حکومت سندھ کا خستہ حال سکولوں کی بحالی کا منصوبہ ناکام

تفصیلات کے مطابق سندھ حکومت کی جانب سے صوبے بھر کے 4560 زبوں حال سکولوں کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر اور مرمت کے منصوبے کے تحت ضلع جیکب آباد کے 139پرائمری، مڈل اور ہائی سکولوں کی تعمیر اور مرمت کا منصوبہ مقررہ مدت تک مکمل نہیں ہوسکا ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں طلبہ کا مستقبل داو¿ پر لگ گیا ہے اورہزاروں طلبہ کا تعلیم سے محروم ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے کیوںکہ منصوبے میں شامل سکولوں کے ٹھیکے جن ٹھیکیداروں کو دئیے گئے انہوں نے فوری طور پر سکولوں کو مسمار کردیا مگر فنڈز ملتے ہی سکولوں کی تعمیر اور مرمت کا کام بند کردیا ہے جس کی وجہ سے اکثر سکولوں میںابھی تک تعلیمی سرگرمیاں معطل ہیں، سندھ حکومت کی جانب سے محکمہ ایجوکیشن ورکس کو زبوں حال سکولوں کی ہنگامی بنیادوں پرتعمیر اور مرمت کے احکامات جاری کئے گئے اور فوری کام کے لیے فنڈز بھی فراہم کئے گئے،ضلع جیکب آباد کے 139زبوں حال سکولوں کی بحالی کے لیی46 کروڑ سے زائد کی رقم ٹھیکیداروں کو جاری کردی گئی مگر محکمہ ایجوکیشن ورکس کے افسران اور ٹھیکیداروں کی ملی بھگت سے جاری فنڈز میں بدعنوانی کا انکشاف ہوا ہے معلوم ہوا ہے کہ جاری فنڈز میں بڑے پیمانے پر کرپشن کی گئی ہے جس کی وجہ سے سندھ حکومت کا منصوبہ مکمل ناکام ہوچکا ہے ، سندھ حکومت کی جانب سے این آئی ٹی نمبر EE/EWD/TC/1925 کے تحت ضلع جیکب آباد کے 139سکولوں کی تعمیر اور مرمت کا ٹینڈرمارچ 2018میں جاری کئے گئے اور اس ٹینڈر میں واضح ہدایت دی گئی تھی کہ سکولوں کی بحالی کا منصوبہ 4 ماہ کے اندریعنی موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد جولائی 2018 میں کام مکمل کیا جائے مگر 6 ماہ گذرنے کے باوجود سکولوں کی تعمیر اور مرمت نہ ہوسکی ہے، اس سلسلے میں پرائمری ٹیچرز ایسوسی ایشن سندھ کے مرکزی صدر انتظار چھلگری نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ سندھ حکومت نے سکولوں کی بحالی کے لیے فنڈز بھی جاری کردئیے ہیں مگر
 

یہ بھی پڑھیں:اوپن یونیورسٹی نے ایک مفید کورس متعارف کروادیا

 
اب تک سکول بحال نہ ہوسکے ہیں جس کی وجہ سے بچوں کی تعلیم شدید متاثر ہورہی ہے ، انہوں نے کہا کہ منصوبے میں شامل سکولوں کی دیواریں، کلاس روم، چھتیں گرادی گئی ہیں اس لیے ان میں بچوں کی تعلیم جاری رکھنا خطرے سے خالی نہیں ہوگا اس لیے ہم نے اپنی مدد آپ کے تحت متاثرہ سکولوں کے بچوں کو دوسرے سکولوں میں شفٹ کردیا تاکہ بچوں کی تعلیم پر اثر نہ پڑے ایک سکول میں شام کو تین تین شفٹ چلائی جا رہی ہیں مگر اس کے باوجود بھی بچوں کی تعلیم متاثر ہورہی ہے دن بہ د ن بچوں کو انرولمینٹ کم ہو تی جا رہی ہے،انہوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت کام 4 ماہ میں مکمل کرنا تھا مگر ابھی تک کام مکمل نہیں ہوسکا ہے اگر فوری طور پر سکولوں کو بحال نہ کیا گیا تو بچوں کا مستقبل داؤ پر لگ سکتا ہے اس مسئلے پر محرم کے بعد تحریک چلائیں گے اس سلسلے میںایکسیئن ایجوکیشن ورکس انجینئر کرم اللہ پھلپوٹو سے موقف لینے کی کوشش کی گئی پر انکا نمبر اٹینڈ نہ ہوا۔