اسکارف والی لڑکی

وہ آج بھی بیٹھی اپنے ساتھ ہونے والے ہر ظلم اور زیادتی کو  رد  کر رہی تھی۔وہ ابھی بھی خود کو ایک آزاد ملک کی جیتی جاگتی آزاد انسان تصور کر رہی تھی، معاشرے میں اپنے اوپر اٹھنے والی ہر ہوس زدہ نظر کو نظر انداز کر رہی تھی،وہ سمجھتی تھی کہ یہ آزاد فضا جس میں وہ سانس لے رہی ہے اسے غلام اور فرسودہ روایات اور سوچ سے بچا کے رکھے گی۔وہ پر امید تھی کہ دوسرے شہریوں کی طرح وہ بھی اپنی زندگی کو اپنی مرضی سے گزارنے کا پورا حق رکھتی ہے بلکہ جس طرح کی زندگی وہ گزار رہی تھی اس ملک کا آئین اس کو مہیاکرنے کا پابندتھا اور قانون اس بات کا ضامن کہ اس کو کوئی حراساں نہ کرنے پائے۔۔۔۔۔۔۔انسان ہونے کے ناطے وہ اپنی زندگی مثبت انداز میں گزارنے کے وہ تمام حقوق رکھتی ہے جو عالمی انسانی قوانین اسے فراہم کرتے ہیں پھر بھی وہ معاشرے میں موجود دوسری خواتین کو آزاد اور خود کو غلام تصور کر رہی تھی اسے وہ مقام حاصل نہیں تھا جو ہونا چاہیے تھااس کے احساسات پر بھی غاصبانہ قبضہ تھا اس کے اسلامی لباس سے نام نہاد سیکولرز کو بارود کی بو آتی تھی اور صرف نام کے مسلمان جب ایسے لباس والی کو دیکھتے تو اس کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے تنگ نظری کا طعنہ دیتے ہوئے صحابیات اور آل نبی کی بیبیوں کی چادروں کی حرمت کو بھول کر ایسے ایسے القابات سے نوازتے تھے  جن کو بیان کرنے سے بھی ان طیبات کی حیاکی بے حرمتی ہوگی کہ ایک طرف آگ و خون اور قیامت۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر حواس چھین لینے والے وقت میں بھی انہوں نے چادر کی حفاظت کی۔۔۔۔۔۔ان پاکیزہ چادروں کی حرمت کو سلام پیش کرتی وہ لڑکی دین میں موجود حوالے دینے سے بھی اسی لیے گریز کرتی تھی کیونکہ وہ اپنے دین کی پاکیزگی کو بھی ان غلیظ ذہنوں کے شر سے محفوظ رکھنا چاہتی تھی۔ اس علامتی پڑھے لکھے معاشرے کو یہ باور کراتی پھر رہی تھی کہ وہ ہرگز ویسی نہیں جیسا اسے سمجھا جا رہا ہے۔۔۔۔ نہ تو اسکا تعلق کسی نام نہاد مذہبی گروہ سے ہے اور نہ ہی وہ کسی کالعدم تنظیم کا حصہ ہے۔۔۔۔ ہاں بس اتنا کرو کہ اسکے نقاب کو کالعدم قرار نہ دو۔۔۔۔۔۔ وہ نہ تو کسی ایسی جلد کی بیماری میں مبتلا ہے کہ جس وجہ سے اس نے اپنا منہ چھپا لیا ہے۔۔بس اس انتظار میں کہ اس سے نارمل رویہ اختیارکیا جائے تا کہ وہ بتا سکے کہ وہ نفسیاتی مریض بھی نہیں ہے کہ بات کرنے پہ بھی نقصان پہنچائے گی۔وہ کہہ رہی تھی کہ جس طرح اس سوسائٹی میں کپڑوں کا بوجھ کم سے کم کرنے والے لوگ موجود ہیں اسی طرح زیادہ سے زیادہ کرنے والے بھی تو ہو سکتے ہیں۔۔۔؟۔۔۔۔اگر زیادہ وزنی ہونے سے میرا دم گھٹے گا تو مسئلہ مجھے ہونا چاہیے طنزیہ انداز میں مسکراہٹ تمہارے چہروں پہ نحوست کیوں پھیلاتی ہے اور اگر مجھے دیکھ کر تمہیں کوفت ہوتی ہے تو تمہارے اس صبر کا اجر بھی خدا تمہیں ضرور اور جلد دے گا تمہیں صرف اپنی جستجو کی عادت پر تھوڑا کنٹرول کرنا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔ نصابی سرگرمیوں سے لے کر غیر نصابی تک ہر کسی میں اپنا نام منوا سکتی ہوں مگر میرے راستے میں بلا وجہ کی رکاوٹیں کھڑی کر کے مسلمان ہوتے ہوئے بھی اسلام دشمنی کا  مظاہرہ کرنا بند کر دو۔۔۔۔۔وہ ابھی بھی یہ لڑائی جیتنا چاہتی تھی جس میں ابھی تک وہ اپنے دشمنوں کا تعین بھی نہیں کر پائی تھی معاشرے کے بیمار ذہن اس کے لیے طرح طرح کی اذیتیں ایجاد کر کے اسے نفسیاتی مریض بنانا چاہتے تھے مگر وہ نہیں بنی تھی۔۔۔وہ ابھی بھی اسی راستے پر تھی اور راہ گیروں کو بتاتی جاتی تھی کہ اسکا کوئی قصور نہیں ہے سوائے اس کے کہ وہ ایک مظبوط نظریے کی بنیاد پر وجود میں آنے والی اسلامی ریاست کے ایک اسلامی گھرانے کی  مسلمان لڑکی تھی۔
عنوان: اسکارف والی لڑکی
از قلم: حفصہ خالد