تم زیادہ سے زیادہ ٹرک ڈرائیور بن سکتے ہو

بات بڑی سیدھی سی ہے، خود اعتمادی، مسلسل کوشش اور صحیح موقع پر صحیح فیصلے، ناکامیاں بھی کامیابیوں میں ڈھل جائیں۔
کبھی یہ نہ سوچیں کہ آپ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ گئے، کیونکہ ایک طرف اگر 22سال کی عمر میں ڈگری لینے والوں کو نوکری کی تلاش میں 6-5سال لگ جائیں، تو دوسری طرف 26-25سال کی عمر میں تعلیم مکمل کرنے والوں کو دنوں اور ہفتوں میں پسند کی نوکریاں مل جائیں، ایک طرف اگر کچھ 26-25سال کی عمر میں اداروں کے سربراہ بن کر 60-50سال کی عمر میں چل بسیں، تو دوسری طرف کئی 60-50سال کی عمر میں کسی کمپنی یا محکمے کی سربراہی تک پہنچ کر 90-80سال تک زندہ رہیں اور ایک طرف اگر کچھ ایسے بھی کہ جن کی 20-22سال کی عمر میں شادی ہو جائے مگر وہ عمر بھر اولاد کی نعمت سے محروم رہیں تو دوسری طرف کچھ وہ بھی جو 50-40سال کی عمر میں شادی کرکے بھی ماں باپ بن جائیں، اگر کچھ پلے نہیں پڑ رہا تو آسان لفظوں میں سمجھاتا ہوں، اگر ایک طرف 55سال کی عمر میں اوباما دو مرتبہ صدارت بھگتا کر ریٹائر ہو جائے تو دوسری طرف 70سال کی عمر میں ٹرمپ پہلی بار صدر بن پائے تو کہنا یہی کہ یہاں نہ کوئی کسی سے آگے نکلے اور نہ کوئی کسی سے پیچھے رہے، یہاں ہر کوئی اپنے ’’ٹائم زون‘‘ میں اپنی زندگی گزار رہا اور ہر ایک کی اپنی رفتار، اپنا راستہ اور اپنی منزل، ہاں یہ درست کہ خود اعتمادی،مسلسل کوشش اور صحیح موقع پر صحیح فیصلے، فاصلے کم اور منزلیں آسان بنا دیں۔
صاحبو! اگر کامیابی آپ کو دنیا سے متعارف کروائے تو ناکامی دنیا کا آپ سے تعارف کروائے مگر تاریخ کے ہیرو وہی جو ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کا گُر جانیں، ذرا سوچئے 14لاکھ سال پہلے دریافت ہونے والی آگ ہو یا 15ہزار سال پہلے تیر کمان کی ایجاد ہو، 35سو سال قبل مسیح پہیوں کا وجود میں آنا ہو یا 12سو سال قبل مسیح آہنی دور کی ابتداء ہو، 2سو سال قبل مسیح تعمیراتی کاموں میں کنکریٹ کا استعمال ہو یا 1569میں ’’نیوی گیشن سسٹم‘‘ کا آغاز ہو، 1712میں آیا صنعتی انقلاب ہو یا 1876میں ہوئی ٹیلی کمیونیکیشن کی ترقی ہو، 1903میں لڑاکا طیاروں کا آنا ہو یا 1941میں مین ہٹن پروجیکٹ اور انسانی تاریخ کا سب سے طاقتور ہتھیار ہو اور یا پھر 1954میں شروع ہوئی خلائی دوڑ ہو یا 1991میں آئی انٹرنیٹ کی دنیا ہو، ان 12ایجادوں کو منطقی انجام تک پہنچانے والے وہ سر پھرے جن کی خود اعتمادی، مسلسل محنت اور صحیح موقعوں پر صحیح فیصلوں نے مایوسیوں کو امیدوں اور ناکامیوں کو کامیابیوں میں بدل کر