی کوئی نہیں ہے،میں نے سوچا کہ میں زندگی کی یہ کوچنگ شروع کر دوں۔لوگوں کو سکھاؤں کہ زندگی کیسے گزارنی ہے؟پھر اللہ مجھے دیتا گیا،میں وہ آگے تقسیم کرتا گیا۔ اور مجھے ساتھ فائدہ یہ ہوا کہ چونکہ میں نے دونوں زندگیاں دیکھی ہیں اور اس صدی کے تینوں (اشفاق احمد، بانو قدسیہ اور بابا عرفان الحق)بڑے لوگوں کی محبت مجھے نصیب ہوئی ہے۔
آپا بانو قدسیہ،آپ کو اپنا بیٹا کہتی تھیں،ایسی عظیم شخصیات تک آپ کیسے پہنچے تھے؟
طارق بلوچ صحرائی:میرے والد ایک پروگرام سنا کرتے تھے"،تلقین شاہ''اشفاق صاحب کا بڑا نام تھا،ان کے ڈرامے تھے یہ انہی میں سے ایک اہم کردار تھا۔جب ہم لاہور آئے،ان دنوں میں نے ایک کتاب لکھی تھی، جس کو لے کر، میں بانو آپا کے پاس گیا،میں نے کہا کہ میں نے کچھ لکھا ہے،آپ براہِ مہربانی اس پر کچھ اپنے رائے لکھ دیں۔بڑی مزے کی بات ہے، میں نے ان کا دروازہ کھٹکھٹایا تو وہ باہر آئیں،میں نے کہا آپا جی میں نے اس طرح کچھ لکھا ہے، آپ شفقت فرمائیں اور کچھ اس کے بارے میں لکھ دیں۔اس وقت ان کا کوئی موتیا کا آپریشن ہونا تھا،انہوں نے کہا کہ بیٹا دیکھو!میری ایک گزارش ہے کہ میری آنکھیں چونکہ ٹھیک نہیں ہیں، اس لیے کچھ وقت لگے گا۔میں نے بھی کہا کہ مجھے اس پر آپ کاتبصرہ میرٹ پر چاہئے، یہ نہیں کہ یہ لڑکا بہت اچھا لکھتا ہے، بہت پیارا ہے، بہت عمدہ تحریر کرتا ہے۔ میری بھی ایک عرضی ہے کہ اس پر آپ کی حقیقی رائے ہو۔یہ نہیں کہنا بہت اچھا لکھتا ہے بہت منفرد افسانہ نگار ہے آپ کی رائے ایسی چاہیے کہ اگر غلط ہے تو اسے غلط کہنا۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے بیٹا۔میری رائے ایسی نہیں ہوگی کہ میں جھوٹ بولوں۔انہوں نے لکھا کہ یہ ڈائری لکھنے کا انداز ہے کہ کیونکہ جب افسانہ ڈسکس کیا گیا تو یہ رائے دی گئی کہ ایسا افسانہ بھی لکھا جاسکتاہے۔انہوں نے کہا کہ میں ایسا پہلا بندہ ہوں جو ایسا افسانہ لکھ رہا ہوں۔
آپ کا افسانہ بہت سادہ اور عام فہم ہوتا ہے۔اس قدر متاثر کن کیسے بناتے ہیں؟۔
طارق بلوچ صحرائی:  دو School Of Thought ہیں۔ایک ادب برائے ادب اور دوسرا ادب برائے زندگی۔ میرا خیال یہ ہے کہ ادب برائے زندگی ہونا چاہیے جو آپ پڑھتے ہیں وہ صرف ذہنی عیاشی نہ ہو۔آپ اس سے کچھ حاصل کریں۔اس سے کوئی پیغام ملے۔دیکھیں کہانی کوئی بھی ہو۔اس کا بھی کوئی اخلاقی سبق ہوتاہے۔یہ لکھنے کے قانون میں شامل ہے کہ پڑھنے والے کو کوئی سبق دے۔میں نے بھی اسی طرح لکھنا شروع کیا۔جو میں لکھو ں اس کا کوئی نہ کوئی مقصد ہو۔الحمدللہ میں جو بھی لکھتاہوں اس کے اختتام میں کوئی اچھا سبق ہوتا ہے اور جو سوچ یا خیال میرے ذہن میں ہوتا ہے میں آگے پہنچانے کی کوشش کرتاہوؒں۔
  ”سوال کی موت“اور ”گونگے کا خواب“ دونوں کتابوں کے نام بہت دلچسپ ہیں۔اس کا کیا راز ہے؟
طارق بلوچ صحرائی:سوال کی موت یہ ہے کہ بدقسمتی سے گزشتہ تین سال سے سوال کی موت ہوگئی ہے۔ اب سوال پوچھا نہیں جارہا۔اور جو سوال ہے وہ علم کی ماں ہے۔جب تک سوال نہیں پوچھا جائے گا۔علم نہیں آئے گا۔تو مجھے یہ تھا کہ جویہ دور ہے اس میں سوال منع کردیا گیا ہے اور اگر آپ پوچھ بھی سکتے ہیں وہ ایسا جواگلا بندہ چاہتاہے کہ مجھے سے پوچھا جائے۔
