طلبہ کیلئے بڑی خوشخبری

پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیوشنز (پامی) میڈیکل اور ڈینٹل کالج کی فیسوں میں کمی کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔پامی کی جانب سے یہ فیصلہ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب کی مداخلت کے بعد کیا گیا۔واضح رہے یہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا تھا کہ یہ تمام کالجوں کے لیے بہتر ہوگا کہ انہیں بند کرنے کے بجائے وہ ضروریات کو پورا کریں۔
پاکستان ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ میڈیکل اینڈ ڈینٹل انسٹی ٹیوشنز (پامی) میڈیکل اور ڈینٹل کالج کی فیسوں میں 50 ہزار روپے کم کرنے پر رضا مند ہوگئے ہیں۔گزشتہ ماہ پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) اور پامی کے درمیان نجی میڈیل اور ڈینٹل کالجوں کی فیس 8 لاکھ سے ساڑھے 9 لاکھ روپے تک بڑھانے کا معاہدہ ہوا تھا، ساتھ ہی یہ بھی فیصلہ ہوا تھا کہ تمام طلبہ 50 ہزار روپے داخلہ فیس اور 5 فیصد ٹیکس ادا کریں گے۔اس کے ساتھ ساتھ دونوں ادارے اس بات پر بھی راضی ہوئے تھے کہ طلبہ کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنی دولت کی ایک اسٹیٹمنٹ جمع کرائے، جس میں یہ ظاہر ہو کہ اس کے پاس 5 سال کی ٹیوشن فیس موجود ہے، ساتھ ہی والدین یا سرپرست کا انکم ٹیکس ریٹنز اور والدین یا سرپرست کے انتقال کی صورت میں باقی مدت کی فیس کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے ایک انشورنس سرٹیفکیٹ جمع کرانا ہوگا۔
پامی اور پی ایم ڈی سی کی جانب سے جو مثبت اقدام کیا گیا وہ یہ تھا کہ داخلے ایک مرکزی داخلہ پالیسی کے تحت کیے جائیں گے اور سرکاری جامعات کو داخلوں کے لیے استعمال کیا جائے گا جبکہ نجی ادارے عطیات نہیں مانگ سکیں گے۔دوسری جانب چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ کو پامی اور پی ایم ڈی سی کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ مستقبل کے ڈاکٹرز اچھے تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہو اور ان کا اور ان کے بچوں کا علاج ایسے ڈاکٹرز سے کرایا جائے گا جو میڈیکل کالجز میں ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ’ ’میں نے انہیں بتایا تھا کہ ڈاکٹر بخار اور بلڈ پریشر چیک نہیں کرسکتے، لہٰذا پی ایم ڈی سی میں اتنی طاقت ہونی چاہیے کہ وہ کالجوں کو کںٹرول کرسکے، نجی سیکٹر میں پامی کا اہم کردار ہے اور طلبا کم قیمت میں تعلیم حاصل کرسکیں لیکن تعلیم کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا“۔ جس کے بعد پامی ڈیڑھ لاکھ روپے کے بجائے ایک لاکھ روپے بڑھانے پر رضا مند ہوئے تھے۔