ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پنک ربن کے مابین مفاہمتی یادداشت پر دستخط

ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پنک ربن نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرتے ہوئے تجدید عہد کیا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طالبات کو بریسٹ کینسرکے مضمرات کے حوالہ سے آگاہی فراہم کرنے کیلئے طالبات سے رابطہ کیا جائے گا۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ارشد علی اور پنک ربن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر عمر آفتاب نے مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کئے جبکہ اس موقع پر ایڈوائزر لرننگ انوویشن ڈویڑن، شاہین خان، ڈائریکٹر جنرل، لرننگ انوویشن ڈویڑن، فدا حسین اور دیگر علمی اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پنک ربن کے مابین باہمی تعاون اگلے پانچ سال تک جاری رہے گا جس میں بریسٹ کینسر کے حوالے سے مشترکہ تحقیق کرنا، بریسٹ کینسر سے متعلق سیمینار اور کانفرنسوں کا انعقاد اور ایکشن پلان تیار کرنے کے لیے ایک ورکنگ گروپ کا قیام شامل ہوں گے۔
پنک ربن یوتھ پروگرام کے تحت ہائر ایجوکیشن کمیشن اور پنک ربن نے ایک لاکھ سے زائد طالبات کو گزشتہ پانچ سال کے دوران بریسٹ کینسر کے حوالے سے معلومات فراہم کی ہیں۔اس موقع پر ڈاکٹر ارشد علی نے کہا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پنک ربن اور جامعات کے درمیان پل کا کردار ادا کرتا رہے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ طالبات تک بریسٹ کینسر سے متعلق معلومات کی فراہمی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انھوں نے پنک ربن کو سراہا کہ انھوں نے گزشتہ پانچ سالوں میں 1,050,000 خواتین طلبہ کو بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی فراہم کی ہے۔عمر آفتاب کا کہنا تھا کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اشتراک سے پنک ربن کے پیغام کو ملک کے طول و عرض میں پھیلانے میں آسانی ہو گی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خواتین طلبہ تک بریست کینسر سے متعلق معلومات کی فراہمی ہماری اولین ترجیح ہے۔ یاد رہے بریسٹ کینسر سے پاکستان میں ہر سال 40,000 اموات ہوتی ہیں جبکہ ہر 9میں سے 1 خاتون کو یہ بیماری لاحق ہوسکتی ہے۔