بیکن ہاؤس نے غلطی تسلیم کر لی

سوشل میڈیا پر بیکن ہاﺅس سکول سسٹم کے خلاف مہم چل رہی ہے بیکن ہاﺅس کے خلاف یہ سنگین الزام لگنے کی وجہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی کچھ تصاویر ہیں جن میں دکھایا گیا ہے کہ یہ ادارہ تاریخ کی کتب میں بھارتی موقف کو فروغ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ خاص طور پر تاریخ کے مضمون کا ایک سوالنامہ سوشل میڈیا پر پھیلایا جا رہا ہے جس میں ایک سوال یہ ہے کہ ”بھارت 1965 اور 1971 کی جنگیں کیوں جیتا؟“
بیکن ہاﺅس سے منسوب کئے گئے اس سوالنامے اور مبینہ طور پر اس سکول سسٹم کی کتب سے لئے گئے کچھ نقشوں کی وجہ سے اسے شدید ترین تنقید کا سامنا ہے۔ ایک نقشے میں پاکستانی علاقوں کو بھارت کا حصہ دکھایا گیا ہے اور مبینہ طور پر یہ بیکن ہاﺅس کے ایجوکیٹرز سکول سسٹم کی کتابوں سے لیا گیا ہے۔ اس نقشے کے ساتھ یہ پیغام شیئر کیا جارہا ہے کہ ”پاکستانی یا بھارتی تعلیمی ادارہ ایجوکیٹرز سکول سسٹم نے اپنی کتابوں میں مقبوضہ کشمیر سمیت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو بھی بھارت کا حصہ پڑھانا شروع کردیا۔
اب بیکن ہاؤس سکول سسٹم پر غداری کے الزام نے سکول انتظامیہ کو سوچنے پر مجبور کردیا۔سوشل میڈیا پر غداری کا الزام لگنے کے حوالے سے بیکن ہاﺅس سکول سسٹم نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے آدھی غلطی تسلیم کر لی ہے۔بیکن ہاﺅس سکول کی جانب سے وضاحتی بیان میں کہا گیا ہے کہ ایجوکیٹر سکول کی کتابوں میں پاکستان کے نقشے کی غلط نمائندگی کے حوالے سے ماضی میں ایجوکیٹر اس انسانی غلطی کو تسلیم کر چکا ہے اور اس پر متعلقہ لوگوں سے معافی بھی مانگ چکا ہے اور ان غلطیوں کو درست کرنے کے لیے 2015ءسے کام جاری ہے تاہم اس عمل میں امید سے زیادہ وقت اس لیے لگ گیا کیونکہ پاکستانی نقشوں کے حوالے سے21کتابوں میں267 غلطیاں ہیں جو جماعت 1سے 8تک کی مختلف کتابوں اور ورک بکس پر پائے جاتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے نقشے ٹھیک کردئیے گئے ہیں۔ ایجوکیٹرز کی تمام کتابوں کو ٹھیک کر کے پنجاب ٹکسٹ بک بورڈ کو بھیج دی گئی ہیں۔
سکول انتظامیہ نے اپنے وضاحتی بیان میں مزید کہا ہے کہ تین بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اب مزید نفرت انگیز مہم نہیں چلا سکتے۔ اپنے پیارے ملک سے محبت کا جذبہ بیکن ہاﺅس کے ہر طالب علم، ملازم اور مالک کے دل میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے طالب علم اپنے قومی شناخت پر فخر کا مظاہرہ کرتے ہیں اور ان کی کامیابیاں انہیں گلوبل پلیٹ فارم تک لے کر جاتی ہیں، ہمارے بہت سے سکول کئی دہائیوں سے فوجی چھاؤنیوں میں بھی قائم ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ بیکن ہاﺅس ہمارے ملک کا دفاع کرنے والوں کا پسندیدہ سکول سسٹم ہے۔ سوشل میڈیا پر چلنے والی یہ نفرت انگیز مہم ایجوکیٹر سکول کے سابق ملازم نے شروع کی جسے لڑائی جھگڑا کرنے پر سکول سے نکال دیا گیا تھا اور اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی تھی۔ پھر اس سابق ملازم نے میڈیا کے کچھ لوگوں کو ساتھ ملا کر یہ مہم چلائی جن کے مقاصد کا علم نہیں لیکن یہ علم ہے کہ یہ نفرت انگیز مہم مصنوعی طور پر بنائی گئی ہے جس کے خلاف ہم نے ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ میں شکایت درج کرائی ہے۔