فیسوں میں اضافہ معاملہ۔۔ چیف جسٹس خود سربراہی کریں گے

اسلام آباد (نمائندہ کریئرکاروان)چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے نجی سکولوں کی فیسوں کے معاملے پر کیس کی سماعت میں ریمارکس دیئے ہیں کہ سکولوں نے سال میں کتنی بار اور کتنی فیس بڑھانی ہے ،?یہ کمیٹی طے کرے۔منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے نجی اسکولوں کی فیسوں سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ابھی تک پرائیویٹ سکولوں میں زائد فیسوں کا مسئلہ حل نہیں ہوا اس پر سیکرٹری قانون نے بتایا کہ نجی سکول 8 سے 10 فیصد اضافہ کرنا چاہتے ہیں، یہ چاہتے ہیں کہ کوئی پابندی نہ لگائی جائے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ یہ کمیٹی طے کرے کہ سال میں کتنی بار اور کتنی فیس بڑھائی جائے، عدالت نے سابق اٹارنی جنرل مخدوم علی خان کو کمیٹی میں شامل کردیا۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ پرائیویٹ سکول فیسوں میں اضافے کرتے جارہے ہیں اور والدین رو رہے ہیں، ہم نے جو کمیٹی بنائی تھی اس نے کوئی نتیجہ نہیں دیا، اب میں خود کمیٹی کی سربراہی کروں گا، وفاقی محتسب اور آڈیٹر جنرل کو بھی طلب کر لیں گے، ہمارا مؤقف ہے کہ فریقین بیٹھ کر مسئلے کا حل نکالیں، جتنا مسئلہ ہوجائے ٹھیک ہے باقی عدالت میں ہو جائے گا۔
دورانِ سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ فورانزک آڈٹ کے لیے وفاقی محتسب نے جتنا وقت مانگا ہے وہ زیادہ ہے، آڈٹ میں یہ تعین کرنا ہے کہ نجی سکول کتنا کماتے ہیں، اس میکنزم پر فیس کے میکانزم کا تعین ہونا ہے۔سیکرٹری لاءکمیشن نے عدالت کو بتایا کہ والدین اورسکولز کے وکلاءکا ٹی او آرز پر اتفاق ہے، فیسوں میں 8 فیصد اضافے پر فریقین کسی حد تک متفق ہیں۔