بھارت میں تعصبانہ مواد پڑھائے جانے کا انکشاف

 

 

لاہور(نیوز ڈیسک)بھارت کی ایک ریاست ویسٹ بنگال میں واقع بردوان کے پرائمری محکمہ تعلیم کے سرکاری میونسپل گرلز ہائی اسکول میں تعصبانہ مواد پڑھائے جانے کاانکشاف ہواہے۔تفصیلات کے مطابق اسکول کی کتاب میں انگریزی لفظ ”u“کے سامنے کالی رنگت والے فرد کی تصویربنائی گئی ہے اور یوفاراگلی کا سبق پڑھاتے ہوئے کالی رنگت والے افراد کو بدصورت قراردیا گیاہے۔یادرہے کہ نسل پرستی کا یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ سمیت پوری دنیامیں نسل پرستی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔اطلاعات کے مطابق والدین کی طرف سے اس طرح کا تعصبانہ مواد پڑھائے جانے پر شدید احتجاج کیاگیاہے۔والدین کا کہناہے کہ بچوں کے دلوں کوکالی رنگت کے خلاف نفرت سے بھراجارہاہے جبکہ کالی رنگت والے بچے ایسے سبق پڑھنے سے ہمیشہ کے لیے احساس کمتری کاشکار ہوجائیں گے۔والدین نے مطالبہ کیاہے کہ اس تعصبانہ مواد کو فوراًبچوں کے کورس سے نکالاجائے۔
دوسری جانب محکمہ تعلیم کے ضلعی انسپکٹر نے اس واقعے پرتبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس قسم کی کتابیں سرکارکی جانب سے اسکولوں کو نہیں دی گئیں ہیں۔انہوں نے کہاکہ متعلقہ اسکول سے اس کتاب کے بارے میں تحقیقات کی جائیں گی اور اگر ضرورت پڑی تو کتاب کوتبدیل بھی کردیاجائے گا۔