تعلیمی بورڈ کراچی کا پری انجینئرنگ اور جنرل سائنس کے نتائج کا اعلان

گزشتہ روز تعلیمی بورڈ کراچی نےپری انجینئرنگ اور جنرل سائنس کے نتائج کا اعلان کیا۔چیئرمین انٹربورڈ پروفیسر انعام احمد نے نتائج کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سائنس پری انجینئرنگ کے سالانہ امتحانات 2018ءمیں بحریہ ماڈل کالج (مجید ایس آر ای)کی حنا خادم بنت خادم حسین رول نمبر326390 نے 1100 میں سے 997 نمبرز اے ون گریڈ لے کر پہلی پوزیشن حاصل کی آدم جی گورنمنٹ سائنس کالج کے محمد حمزہ شہاب ولد سرور شہاب رول نمبر 307286 نے 991نمبرز اے ون گریڈ لے کر دوسری پوزیشن جبکہ اسی کالج کے سید محمد علی رضوی ولد سید وقار حسین رضوی رول نمبر307371

 نے 986 نمبرز اے ون گریڈ لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔انھوں نے مزید بتایا کہ سائنس جنرل کے سالانہ امتحانات 2018 میں آدم جی گورنمنٹ سائنس کالج کے مصعب بن جاوید ولد جاوید نسیم رول نمبر 70703 نے 1100 میں سے 948 نمبرز اے ون گریڈ لے کر پہلی پوزیشن، ایف جی بوائز انٹرکالج ڈاکٹر داﺅد پوتہ روڈ کے محمد فہد ولد محمد شہزاد رول نمبر 71079 نے 947 نمبرز اے ون گریڈ لے کر دوسری پوزیشن جبکہ سینٹ لارنس گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کی اریبہ آصف بنت آصف اللہ رول نمبر 74071 نے 938نمبرز اے ون گریڈ لے کر تیسری پوزیشن حاصل کی۔
ناظم امتحانات عظیم احمد نے نتائج کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ سائنس پری انجینئرنگ کے امتحانات میں 33904 امیدواروں نے رجسٹریشن حاصل کی جبکہ 33329 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے جس میں سے 14076 امیدوار کامیاب قرار پائے اس طرح کامیابی کا تناسب 42.23 فیصد رہا، کامیاب ہونے والے طلبا میں سے847 اے ون گریڈ، 2596 اے گریڈ، 3559 بی گریڈ، 4264 سی گریڈ، 2670 ڈی گریڈ اور 140 امیدوار ای گریڈ میں کامیاب قرار پائے۔
انھوں نے مزید بتایا کہ سائنس جنرل کے امتحانات میں 4168 امیدواروں نے رجسٹریشن حاصل کر کے 4123 امیدوار امتحانات میں شریک ہوئے جبکہ 1396امیدوار کامیاب قرار پائے اس طرح کامیابی کا تناسب 33.86 فیصد رہا ان امتحانات میں28 امیدواروں نے اے ون گریڈ، 189 نے اے گریڈ،458 نے بی گریڈ،511 نے سی گریڈ،202 نے ڈی گریڈ جبکہ 8 امیدواروں نے ای گریڈ میں کامیابی حاصل کی۔
اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کے سائنس پری انجینئرنگ گروپ کے سالانہ امتحانات برائے 2018 کے نتائج کے مطابق کراچی کے 25 ہائرسکینڈری اسکولوں اور کالجوں کے نتائج ”صفر“ فیصد رہے جبکہ 21 تعلیمی اداروں میں صرف ایک ایک طالب علم کامیابی حاصل کرسکے ہیں،7 ہائر سکینڈری اسکولوں اور کالجوں کے نتائج 100 فیصد رہے جن میں 2 سرکاری ہائر سکینڈری اسکول گورنمنٹ گرلز ہائر سکینڈری اسکول اور قمرے بانی ہاشمی ہائر سکینڈری اسکول شامل ہیں۔