سوال کی موت کی وجہ کیا ہے؟
طارق بلوچ صحرائی: ظاہر ہے کہ جو پریشر گروپس ہیں ان سے کوئی سوال نہیں کر سکتے۔تو جب بھی سوال کی موت ہوگی تو علم رک جائے گا۔دیکھیں یورپ میں کیا ہے۔وہاں جو سب سے اچھا طالب علم ہے اس کی نشانی یہ ہے کہ وہ سوال پوچھتا ہے اور اسے سوال پوچھنے دیا جاتاہے۔لیکن یہاں کا استاد بھی سوال پوچھنے سے منع کرتاہے۔جب بھی آپ چاہتے ہیں علم میں اضافہ ہو،معاشرہ آگے بڑھے، ترقی ہوتو سوال پوچھنے دیا کرو۔سوال کرنے کی آزادی دینا ضروری ہے۔وہ میں نے لکھاتھا کہ گونگا جب خواب دیکھتاہے وہ چاہتا ہے کہ کوئی اس کی تعبیر بتائے۔تو تعبیر بتانے والا تفسیر مانگے گا۔اب جبکہ گونگا اپنا خواب بتا نہیں سکتا۔تو اذیت کا شکارہوتاہے۔اور وہ خواب دیکھنے سے بھی گریزاں رہتاہے۔اسی طرح ہم لوگ بھی اذیت کا شکارہیں۔گونگے کے خواب کی طرح تفسیر بتا نہیں سکتے۔
آج کے استاد کو کیسے سکھائیں کہ وہ سوال کرنے اور جدت لانے کی طرف راغب کرے؟
طارق بلوچ صحرائی: استاد کو بھی سکھانا ہوگا کہ جب وہ معلم بن جاتا ہے تو گود سے گور تک علم حاصل کرنے والی روش کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑے۔آج جب کوئی استاد بن جاتا ہے تو وہ مزید پڑھائی کرنا اور سیکھنا ترک کر دیتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ پانی جب بھی کھڑا ہوگا تو وہ جوہڑ بن جائے گا۔اسی طرح علم کا بہاؤ چلتے رہنا چاہئے۔دنیا جب بھی کوئی تبدیلی یا جدت آتی ہے تورول ماڈل کی وجہ سے آتی ہے۔اب پہلے استاد کو رول ماڈل بننا ہوگا ورنہ کوئی بھی نئی چیز کو قبول نہیں کرے گا۔اگر استاد کا کردار ٹھیک نہیں ہے تو وہ یہ تصور نہ کرے کہ طالب علم اسے آسمان کا ستارہ سمجھے۔ایسے استاد کو کوئی فالو نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کا کسی پر اثر ہوگا۔
با ادب با مراد،بے ادب بے مراد،ادب کا کامیابی میں کیا کردار ہے؟
طارق بلوچ صحرائی:دیکھیں اللہ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند فرمایا ہے،قلم اور سوچ،خواب اور خوشبو،یہ سب جمالیات کے استعارے ہیں،اللہ نے اس کھنکھتی ہوئی مٹی کو،علم کی روشنی میں گوند کر،اپنا نائب مقرر کیا ہے۔ادب کیا ہے؟ادب جمال کو دیکھنے،سمجھنے اور محسوس کرنے کے ذوق کی تربیت کرتا ہے۔جب آپ میں ادب و ذوق ہوگا تو آپ سیکھیں گے۔
لوگ ان چیزوں سے دور کیوں ہوئے؟
طارق بلوچ صحرائی:اس کے لیے ہمیں پہلے یہ دیکھنا ہوگا کہ دانشور کون ہوتا تھا؟دانشور معاشرے کی آکسیجن ہوتا تھا،وہ روکھی سوکھی کھاتا تھا اور روایات کو زندہ رکھتا تھا۔وہ اخلاقیات کو زندہ رکھتا تھا۔وہ اقدار کو زندہ رکھتا تھا اور ان پر کاربند ہوتا تھا۔آج کا دانشور گاڑی،پیسہ اور اسٹیٹس کے چکر میں پڑ گیا ہے۔جب دانشور بگڑتا ہے تو پھر قوم نہیں بنتی۔قوم ساری بگڑ جائے لیکن دانشور سچا اور صحیح ہو تو اس قوم کا کچھ نہیں بگڑتا،وہ قوم واپس عروج کی طرف آجاتی ہے۔دانشور کو ان جڑوں کی طرح ہونا چاہیے،جو زمین کے اندر،حبس میں اندھیرے میں ہوتی تو ہیں لیکن نظر نہیں آتیں،درخت کو ایسے مضبوطی سے تھامے رکھتی ہیں کہ اسے زلزلوں اور زوال سے بچنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ آپ کے لیے ایک لاجواب مثال یہ ہے کہ آپ سرورِ کائنات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت دیکھیں،کتنی بڑی شخصیت،زندگی میں کیسے کیسے حالات سے گزری۔پوری کائنات کے لیے عملی نمونہ ہیں۔
