سندھ مدرسة الاسلام یونیورسٹی کے کانووکیشن میںمقررین نے طلبہ سے خطاب میں کیا کہا

کراچی(نمائندہ خصوصی)سندھ مدرسہ یونیورسٹی کا دوسرا کانووکیشن گزشتہ روز منعقد کیا گیا۔ذرائع کے مطابق گورنر سندھ اور چانسلر سندھ مدرسہ یونیورسٹی عمران اسماعیل نے کانووکیشن کی صدارت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سندھ کے گورنر عمران اسماعیل نے کہا کہ پاکستان میں سندھ مدرسہ یونیورسٹی سے زیادہ کوئی اور تعلیمی ادارہ نہیں ہے ، کیوںکہ یہاں اس ادارے سے پاکستان کے بانی قائد اعظمؒ محمد علی جناح نے تقریباً ساڑھے چار برس تک تعلیم حاصل کی۔طلبا اور طالبات کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ آج ایک عظیم درسگاہ کے طالبعلموں کو اسناد دینے کی تقریب میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ مدرسہ یونیورسٹی کو ایک معیاری درسگاہ بنانے میں اس جامعہ کے بانی وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ کا اس میں بہت اہم کردار ہے۔ جس کی وجہ سے آج اس تعلیمی ادارے کی دوسری بیچ سے طالبعلم ڈگریاں لے کر اپنی عملی زندگی گزار رہے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ یہاں سے تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلموں کا مستقبل بہت ہی تابناک ہے۔ جس میں وہ اپنے اعلیٰ اور معیاری تعلیم کی مدد سے ترقی کے بہترین مواقع حاصل کرسکتے ہیں۔ ان طالبعلموں نے اپنی ترقی کے لیے جو خواب دیکھے ہیں ان میں انکو پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کو بھی شامل کرنا پڑے گا۔ انہوں نے ڈگریاں حاصل کرنے والے طالبعلموں کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کو کل اپنے آنے والے نسل کیلئے ایک بہترین پاکستان چھوڑ کر جانا ہے۔
ہمارے ملک نے پہلے ہی بہت مشکل دن دیکھے ہیں پر اب ہم کو انکو ترقی دلانی ہے۔سندھ مدرسہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے اپنی تقریر میں سندھ کے گورنر اور دیگر مہمانان کا کانووکیشن میں شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا اور اسناد حاصل کرنے والے طالبعلموں کو مبارکباد پیش کی۔انہوں نے کہا کہ سندھ مدرسہ یونیورسٹی آج پاکستان کی بہترین جامعات میں سے ایک ہے۔
جہاں پر طالبعلموں کو نہ صرف معیاری تعلیم دی جاتی ہے بلکہ انکو دیگر جدید سہولیات دینے کے ساتھ لیڈرشپ پروگرام کے تحت ملکی اور غیر ملکی مطالعاتی دورے بھی کرائے جاتے ہیں۔جبکہ ہر سال یونیورسٹی میں فیسٹیول آف آرٹس اینڈ آئیڈیاز منعقد کرایا جاتا ہے جس سے طالبعلموں کو انکی تخلیقی اور قائدانہ صلاحیتیوں کی استعدادکار بڑھانے کا موقع بھی فراہم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ مدرسہ یونیورسٹی میں سے طالبعلموں کی جو پہلی بیچ فارغ التحصیل ہوکر نکلی تھی ان میں سے نوے فیصد طالبعلم اس وقت برسرروزگار ہیں۔ اسی طرح جو طالبعلم اس وقت اپنی اسناد حاصل کررہے ہیں ان میں سے بھی کئی طالبعلموں کو نوکریوں کی پیشکش ہوچکی ہے۔ اس وقت سندھ مدرسہ یونیورسٹی کے سٹی کیمپس میں ایک اور تعلیمی بلاک تیار کیا جارہا ہے۔
جو کہ ڈیڑھ برس کے اندر تیار ہوجائے گا۔ اس کے بعد سٹی کیمپس میں بیک وقت پانچ ہزار طالبعلم تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ اسی طرح آنے والے دس برسوں میں سندھ مدرسہ یونیورسٹی میں 28 ہزار طالبعلم تعلیم حاصل کرسکیں گے۔ ڈاکٹر محمد علی شیخ نے اس امید کا اظہار کیا کہ سندھ مدرسہ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلم اپنی عملی زندگی میں قائد اعظم محمد علی جناح کے نظریات کے تحت ملک کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔
سندھ کی صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں شہلا رضا نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ مدرسہ یونیورسٹی جیسے اس تاریخی ادارے میں تعلیم حاصل کرنے والے طالبعلموں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اب یہاں سے جانے کے بعد ایک عملی درسگاہ میں داخل ہورہے ہیں۔ جہاں پر وہ ترقی صرف اپن تعلیمی قابلیت اور محنت کی بنا پر کرسکیں گے۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ پاکستان کا نام بھی دنیا میں روشن کریں کیوںکہ ہمارا سب کچھ پاکستان کی ترقی سے منسوب ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج سندھ مدرسہ یونیورسٹی میں نمایان پوزیشن لینے والوں میں عورتوں کی تعداد زیادہ ہے۔ انہوںنے اپنی وزارت کی جانب سے سندھ مدرسہ یونیورسٹی کی طالبات کو کیریئر کونسلنگ کرانے کی بھی دعوت دی۔اس کانووکیشن میں سندھ مدرسہ یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ کے اراکین جسٹس (ر) آغا رفیق احمد خان، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز ، دیگر مہمانان ، اسناد حاصل کرنے والے طالبعلموں کے والدین ، سندھ مدرسہ یونیورسٹی کے فیکلٹی اراکین ، انتظامی افسران اور طالبعلموں کے والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈاکٹر محمد علی شیخ نے سندھ کے گورنر عمران اسماعیل اور شہلا رضا کو شیلڈز پیش کی۔