سرگودھایونیورسٹی سابق وائس چانسلر کی درخواست ضمانت

لاہور(نمائندہ کریئر کاروان)لاہورہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں2 رکنی بینچ نے سرگودھا یونیورسٹی میں مختلف بے ضابطگیوں کے معاملہ پر نیب کے ہاتھوں گرفتارڈاکٹرمحمد اکرم چوہدری کی درخواست ضمانت پرسماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے چیئرمین نیب ،ڈی جی نیب اورتفتیشی افسرکوفریق بنایاگیا۔
یہ بھی لازمی پڑھیں: 2 طالبات کا عطیہ
درخواست گزار وکیل نے موقف اختیارکیا کہ نیب نے ڈاکٹر محمد اکرم کوسرگودھایونیورسٹی کے لاہوراورمنڈی بہاو¿ الدین میں سب کیمپس بنانے،400سے زائدملازمین کی غیر قانونی بھرتیوں اورمیڈیکل کالج کی تعمیر میں بے ضابطگی کے الزام میں گرفتارکیا۔درخواست ضمانت میں موقف اختیارکیاگیا کہ سب کیمپس کے قیام کی منظوری سنڈیکیٹ اور ایچ ای سی نے دی، وزیراعلیٰ کی معائنہ ٹیم بھی کیمپس کاقیام درست قراردے چکی ہے،ملازمین کی بھرتی سنڈیکیٹ کی منظوری اورتمام قانونی تقاضوں کے بعد ہوئی،جبکہ میڈیکل کالج کی تعمیر کے معاملہ میں درخواست گزارکاکوئی تعلق نہیں۔درخواست میں مزید کہاگیا ہے کہ نیب کی تحقیقات میں اپنی بے گناہی کے ثبوت فراہم کئے، نیب ریمانڈ حاصل کرنے کے بعدتفتیش مکمل کر کے اسے جیل بھجواچکی ہے، درخواست میں درخواست ضمانت منظور کرنے کی استدعا بھی کی گئی۔
لاہورہائیکورٹ کے دورکنی بینچ نے سرگودھا یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر محمد اکرم کی درخواست ضمانت پرڈی جی نیب سمیت دیگرفریقین کونوٹس جاری کرتے ہوئے13نومبر کو جواب طلب کرلیا۔