آپ کے مطابق صوفی کون ہوتا ہے؟
طارق بلوچ صحرائی:میرے نزدیک صوفی وہ ہوتا ہے جو اپنی ذات کی نفی کر کے اپنے اعمال کو درجہ احسان پر لے جاتا ہے۔یہ ان کا کام کرتا ہے جو اس مخلوق کو،اس کے خالق سے ملاتے ہیں۔وہ دن کے وقت مخلوق کی خدمت کرتا ہے اور رات کو اپنے خالق سے باتیں کرتا ہے۔خدمت کرنا فرض سمجھتا ہے۔صوفی کی سب سے بہترین تعریف دو چیزیں ہیں۔وحدانیت اور ترک ِدعویٰ۔اللہ کی ذات ایک ہے۔اس کے علاوہ کوئی اتھارٹی نہیں اور ترکِ دعویٰ اپنی ذات کی نفی ہے۔
درویشی کیسے ملتی ہے؟
طارق بلوچ صحرائی: درویشی عطا ہے۔یہ محنت سے نہیں ملتی۔اللہ یہ جس کو دینا چاہے۔دے دیتا ہے۔یہ اس کی مرضی ہے۔جس کو دینا چاہے۔
آزمائش اور سزا میں ہم کیسے فرق جان سکتے ہیں؟
طارق بلوچ صحرائی: دیکھیں دو طرح کی چیزیں ہوتی ہیں،جب آپ سے امتحان لیا جاتا ہے تو اس کا مقصد ہوتا ہے کہ آپ کو اگلی کلاس میں پروموٹ کیا جانا ہے،اب یہ جو آزمائش آتی ہے۔یہ بھی فائدے  کے لیے آتی ہے کہ آپ کو پروموٹ کرنا ہوتا ہے۔اللہ نے آپ کو اگلی کلاس میں لے کر جانا ہوتا ہے۔آزمائش کی نشانی یہ ہے کہ اس میں دل نرم ہوجاتا ہے اور بندہ اللہ سے مزید قریب ہوجاتا ہے اور جب سزا ملتی ہے تب دل میں سختی آجاتی ہے اور بندہ اللہ سے مزید زیادہ دور ہو جاتا ہے۔
عصرِ حاضر کے منفرد افسانہ نگار ہونے کے سبب نئے لکھنے والوں کے لیے آپ کیا تجاویز دیں گے؟
طارق بلوچ صحرائی:  دیکھیں نوید اس کے لیے پہلی بات یہ کہ خوب مطالعہ کریں، بڑے لوگوں کو پڑھیں۔فطرت کے ساتھ وقت ضرور گزارا کریں۔ میں نے ہمیشہ لکھا ہے کہ وہی آگے بڑھے گا جو Nature Lover ہے۔ تیسرا چونکہ یہ تخلیق ہے اس لیے جو سب سے بڑا خالق ہے۔اس پر غور کریں۔اس کی حکمت اور ثنائی پر توجہ دیں۔ اللہ کے کمالات پر غور کرنے والا اچھا تخلیق کار بن سکتا ہے۔چوتھا کیونکہ اس کا تعلق روح سے بھی ہے تو بہتر یہ ہوگا کہ جتنا آپ اپنے کردار کو بڑھا سکتے ہیں، جس قدر زیادہ روح کو پاک رکھیں گے،اس قدر ہی اللہ آپ کو یہ رزق دیتا جائے گا۔یہ روحانی رزق ہے۔ایک دفعہ میں نے بانو آپا سے پوچھا کہ آپ کیسے اس قدر عمدہ لکھ لیتی ہیں؟انہوں نے بڑا خوبصورت جواب دیا کہ ''تخلیقی مچھلیاں ''۔۔۔میری کتاب ''سوال کی موت'' کے دیباچے کا عنوان بھی انہوں نے رکھا ہے ''تخلیقی مچھلیاں '' تو کہتی ہیں کہ مجھے اشفاق صاحب کہتے تھے روز لکھو!لکھنے کا ایک وقت مقرر کر لو،باقاعدگی سے، کبھی ناغہ نہ کرنا، جس طرح آپ تالاب میں جاتے ہیں,  مچھلیوں کے لیے روٹیاں ڈالتے ہیں تو ساری مچھلیاں آجاتی ہیں۔ان مچھلیوں کو پتا ہوتا ہے کہ اس بندے نے اس وقت آنا ہے تو وہ خود بخود مطلوبہ وقت پر آجاتی ہیں۔اسی طرح یہ جو تخلیقی مچھلیاں ہیں۔ یہ بھی اس وقت آئیں گیں۔جب آپ لکھیں گے،ایک وقت اور جگہ مقرر کر لیں اور روز لکھیں۔چاہے کچھ بھی لکھیں لیکن لکھیں ضرور۔کہتی ہیں کہ بانو لکھنا نہیں چھوڑنا اور جس دن میں مر جاؤں اس دن بھی لکھنا ہے اور پھر بانو آپا نے اس دن بھی لکھا۔