پنجاب تعلیمی اداروں میں تبدیلی

لاہور(نمائندہ کریئر کاروان) گلبرگ لاہور کے ایک سرکاری گرلز سکول میں چھٹی سے دسویں کلاس تک کی طالبات کو جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے تعلیم حاصل کررہی ہیں۔اس کے علاوہ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اورسکولز ایجوکیشن نے ابتدائی طور پر 28 کتابیں آن لائن کردی ہیں۔سرکاری سکولوں میں بلیک اور وائٹ بورڈ کا زمانہ اب ختم ہوگیا، اب بچوں کو ڈیجیٹل سکرین پر ویڈیوز کی مدد سے بچوں کو پڑھایا جارہا ہے، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور سکولز ایجوکیشن نے ای لرن ایپ تیارکی ہے جس کے ذریعے چھٹی سے بارہویں کلاس تک سائنس اور ریاضی کی کتابوں کو آن لائن کردیا گیا ہے، ان کتابوں میں 13 ہزار سے زائد ویڈیو لیکچر، 592 مثالیں ، 2100 اردو میں آڈیولیکچر جبکہ 1830 اینی میٹیڈ شامل کئے گئے ہیں جن کی مدد سے بچے آسانی سے سائنس اورریاضی سیکھ سکتے ہیں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی کے مطابق پنجاب کے 7 اضلاع میں 200 اساتذہ میں ٹیبلیٹ فراہم کئے جا چکے ہیں۔
 اس ایپ کی وجہ سے سائنس اور حساب کے مضامین کے نتائج میں واضح بہتری آئی ہے، 856 سکولوں میں ملٹی میڈیا کلاسیں قائم کی جا رہی ہیں جبکہ 12 ہزار اساتذہ کوٹرینگ دی جا چکی ہے۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈکے چیئرمین ڈاکٹرعمرسیف نے بتایا اس اقدام سے صوبے میں یکساں نظام تعلیم کے فروغ میں مدد ملے گی جبکہ والدین پربچوں کو ٹیوشن پڑھانے کا اضافی بوجھ بھی نہیں پڑے گا، اسی طرح صوبے کے 2 کروڑ 20 لاکھ بچے جو اسکولوں سے باہر ہیں وہ بھی اس موبائل ایپ کے ذریعے تعلیم حاصل کرسکیں گے۔