تعلیم کے ساتھ ہنر سکھا دیں.....عبدالحاکم

جب تک ہم اسکولز اور کالجز میں ہوتے ہیں ہمارا تعلیمی نظام ہمیں پوزیشنز گریڈز اور نمبرز کے لئے تیار کر رہا ہوتا ہے اور ہم جن یونیورسٹی میں آتے ہیں تو یہ تعلیمی نظام ہمیں نوکری کے لئے تیار کرنے پر تل جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ گریجویشن کرو گے تو اچھی نو کری ملے گی ماسٹرز کرو گے تو اور اچھی نوکری ملے گی اور ایم فل ، پی ایچ ڈی کے بعد خوب ترقی ملے گی اسکول سے لے کر یونیورسٹی تک کے سفر کو اگر میں ایک لائن میں بیان کروں تو نوکری ،اچھی نوکری ، بہترین نوکری اور اعلی ترین نوکری۔۔۔کبھی آپ نے غور کیا کہ ہم 1857سے پہلے بھی قابل صاحب علم اور ترقی یافتہ تھے میٹرک تو 1858میں آیا ہے کارنیگی انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنا لوجی امریکا کی ریسرچ رپورٹ کے مطابق آپ کی معاشی کامیابی کا 85فیصد آپ کی مینجمنٹ اسکلز ، آپ کی سوشل ہونے لوگوں سے تعلقات آپ کی شخصیت اور لوگوں سے کام لینے کی صلاحیت پر منحصرہے جبکہ صرف 15فیصد عمل دخل آ پ کی ٹیکنیکل اسکلز کا ہوتا ہے اس ملک اور اس شہر میں ایک سے بڑھ کر ایک باصلاحیت ، ہنر مند اور ٹیکنیکل شخص موجود ہیں لیکن بد قسمتی سے ہمارے گھر اور ہمارے تعلیمی نظام نے انھیں ان کے دل و دماغ میں نوکری کا بھوسا بھر کر ان کی اصل حیثیت کو ہی ختم کر دیا انہیں اپنی صلاحتوں کو اور اپنے ہنر کو منطقی انجام تک پہنچانا نہیں آتا میں ذاتی طور پر ایسے کارپینٹر ، الیکٹریشنز اور پلمبرز کو جانتا ہوں جن کا ہنر ، ٹیکنیکل اسکلز ، آؤٹ آف دی باکس سوچنا اور ان کا کام دیکھ کر آپ عش عش کر اٹھیں گے لیکن بد قسمتی سے انہیں انسانوں کو ساتھ چلانے ، ساتھ لے کر چلنے اور کام کام لینے کا ہنر نہیں آتا ہے اسلئے وہ آج تک وہیں ہیں جہاں آج سے کئی سال پہلے تھے انہوں نے تو کچھ جرات کر کے پھر بھی اپنا کام شروع کردیا لیکن ایک بہترین تعداد با صلاحیت اور ہنر مند افراد کی ایسی ہے جن کے اندر یہ ہمت اور جرات بھی موجود نہیں ہے فن لینڈ نے پچھلے دنوں اپنے دارلحکومت میں پورے ملک کے لئے Meand My City کے نام سے پرائمری کے بچوں کیلئے ایک پروجیکٹ لاؤنچ کیا تھا جس میں انہیں مختلف جگہوں پر لے جا کر کچھ دنوں تک ٹریننگ کروائی گئی کہ بڑی بڑی کمپنیاں لوگوں سے کسی طرح ڈیل کرتی ہیں بزنس کیسے بڑھاتے ہیں گانک سے کیسے بات کرتے ہیں وغیرہ ۔ فن لینڈ کے6شہروں سے65,000بچوں نے اس پروجیکٹ میں حصہ لیا یہ انٹر پر نیورشپ کی ابتدائی تعلیم تھی ہمارے پاس تعلیم اور ڈگری کو ناپنے کا پیمانہ بھی عجیب و غریب ہے ہم موچی سے لے کر پی ایچ ڈی والے تک کو پیسے کے میٹر سے ناپتے ہیں اور آپ جب اس میٹر کو استعمال کرینگے آپ تعلیم یافتہ اور ڈگری ہولڈرز کو ہمیشہ پیچھے پائینگے تھا مس اسٹینلے نے اپنی کتاب مین 733بلینرز کی کیس اسٹڈی کر کے ان کی کامیابی کی 30وجوابات بیان کی ہیں دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں اچھا تعلیمی ادارہ 26ویں اور کلاس میں ٹاپ کرنا30ویں نمبر پر موجود ہے اس کی وجہ بالکل سادی اور سیدھی ہے ایک 10سال کی بچہ جو میکنک کی دوکان پر چھوٹے کے نام سے لگا ہے اس کو روز 50روپے دیہاڑی ملتی ہے اس کے پیسوں کا میٹر 10سال کی عمر سے چالو ہو چکا ہے اس عمر میں ہم جیسے پڑھے لکھے اپنی اماؤں کی گود میں سر رکھ کر سو رہے ہوتے ہیں باپ کی کمائی کو اڑارہے ہوتے ہیں پانی بھی خود اٹھ کر نہیں پیتے اور کھانا بھی اماں بستر پر نوالے بنا بنا کر کھلاتی ہے ہمارے ڈگری یافتہ لوگوں کے پیسے کا میٹر 24سال کی عمر میں شروع ہوتا ہے اور اتنے عرصے میں وہ چھوٹا ہم سے 14سال آگے نکل چکا ہوتا ہے وہ پیسے کمانا اور لوگوں کو ٹریٹ کرنا سیکھ چکا ہوتا ہے نوکری پیشہ آدمی کی اولاد ہمیشہ زبرو سے شروع کرتی ہے اور گول گپے لگانے والے کی اولاد وہاں سے شروع کرتی ہے جہاں سے اس کے باپ نے چھوڑا ہوتا ہے تو آپ بھلا کیسے اس سے مقابلہ کرینگے ؟ ہم اور ہمارا معاشرہ اسکول کالج اور یونیورسٹی کو احساس شعور اور انسانیت کے نام سے نہیں صرف اور صرف پیسہ کمانا سیکھنے کی جگہ کے نام سے جانتے ہیں اور اس سے کہیں ذیادہ موثر یونیورسٹی گاڑیوں کی ورکشاپ ہوتی ہے جہاں آپ یہ کام ذیادہ اچھی طرح اپنا وقت اور صلاحیت ضائع کیئے بغیر سیکھ سکتے ہیں آپ یہ جان کر حیران رہ جائینگے کہ دنیا میں سب سے ذیادہ قرض تعلیم کے نام پر لیا جاتا ہے سب سے ذیادہ خودکشیاں تعلیم کے نام پر کی جاتی ہیں ہندوستان میں 24گھنٹوں میں26خودکشیوں کا تناسب ہے اور یہ چاول کی دیگ کا صرف ایک دانا ہے اگر اس کی آدھی رقم سے نوجوانوں کو انویسٹ کرنا سکھا دیا جائے میرا ماننا یہ ہے کہ اسکولز انٹرپر نیو شپ کے نام سے ایک پورا کورس متعارف کروائیں نہ اس کی کوئی کتاب ہو نہ اسباق ہوں اور نہ ہی تھیوری کا امتحان ہو سال بھر میں وقتاََ فوقتاََ شہر بھر میں موجود ان نوجوانوں کو بلایا جائے جنھوں سے بہت کم عمری میں ہی اپنا کوئی اسٹارٹپ لیا ہو وہ آکر اپنا تجربہ بیان کریں بچوں کو موٹیویٹ کریں چھٹی جماعت سے یا پھر 12سال کی عمر سے اس مضمون کو باقاعدہ پریکٹیکل شکل دی جائے پانچ پانچ بچوں کا گروپ بنا کر ان سے ان کا بزنس پلان تیار کروایا جائے سب ایک ایک ہزار روپے یا پلان کے حساب سے رقم شئیر کرواکر بچوں سے ان فارغ اوقات میں کوئی چھوٹا موٹا کاروبار شروع کروایا جائے وہ شام میں گولا گنڈا یا چپس لگائیں آن لائن کسی چیز کی فروخت بھی ہوسکتی ہے یا پھر کرائے پر کتابیں دینا بھی ہوسکتا ہے بچوں کو بتا دیا جائے کہ تعلیمی سال کے آخر میں آپ جتنا ذیادہ منافع کمائیں گے اسی حساب سے آپ کی رپورٹ کارڈ پر اس کے نمبرز یا س کا گراف ہوگا آخر میں اس منافع میں سے آدھی رقم ایدھی یا الخدمت وغیرہ میں جمع کروادی جائے اس طرح میٹرک کرتے کرتے پانچ سے چھ سالوں میں بچے ذہنی طور فنانشل فری بھی ہوجائیں گے بزنس پلان بنانا بھی سیکھ لیں گے لوگوں سے تعلقات استوار کرنا ، گاہک سے رابطہ بڑھانا ، اپنی جیب خرچ خود نکالنا اور پارٹنر شپ میں جلد ہی کوئی بڑا کاروبار کرنا بھی ان کو آجائے گا اس کے ساتھ ساتھ ان کے اندر اتفاق اور سخاوت کا جزبہ بھی پیدا ہوگا وہ جو کچھ کمائیں گے اس میں معاشرے کے تعلیمی سال کے آخر میں آپ جتنا ذیادہ منافع کمائیں گے اسی حساب سے آپ کی رپورٹ کارڈ پر اس کیے نمبرز یا س کا گراف ہوگا آخر میں اس منافع میں سے آدھی رقم ایدھی یا الخدمت وغیرہ میں جمع کروادی جائے اس طرح میٹرک کرتے کرتے پانچ سے چھ سالوں میں بچے ذہنی طور پر فنانشل فری بھی ہوجائیں گے ۔بزنس پلین بنانا بھی سیکھ لیں گے لوگو ں سے تعلقات استوار کرنا ، گاہک سے رابطے بڑھانا ، اپنی جیب خرچ خود نکالنا اور پارٹنر شپ میں جلد ہی کوئی بڑا کاروبار کرنا بھی ان کو آجائے گا اس کے ساتھ ساتھ ان کے اندر اتفاق اور سخاوت کا جذبہ بھی پیدا ہوگا وہ جو کچھ کمائیں گے اس میں سے معاشرے کے کم تر اور غریب افراد کو کھلے دل کے ساتھ دینا بھی سیکھ لیں گے چینی کہاوت ہے کہ کسی ضرورت مند کو مچھلی دینے سے کہیں بہتر ہے کہ اسے مچھلی پکڑنا سکھا دیں ۔اگر ہمارے دوچار اسکول بھی اس طرز کو اپنالیں تو یہ عمل معاشرے میں بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے ۔