دوسری جانب 16 ہائر سکینڈری اسکولوں اور کالجوں کے نتائج 90 سے 100 فیصد تک رہے جن میں 2 سرکاری کالج آدم جی گورنمنٹ سائنس کالج، سینٹ لارینس گورنمنٹ ڈگری کالج، پی ای سی ایچ ایس گورنمنٹ کالج فار ویمن اور خاتون پاکستان گورنمنٹ ڈگری کالج فار ویمن اسٹیڈیم روڈ شامل ہیں، تاہم 25 کالجز ایسے ہیں جن میں ایک بھی امیدوار کامیابی حاصل نہ کرسکا جن میں گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج منگھوپیر، گورنمنٹ ڈگری گرلز کالج پاک کالونی، گورنمنٹ بوائز ہائر سکینڈری اسکول نمبر 2 ”کے“ ایریا، گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سیکٹر 11 اورنگی ٹاﺅن، کالج آف کراچی گلشن حدید، میڈیکو ہائر سکینڈری اسکول مجید کالونی، پیس انٹرمیڈیٹ کالج گلشن اقبال، پاکستان اسٹیل شاہ لطیف انٹر کالج، حبیب اکیڈمی ہائر سکینڈری اسکول کورنگی نمبرساڑھے 5، ایس ایم بی قائد اعظم پبلک ہائر سکینڈری اسکول، این جے وی گورنمنٹ گرلز ہائر سکینڈری اسکول (سندھی میڈیم) گورنمنٹ بوائز اینڈ گرلز سکینڈری اسکول کمال خان جوکھیو،بوڈماس موڈل اسکول اینڈ کالج، گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج شمس پیر بابابھٹ،کراچی گورنمنٹ کالج فار ویمن چاند بی بی روڈ، اقرا حفاظ ڈگری کالج، ریک نورزکالج آف مینجمنٹ اینڈ کمپیوٹر سائنس، دا ایجوکیشن حب، ایم ٹی آئی ہائر سکینڈری اسکول، پاک گرامر انٹرمیڈیٹ کالج، لیاقت کالج آف میجنمنٹ اینڈ سائنسز، ایمپیریل کالج، غازی محمد بن قاسم گورنمنٹ بوائز ہائر سکینڈری اسکول، گورنمنٹ گولز ہائر سکینڈری اسکول یونیورسٹی روڈ، ٹرومین اسکول سسٹم (انٹر میڈیٹ) شامل ہیں ، دوسری جانب کل 249 کالجوں میں سے 181 کالج ایسے ہیں جن میں ایک بھی امیدوار نے ”اے ون“ گریڈ جبکہ 122 کالجوں کے کسی بھی طالب علم نے ”اے“ گریڈ حاصل نہیں کیا، 42 کالج ایسے ہیں جن کے نتائج 30سے 50 فیصد، 28 کالجوں کے نتائج 20 سے 30 فیصد، 9جبکہ کالجوں کے نتائج 20 فیصد سے بھی کم رہے ہیں۔
چیئرمین اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ انعام احمد کاکہنا ہے کہ فیل ہونے والے کالجوں میں زیادہ تر سرکاری کالج شامل ہیں، نجی کالجوں کی تعداد نسبتا کم ہے، وہ تعلیمی ادارے جن کی کامیابی کا تناسب 33 فیصد سے کم ہے انھیں خط ارسال کیا جاتا ہے اس حوالے سے ڈائریکٹرکالجز اور سیکریٹری کالجز کوبھی خط تحریر کیا ہے ان کی جانب سے بھی ڈیٹا منگوایا گیا ہے امید ہے کہ مستقبل میں ان کالجوں کی جانب سے بھی اچھے نتائج سامنے آئیں گے۔انھوں نے کہاکہ چھوٹے کالجوں میں طلبہ کی تعداد کم ہوتی ہے اور اگر اس کالج کے وہ چار پانچ بچے فیل ہوجائیں تو اس کالج کا نتیجہ صفر ہوجاتا ہے جبکہ اس کے مقابلے میں بڑے کالجوں کی صورتحال مختلف ہوتی ہے۔