جامعہ پشاور کے طلبہ کا احتجاج

آج صبح جامعہ پشاور کے طلبہ نے انتظامیہ کی جانب سے فیسوں میں اضافے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ متحدہ طلبہ محاذ کے پلیٹ فارم سے طلباء فیڈریشنز اور سوسائٹیز کا کہنا ہے کہ مطالبات کے منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔ طلبہ نے اس موقع پر وائس چانسلر کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور کہا کہ فیسوں میں اضافہ فوری طور واپس لیا اور طلبہ ککیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت کا بندوبست کیا جائے۔وائس چانسلر کے دفتر کے سامنے ہوئے اس مظاہرے میں بیشتر شعبہ جات کے طلبہ نے حصہ لیا۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر انتظامیہ مخالف نعرے درج تھے۔مظاہرین نے سپلیمنٹری پیپرز کی فیس کے خاتمے کا مطالبہ بھی کیا۔

جامعہ پشاور میں فیسوں میں اضافے کے خلاف طلباء نے شدید احتجاج کیا۔ 

طلباء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ جامعہ پشاور کی انتظامیہ ہر ناکامی کا ملبہ طلبہ پر ڈال رہی ہے۔ ہر سال فیسوں میں 10فی صد اضافہ کرکے غریب طلبہ کو تعلیم سے محروم کیا جا رہا ہے۔ ہاسٹلوں میں ہر سال تعمیراتی کا موں کے مد میں کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں لیکن ہاسٹلوں کی حالت زار روز بہ روز خراب ہو تی جا رہی ہے۔ طلبہ سے ڈگری اور ویری فیکیشن کی مد میں ہزاروں روپے بٹورے جا رہے ہیں۔ انسٹیٹیوٹ آف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ کے طلبہ نے ڈگریاں حاصل کر لی ہے لیکن ایچ ای سی میں ان کی ڈگریاں رجسٹرڈ ہی نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک جامعہ پشاور کی انتظامیہ ہمارے مطالبات منظور نہیں کرتی اس وقت تک دھرنا جا ری رہے گا۔