سکولوں پر پابندی لگا دی گئی

وزیراعظم عمران خان نے اسکولوں میں جسمانی سزاؤں پر پابندی کی منظوری دے دی، ماضی میں اسکولوں کے بچوں پر تشدد کے متعدد واقعات سامنے آتے رہے ہیں، وزیراعظم کے حکم کے بعد والدین پرامید ہیں کہ اب بچوں پر تشدد نہیں ہوگا۔

جسمانی سزا دینے سے بچوں کی شخصیت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ والدین اور اساتذہ کے پرتشدد رویے سے بچے تعلیم میں دلچسپی کھو بیٹھتے ہیں۔

عمران خان نے ایوان وزیراعظم میں کابینہ کے اہم اجلاس کی صدارت کی اور ملک میں رائج تعلیمی نظام اور بیرون ملک جمع شدہ ملکی دولت کو واپس لانے کیلیے ٹاسک فورسز کے قیام کی منظوری دی۔

پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ میں معاون خصوصی بیرسٹر شہزاد اکبر کے ساتھ مشترکہ پریس بریفنگ کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پرائیویٹ اسکولوں کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔ اس حوالے سے اقدامات ضروری ہیں، مدارس اور اسکولوں کا بنیادی نصاب ایک کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ بنیادی تعلیم کو ایک کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ وزیراعظم کا بہت پرانا خواب تھا۔ وزیر اطلاعات نے تسلیم کیا کہ تعلیم کی وجہ سے مختلف طبقات بن گئے ہیں۔

انھوں نے بتایاکہ اسٹریٹ چلڈرن کیلئے یتیم خانہ بنایا جائے گا، معذور افراد کیلئے عمارتوں میں خصوصی انتظامات کیے جائیں گے، فواد چوہدری نے واضح کیا کہ اسکول کے بچوں کو جسمانی سزا نہیں دی جاسکتی جبکہ بچوں کیخلاف جرائم کےخاتمے کیلئےاقدامات کیے جائینگے۔

ملک کے بیشتر سرکاری اور نجی اسکولوں میں، اساتذہ بچوں کو پڑھائی میں عدم دلچسپی، ہوم ورک نہ کرنے، غیر حاضری اور شرارتیں کرنے پر سزائیں دیتے ہیں۔ ڈیسک پر کھڑا کرنا، کلاس کے باہر کھڑے کرنا، ہتھیلیوں پر اسکیل مارنا، منہ پر تھپڑ مارنا، کان موڑنا، اٹھک بیٹھک کرانا اور مرغا بنانے کی سزائیں شامل ہیں۔

واضح رہے کہ ان سزاؤں سے شرارتی بچے ڈھیٹ ہوجاتے ہیں کئی بچوں کے ذہن میں مستقل سزائیں بھگتنے سے باغیانہ خیالات جڑ پکڑ لیتے ہیں۔ یونیسکو کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار ایسے ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں بچوں کی بہت بڑی تعداد اسکول نہیں جاتی، پاکستان میں 55 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے اور جو بچے اسکول پہنچ جاتے ہیں انھیں اسکولوں میں سہولتوں کی کمی اور اساتذہ کے ظالمانہ رویے کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