سماجی رابطہ کی سائٹس، بچوں سے زیادتی کی ویڈیوز کے پھیلاؤ کو روکنے میں ناکام

نئی دہلی کے سائبر سیکورٹی اور پالیسی تھنک ٹینک، سائبر پیس فاؤنڈیشن، کے مطابق فیس بک کی ملکیتی ایپلی کیشن وٹس ایپ بھارت سمیت دنیا بھر میں جنسی زیادتی کی ویڈیوزکے پھیلاؤ کا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ہے۔ یہ فاؤنڈیشن انٹرنیٹ پر جرائم کے خلاف اور صارفین کی فلاح کے لیے کام کرتی ہے۔
اگرچہ فیس بک نے اپنےپلیٹ فارمز پر نازیبا مواد کو روکنے کی کافی کوشش کی ہے لیکن مارچ میں کی جانے والی تحقیق سے جو نتائج سامنے آئے ہیں،ا ُن کے مطابق سینکڑوں ممبران پر مشتمل وٹس ایپ گروپس میں بچوں سے جنسی زیادتی کی ویڈیوز شیئر کی جا رہی ہیں۔
ان گروپس کی نشاندہی وٹس ایپ پر پبلک گروپس کی تلاش کرنے والی تھرڈ پارٹی ایپ کے ذریعے ہوئی ہے۔ گوگل نے اس تھرڈ پارٹی ایپ کو پلے سٹور سے ہٹا دیا ہے لیکن اس کی اے پی کے یا انسٹالیشن فائلز انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔
سی پی ایف کے پراجیکٹ منیجر اور سائبر سیکورٹی سپیشلسٹ ، نتیش چندن، کو پتا چلا ہے کہ گروپس میں ممبران کو انوائنٹ لنکس کے ذریعے شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے، اس کے بعد انہیں ورچوئل نمبروں کے ذریعے زیادہ پرائیویٹ گروپس میں شمولیت کا کہا جاتا ہے تاکہ ورچوئل نمبروں کی وجہ سے کوئی انہیں ٹریک نہ کر سکے۔
یہ پہلی دفعہ نہیں ہے جب وٹس ایپ پر بچوں سے زیادہ کی ویڈیو پھیلانے کے حوالے سے تنقید ہو رہی ہے۔ پچھلے سال دسمبر میں ٹیک کرنچ کی ایک تحقیق میں پتا چلا تھا کہ تھرڈ پارٹی ایپلی کیشنز Adult سیکشن کے ذریعے ایسے گروپس کے انوائٹ لنکس فراہم کرتی ہیں جہاں پیسوں کے عوض بچوں سے زیادتی کی تصاویر خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔
سی پی ایف کی ابتدائی تحقیق میں کم از کم 50 ایسے وٹس ایپ گروپس کے بارے میں پتا چلا تھا، جہاں سینکڑوں بھارتی صارفین بچوں سے جنسی زیادتی کامواد شیئر کرتے ہیں۔
وٹس ایپ کے لیے جعلی خبروں کی نسبت بچوں سے زیادتی کےمواد کا پتا چلانا زیادہ مشکل اور پیچیدہ ہے۔ وٹس ایپ کے اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن فیچر کی وجہ سے قانون نافذ کرنےو الے ادارے بھی ایسی ویڈیوز پھیلانے والوں کو مانیٹر نہیں کر سکتے۔ لیکن اس مسئلے کے دیگر کئی طرح کے حل موجود ہیں۔ وٹس ایپ پہلے ہی مائیکرو سافٹ کی فوٹو ڈی این اے ٹیکنالوجی کے استعمال سے صارفین کے پروفائل فوٹو سکین کرتا ہے اور مماثلت پر اپ لوڈر اور پورے گروپ کے ممبران پر پابندی لگا دیتا ہے۔
پچھلےا گست میں کولمبیا جرنلزم ریویو میں ایک رپورٹ شائع ہوئی تھی، جس میں ہیمانشو گپتا اور ہریش تنیجا نے تجویز دی تھی کہ میٹا ڈیٹا بیسڈ اپروچ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو تمام چیٹ تک رسائی دئیے بغیر جعلی خبریں پھیلانے والے اکاؤنٹس کی شناخت ہو سکتی ہے۔
میٹا ڈیٹا کی معلومات، ملٹی میڈیا مواد کے کرپٹو گرافک ہیش (جسے وٹس ایپ انسٹنٹ فارورڈ نگ کے لیے استعمال کر رہا ہے) اور فیس بک کے ساتھ شیئر کیے ہوئے فون نمبروں سے میسج کا مواد پڑھے بغیر جعلی خبریں پھیلانے والوں کو ٹریک کیا جا سکتا ہے۔
بچوں سے زیادہ کی ویڈیوز کا معاملہ جعلی خبروں سے مختلف ہے۔ اس سے نپٹنے کے لیے زیادہ پیچیدہ حل کی ضرورت ہے۔ یہ دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب صارفین کے پلیٹ فارم وٹس ایپ کی پہلی ترجیح ہونی چاہیے