جادو بھری طاقت

قاسم علی شاہ
جادو بھری طاقت
کیاآپ جانتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک جادُو بھری طاقت ہے؟!!
 
گاڑی سٹارٹ کرکے میں نے جلدی میں ایکسی لریٹر دبایااور مین روڈ پر آگیا۔میرے دل و دماغ میں ایک ہی بات تھی کہ جتنی جلدی ہوسکے ،آڈیٹوریم پہنچنا ہے۔میری عادت ہمیشہ یہ رہی ہے کہ کسی بھی پروگرام میں شرکت کرنی ہو تو وقت سے پہلے وہاں پہنچتاہوں مگر آج آفس کے کام اور کچھ غیر متوقع مہمانوں کی آمد نے مجھے اپنی روٹین سے ہٹنے پر مجبور کردیا۔ جب اچانک گھڑی پر نظر پڑی تودو بج کر پینتالیس منٹ ہو رہے تھے یعنی میرے پاس صرف پندرہ منٹ تھے۔میں نے سارے کام چھوڑے اور سیشن کے لیے نکل پڑا۔
 
وقت کی قلت ،گرمی کی شدت اور مسلسل ٹریفک جام نے میری بے تابی اور پریشانی میں اضافہ کردیا تھا۔کچھ دیر میں سگنل کھلا ، میں نے گاڑی آگے بڑھائی۔پاس ہی سے کالج کے دو طلبہ موٹر بائیک پر گزرے ۔پیچھے بیٹھے ہوئے ایک لڑکے نے مجھے دیکھا ، مسکرایا ، دونوں ہاتھوں کی شہادت کی انگلیوں کو موڑکر ملایااورانگوٹھوں کو نیچے کی جانب کرکے دِ ل کا نشان بنایا ،پھر اس کو اپنے دِل پر رکھا اور میری طرف اتنے خوبصورت اور پیا ر بھرے انداز میں بڑھایا کہ مجھے اس کے انداز پر بے حد پیار آیا ، میرے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی،ان کی بائیک آگے جاکر دوسری طرف مُڑگئی اور۔۔ مجھے یوں لگا کہ میرے سارے ذہنی بوجھ کو وہ بچہ اپنے ساتھ لے گیا۔یکلخت میرا دل و دماغ پُرسکون ہوگیا ،میں نے پانی کی بوتل لی اور مسکراتے چہرے کے ساتھ پانی پینے لگا۔
 
جیسے تاریکی میں ڈوبے محل میں اچانک کوئی فانوس روشن ہوجائے تو اس کے تمام اندھیرے چھَٹ جاتے ہیں۔کچھ ایسا ہی ہمارے ساتھ بھی ہوتا ہے۔زندگی کے معمولات میں کبھی کبھار اتنا تناو پیدا ہوجاتاہے کہ دل ودماغ پر چڑچڑاپن اور پریشانی اپنے پَر پھیلادیتی ہے مگر اچانک ایک چہرہ آتاہے اوراپنی بھرپور مسکراہٹ سے ہمارے غم کے اندھیرے کو ختم کرکے خوشیوں کے قندیل روشن کردیتاہے۔
 
بیسویں صدی کے شروع میں مسکراہٹ کو باقاعدہ ایک فن کا درجہ دیا گیاجس میں خواہش مند افراد کو سماجی تعلقات بہتر کرنے اور اقتصادی ومعاشی امور میں کامیابی کے لیے باقاعدہ تعلیم دی جاتی تھی کیونکہ دنیا نے یہ راز جان لیا تھا کہ پروفیشنل زندگی میں کامیابی اس ’’ اخلاقی خوبی‘‘ کے بغیر ممکن نہیں ۔جبکہ یہ بات سرکارِ دو عالم ﷺ نے بھی کچھ اس طرح فرمائی تھی:
’’تم لوگوں کے دل اپنی دولت سے ہرگز نہیں جیت سکتے ، دِل جیتنے کے لیے تمہیں خندہ پیشانی اور حسنِ اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے ۔(سنن البیہقی)
 
ایک چینی کہاوت ہے ’’ جو اچھے طریقے سے مسکرانا نہیں جانتا اسے دکان نہیں کھولنی چاہیے ۔ ‘‘ایک مسکراہٹ میں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ سامنے والے انسان کی کیفیت بدل کررکھ سکتی ہے۔ لوگوں کے دل و دماغ کو قبضے میں کرنے والی چیز ایک پرخلوص مسکراہٹ ہے۔آپ چند ماہ کے بچے کو بھی مسکراکر دیکھیں تو وہ آپ کی اس کیفیت کو سمجھ جائے گا اور جواب میں مسکرانے لگے گا۔
انسانی فطرت کا بنیادی تعلق خوشی او ر مسکراہٹ کے ساتھ ہے۔ اس طرح سے کہ اللہ تعالیٰ سورۃ التین کی آیت نمبر 4میں فرماتاہے :
’’ یقینا ہم نے انسان کو بہت اچھی صورت میں پیدا کیا۔‘‘ اب اچھی صورت کا مصداق وہی شخص ہوگا جو مسکراتے اور ہشاش بشاش چہرے والا ہوگا۔
 