کرہ ارض کی تاریخ ہی بدل ڈالی، اب کیا کبھی کسی نے سوچا کہ ان سب نے کیا کیا قربانیاں دیں اور کن کٹھن حالات میں یہ کامیابیوں تک پہنچے، یہ کوئی نہیں سوچے گا کیونکہ ہمارا المیہ ہی یہی کہ ہم کامیابی دیکھ کر فوراً رشک یا حسد میں تو مبتلا ہو جائیں مگر اس کامیابی کے پیچھے چھپی داستان اور جدوجہد پر ایک نظر بھی نہ ڈالیں، جیسے ہم سب کو یہ تو معلوم کہ ابراہم لنکن متحدہ امریکہ کا پہلا صدر مگر ہم اس ابراہم لنکن کو نہ جانیں جو ایک موچی کا بیٹا، جس کی بدصورتی کا دوست مذاق اڑایا کرتے، جس کا فاقوں بھرا بچپن جوتے سیتے سیتے گزرا اور جو زندگی کے 15شعبوں میں ناکام ہوا، ہمیں وہ نیلسن منڈیلا تو دکھائی دے جو جنوبی افریقہ کا پہلا سیاہ فام صدر اور دنیا بھر کا ہیرو مگر ہمیں وہ نیلسن منڈیلا نظر نہ آئے جو باسی روٹی کے ٹکڑوں کو ترسا کرتا، جس کے جوتے ہمیشہ پھٹے اور کپڑے میلے کچیلے ہوتے، جس پر کئی دفعہ تشدد ہوا، جسے کئی دفعہ جان بچانے کیلئے گٹروں اور گندے نالوں میں چھپنا پڑا اور جو 27سال جیل میں سڑتا رہا، ہم سب کو امریکہ کا صدر ریگن تو یاد مگر ہم اس رونالڈ ریگن کو بھلا دیں کہ جس نے گھوڑوں کے اصطبل میں نوکری کی، جس نے کئی ماہ ویٹری کی اور جو فلموں میں چھوٹے موٹے کرداروں کیلئے ہدایت کاروں کی خوشامدیں کیا کرتا، ہم سب بالی وڈ کے کنگ خان سے تو متاثر مگر ہمیں وہ شاہ رخ یاد نہیں جو دوست سے 20روپے ادھار لے کر ممبئی آیا، جسے کرایہ نہ دینے پر مالکِ مکان نے گھر سے نکال دیا اور جو اکثر ممبئی کے پارکوں کی بنچوں پر سویا ملتا اور ہم سب شہرہ آفاق فٹ بالر رونالڈو کے تو گرویدہ، مگر وہ رونالڈو کسی کو یاد نہیں کہ جس کا بچپن ٹین کے چھت والے 3مرلے کے مکان میں گزرا، جو ایک چاکلیٹ کیلئے ڈیڑھ سال تک ترستا رہا اور جس نے ایک عرصے تک اس لئے ننگے پاؤں فٹبال کھیلی کیونکہ اس کے پاس فٹ بال شوز خریدنے کے پیسے نہ تھے، کبھی آپ نے سوچا کہ یہ سب زمین سے آسمان تک کیسے پہنچے، بات پھر وہی کہ خود اعتمادی، مسلسل کوشش اور صحیح موقع پر صحیح فیصلے۔
ذرا یہ بھی سنتے جائیں، ڈھلتی دوپہر، ہارورڈ یونیورسٹی اور ریاضی کی کلاس، کافی دیر سے ہاتھ اُٹھائے بل کی جب باری آئی اور اس نے ایک لمبی جمائی کے بعد انتہائی احمقانہ سا سوال پوچھا تو قہر آلود نظروں سے گھورتے پروفیسر نے انتہائی غصیلی آواز میں کہا ’’اسی وقت کلاس سے نکل جاؤ‘‘ ہکا بکا بل ابھی اپنی کتابیں ہی سمیٹ رہا تھا کہ پروفیسر صاحب کی غصے بھری آواز دوبارہ گونجی ’’بل میری بات پلے باندھ لو، تم جتنی بھی ترقی کر لو ٹرک ڈرائیور سے زیادہ کچھ نہیں بن سکتے‘‘ کلاس میں قہقہے گونجے اور بل سر جھکائے بوجھل قدموں سے کلاس روم سے نکل گیا، صاحبو! ریاضی کا یہ بظاہر ماٹھا طالبعلم جسے یونیورسٹی کی روایات، اساتذہ کے پڑھانے کے انداز، کلاس روم کے ماحول اور کلاس فیلوز کی گفتگو سے سخت چڑ تھی اور جو اپنے اکلوتے دوست پال ایلن کے ساتھ آئے روز یونیورسٹی آنے کی بجائے سیاٹل جھیل کے کنارے بیٹھ کر اُس دنیا کے تصور میں کھویا رہتا جو دنیا اس کے خوابوں اور خیالوں میں تھی، یہ اُس دن کلاس سے نکلنے کے بعد پھر کئی روز تک جب یونیورسٹی نہ آیا تو اس کا نام خارج کر دیا گیا، اور جس صبح اسے اپنا نام خارج ہونے کی اطلاع ملی اسی شام وہ اپنے دوست پال ایلن سے بولا ’’پال اب ہم اپنی دنیا خود بنائیں گے‘‘ اور پھر چند ماہ بعد 1975میں اس نے اپنے دوست کے ساتھ مل کر دنیا کی پہلی سافٹ وئیر کمپنی کی بنیاد رکھی جو دیکھتے ہی دیکھتے 1980تک نہ صرف واشنگٹن ریاست کی سب سے بڑی کمپنی بن گئی بلکہ اگلے چند سالوں میں کمپنی کی مالی پوزیشن ایسی ہوئی کہ دنیا کے 51بینکوں کی شاخیں کمپنی کے دفتروں میں کھل گئیں، تو صاحبو! وہ نالائق طالبعلم جس کے احمقانہ سوالوں پر کلاس فیلوز ہنسا کرتے، جس کے مستقبل کا سوچ کر والدین پریشان رہتے اور جو اپنے استاد کی نظر میں محض ایک ٹرک ڈرائیور تھا، اسے دنیا آج بل گیٹس کے نام سے جانتی ہے،جی ہاں وہی بل گیٹس کہ جسے 1998 میں امریکی صدر بل کلنٹن نے یوں خراج تحسین پیش کیا کہ ’’وی آر دی نیشن آف بل گیٹس‘‘ وہی بل گیٹس جو 38سال کی عمر میں دنیا کا امیر ترین شخص بن کر آج بھی دنیا کا مالدار ترین انسان، جس کے 102ممالک میں لاکھوں ملازمین اور جس کی کمپنی اب تک ایک لاکھ 28ہزار لوگوں کو ارب پتی بنا چکی، وہی بل گیٹس جسے دنیا کے 35ممالک میں سرابرہ مملکت کا پروٹوکول حاصل اور جو کوئی عہدہ نہ ہونے کے باوجود پچھلے 18سال سے دنیا کی بااثر ترین شخصیات میں شامل اور وہی بل گیٹس جس سے ہاتھ ملانا اور جس کے ساتھ تصویر کھینچوانا ایک اعزاز اور جسے جس یونیورسٹی سے نکالا گیا آج اسی ہارورڈ یونیورسٹی کے گیٹ پر اس کے نام کی تختی لگی ہوئی، یہاں جو بات آپ تک پہنچانی وہ یہ کہ اسی بل گیٹس سے جب ایک بار پوچھا گیا کہ ’’اگر کوئی شخص بل گیٹس بننا چاہے تو وہ کیا کرے‘‘ تو مسکراتا بل گیٹس بولا ’’خود اعتمادی، مسلسل محنت اور صحیح موقع پر صحیح فیصلے‘‘ تو دوستو کوئی آگے نکل گیا یا آپ پیچھے رہ گئے، ان چکروں میں پڑنے کی بجائے یہ سیدھی سادی بات پلے باندھ لیں کہ خود اعتمادی، مسلسل کوشش اور صحیح موقع پر صحیح فیصلے، یقین جانئے ناکامیاں بھی کامیابیوں میں ڈھل جائیں گی۔