امتحانات کے نتائج کے بعد 23 طلبہ نے خود کشی کرلی

نئی دہلی (کرئیرکاروان)ہمسائیہ ملک بھارت کی جنوبی ریاست تلنگانہ میں اپریل میں سکول کے آخری سال کے امتحانات کے نتائج کے اعلان کے بعد کم سے کم 23 نوجوانوں نے خود کشی کرلی ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق انڈیا میں اعلیٰ تعلیم میں شدید مقابلے کا رجحان ہے   اس کے علاوہ ا سکول چھوڑنے والے امتحانات اچھی یونیورسٹیوں میں داخلے کے لیے اہم ہوتے ہیں۔
انھیں اچھی نوکری اور شاندار مستقبل کے ٹکٹ کے طو پر دیکھا جاتا ہے۔بھارت کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں داخلے کا ٹیسٹ بھی ہوتا ہے لیکن جو طلبہ ان ٹیسٹوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ اب بھی اپنی نشست کھو سکتے ہیں اگر وہ سکول چھوڑنے والے امتحان میں فیل ہو جائیں۔تلنگانہ میں سکول چھوڑنے والے امتحانات کے نتائج کے اعلان کے بعد فیل ہونے اور صدمے سے دوچار طلبہ اور ان کے والدین نے مظاہرے کیے، انھوں نے الزام عائد کیا کہ نتائج بنانے میں غلطیاں ہوئی ہیں اور مطالبہ کیا کہ پرچوں کی دوبارہ مارکنگ کی جائے۔ نئے نتائج کا 27 مئی کو اعلان کیا گیا، ناکام ہونے والے 1،137 طالب علموں کے جوابات کی نظر ثانی کی گئی اور انھیں امتحان میں کامیاب قرار دے دیا گیا۔ ان طلبہ میں سے ایک لڑکی جس کے ایک مضمون میں پہلے صفر نمبر آئے تھے، جب اس کے پیپر کو دوبارہ چیک کیا گیا تو اس کے 99 نمبر آئے۔اس پورے تنازعے میں گلوبرانہ ٹیکنالوجی نامی ایک نجی سافٹ ویئر کمپنی بھی، جس نے سنہ 2017 میں ریاست میں 970,000 سے زیادہ طلبہ کا امتحان منعقد کروانے کا حکومتی کنٹریکٹ جیتا تھا، اس کے نتائج کا اعلان کرنے کے لیے حتمی سکور پر عملدرآمد کی ذمہ دار ہے۔ تلنگانہ کے تعلیمی بورڈ کا، جس نے گلوبرانہ ٹیکنالوجی کو یہ کام دینے کا انتظام کیا، کہنا تھاکہ طلبہ کی خود کشیوں کا تعلق تکنیکی اور نتائج کی پراسیسنگ میں غلطیوں سے نہیں ہے۔ دوسری جانب گلوبرانہ ٹیکنالوجی نے تسلیم کیا ہے کہ غلطیاں ہوئیں۔خود کشی کرنے والی ایک طالب علم انامیکا یادو کے خاندان کا کہنا تھاکہ وہ تلنگانہ کے تعلیمی بورڈ اور گلوبرانہ ٹیکنالوجی کمپنی کے خلاف فوجداری مقدمہ دائر کریں گے۔دوسری جانب تھوڈا وینیلا کے والد گوپال کرشنا کا کہنا تھا کہ وہ بھی ریاستی بورڈ کے خلاف مقدمہ دائر کرنا چاہتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ میں بورڈ پر اعتبار نہیں کر سکتا۔