بچوں کو سکول نہ بھیجنے پر کیا ہوگا

لاہور(نمائندہ کریئر کروان)پنجاب کے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم طلباء کے والدین کیلئے حکومت پنجاب نے نیا قانون تیار کر لیا، سکول نہ بھیجنے اور طلباء کے مسلسل غیر حاضر رہنے پر والدین کو پانچ سو روپے سے دس ہزار جرمانہ اور ایک ہفتہ قید میں رکھا جائے گا۔
پنجاب کے سرکاری سکولوں میں زیر تعلیم طلباء کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے پنجاب حکومت نیا قانون لارہی ہے، جس کے مطابق والدین کوطلباء کیسرکاری سکولوں میں غیر حاضر رہنے پر سزا دی جائے گی۔ محکمہ قانون سے ملنے والی معلومات کے مطابق طلباء کی سکولوں میں مسلسل غیر حاضری پر والدین کو پانچ سو روپے سے دس ہزار تک جرمانہ، سکول نہ آنے والے بچوں پر ان کے والدین کو ایک ہفتہ قید کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
محکمہ قانون کے مطابق نئے قانون کی منظوری کے لیے سمری وزیراعلیٰ پنجاب کو ارسال کردی گئی ہے، دوسری جانب نئے قانون میں 2014 کمپلسری ایجوکیشن ایکٹ میں شامل سبسڈی بند نہیں کی جائے گی، نئے قانون میں امداد جاری بلکہ نئی سزا اور جرمانہ شامل ہوگا۔
نئے قانون کی حتمی منظوری وزیراعلیٰ پنجاب اور پنجاب کیبنٹ کمیٹی آئندہ ہونے والے اجلاس میں دے گی۔