جدید سائنسی تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسان کے چہرے پر 123مسلز ہوتے ہیں جو مسکرانے سے ہلتے ہیں اور ا ن کی ورزش ہوتی ہے۔ اب جو شخص مسکراتا نہیں تو اس کے یہ مسلز منجمد رہیں گے جو کہ بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں ۔مصر کی تازہ تحقیق کے مطابق ہر وقت سنجیدگی اور خفگی طاری کرنے سے چہرے پر جھریوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاہے اور آنکھوں کے گِرد حلقے پڑجاتے ہیں نیز اس تجربے میں یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ چہرے کی جھریوں پر قابو پانے کا آسان اور سستا طریقہ مسکراہٹ ہے۔
 
مسکرانے سے آپ کتنے فوائد حاصل کرسکتے ہیں؟
 
(1)پریشانی کم ہونا : مسکرانے سے پریشانی ختم ہوجاتی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ انسان اپنے ظاہر پر جو حالت طاری کرتاہے اس کے باطن پر بھی وہی اثرہوجاتاہے۔ انسان کسی بھی مشکل اور پریشانی کا شکار ہو جب وہ مسکرائے گا تو اس کا اثر اس کے دل و دماغ پر ہوگا ۔جس سے اس کی پریشانیاں دورہوجائیں گی۔اس کے برعکس جو بندہ تندرست وتواناہے مگر ہر وقت اداس صورت رہتاہے تو اس کادل ودماغ بھی پریشان ہو گا اور کوئی غم نہ ہوتے ہوئے بھی ہر وقت اداس لگ رہا ہوگا۔
 
(2) مقناطیسیت : مسکراہٹ دل کی گہرائی سے نکلتی ہے جس سے مسکرانے والا مقناطیسی شخصیت کا مالک بن جاتاہے اور لوگوں کا ہجوم اس کے گِرد لگنا شروع ہوجاتاہے۔جس سے اس کے پی آر(تعلقات عامہ) میں اضافہ ہوجاتاہے۔
 
(3) بہتر کارکردگی : مسکرانے والے انسان سے جُڑے لوگوں کی کارکردگی بہترین ہوتی ہے۔کیونکہ باس کی مسکراہٹ اپنے ماتحتوں کے لیے انرجی ہوتی ہے۔اس مسکراہٹ سے فضاء خوش گوارہوجاتی ہے اوران میں کام کرنے کا جذبہ اورلگن مزید بڑھ جاتی ہے۔
 
(4) پُرامید : مسکرانے والا ہمیشہ پُرامید اورپُر اعتمادہوتاہے اور یہ خاصیت دوسروں کو بھی اعتماداور امید دیتی ہے۔
 
(5) زیادہ مواقع : مسکرانے والے کو زندگی میں ہمیشہ نئے مواقع ملتے ہیں۔کیونکہ تمام لوگ، ہنستے چہرے کو پسند کرتے ہیں اورانسانوں کی یہی پسندیدگی اس کے لیے نئے مواقع پیدا کردیتی ہے۔
 
(6) صحت : مسکرانے سے صحت بہتر ہوتی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق پیٹ کی ٪83بیماریوں کی وجہ ذہنی پریشانی ہے۔جبکہ جو انسان مسکراتا رہتاہے اس کی پریشانی ختم ہوتی ہے اور جب پریشانی ختم ہوگی تو بیماریوں کا سبب بھی ختم ہوگا۔اسی طرح مسکراہٹ بلڈ پریشرکو کنٹرول رکھ کر دل و دماغ کی کارکردگی کو بہتر رکھتی ہے۔
 
(7) ٹیم بلڈنگ : اچھی ٹیم بنانے میں مسکراہٹ بہت زیادہ کارآمد ہے۔جو انسان ہنس مکھ ہوتاہے اس کے ساتھ کام کرنے والے بھی خوش و خرم ہوتے ہیں ۔ لیڈر کی مسکراہٹ کی بدولت ٹیم ممبرزاس کی ہر بات کو دل وجان سے مانتے ہیں جس سے ایک اچھی ٹیم بن جاتی ہے۔
 
(8) کام لینا آسان : مسکرانے والا شخص کسی سے بھی آسانی سے کام لے سکتا ہے اور کام کرنے والا بھی دِلی رغبت کے ساتھ کام کو پورا کرتاہے۔
 
یہ تمام وہ خصوصیات ہیں جو صر ف ایک معمولی مسکراہٹ کی بدولت آپ حاصل کرسکتے ہیں۔نبی کریم (ص) کا ارشادِ گرامی ہے:’’تمہارا اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا،صدقہ ہے۔‘‘ (جامع الترمذی)اب مسکرانے والا انسان جہاں صدقے کی فضیلت حاصل کرلیتا ہے وہیں معاشرے کی فضاء میں سکون اور خوش گواریت بھی بھرلیتا ہے۔اس خوبصورت عمل کے بدلے میں قدرت اس کو یہ تحفہ دے دیتی ہے کہ اس پر ترقی اور کامیابی کے راستے کھلنا شروع ہوجاتے ہیں۔