ایڈمیشن پالیسی رکاوٹ کیوں بن گئی؟

لاہور(کرئیرکاروان ڈاٹ کام) ہمارا نظام تعلیمٗ برطانوی نظام تعلیم سے اخذ کردہ ہے۔ تعلیم نجی اور سرکاری دونوں سطح پر دی جا رہی ہے لیکن پنجاب بھر کے تعلیمی بورڈز کی دوغلی ایڈمشن پالیسی سرکاری سکولوں میں داخل ہونے کے خواہش مند نہم اور دہم کے طالب علموں کی راہ میں رکاوٹ بن گئی ہے۔ ماہرین تعلیم نے کہاہے کہ اس قسم کی پالیسیاں جاری رکھی گئیں تو جوبچے نجی سکولوں سے سرکاری سکولوں میں تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ محروم رہیں گے۔ بورڈ کی پالیسی کے مطابق نجی سکولوں میں زیرتعلیم جماعت نہم کے طالب علم امتحانات میں فیل ہونے کی صورت میں رزلٹ کے30دن کے اندر دوبارہ داخلہ بھیج سکتے ہیں ان کے لیے جماعت نہم کی رجسٹریشن دوبارہ نہیں کرنی پڑتی ہے جب کہ اگرکسی نجی سکول کاطالب علم جماعت نہم میں سرکاری سکول میں داخلہ لینا چاہے تو اس کو داخلہ نہیں مل سکتا۔ نجی سکولوں سے سرکاری سکولوں میں واپس جانے اور دوبارہ داخلہ بھیجنے کی سہولت نہیں۔ سکول ذرائع کے مطابق بورڈ نے ری ایڈ مشن سہولت صرف نجی سکولوں کو دی ہے۔ سرکاری سکول کے سربراہان کا مؤقف ہے کہ بورڈز رجسٹریشن کی آخری تاریخ15مئی تھی وہ گزرگئی اب ہم مجبور ہیں۔ ماہرین نے کہا کہ اگراس طرح کی پالیسیاں رہیں تو پھر والدین اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں کیسے داخل کریں گے۔ اساتذہ تنظیموں کے رہنمائوں ایجوکیٹرزایسوسی ایشن کے شفیق  بھلوالیہ اور دیگرنے اس پالیسی کی مذمت کی ہے اور اسےتبدیل کرنے کا مطالبہ کیاہے۔