لاہور کے لاء کالجز کیوں بند ہوئے؟

لاہور شہر میں گھوسٹ لاء کالجز کا انکشاف ، چیف جسٹس پاکستان نے یونیورسٹیوں کوغیر معیاری لاء کالجز بند کرنے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ عدالتی حکم پر تشکیل دی گئی کمیٹی نے نجی لاء کالجز کے معیار کے حوالے سے رپورٹ پیش کی۔ کمیٹی نے پیش کی گئی رپورٹ میں گھوسٹ لاء کالجز کے خلاف مقدمات درج کرنے اور ناقص کارکردگی والے 8 لاء کالج کا یونیورسٹیوں سے الحاق ختم کرنے کی سفارش کی۔

کمیشن نے عدالت میں گھوسٹ لاء کالجز کی رپورٹ میں گلوبل لاء کالج شاہدرہ، انسٹیٹیوٹ آف لاء کالج گلبرگ، ایشین لاء کالج گلبرگ، سٹی لاء کالج علامہ اقبال روڈ، لاہور لاء کالج گلبرگ، شمس تبریز لاء کالج فیروز پور انٹر چینج روڈ کی رپورٹ پیش کی، کمیشن نے ان نجی کالجوں کے معیار تعلیم اور سہولیات کو ناقص قرار دیا۔عدالت میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق سمز لاء کالج، لیڈز لاءکالج ٹاﺅن شپ، پی ایس ای لاء کالج نین سکھ، نیشنل لاء کالج لاہور، فرابی لاء کالج حافظ آباد، علامہ اقبال لاء کالج سیالکوٹ، پریمیئر لاء کالج گوجرانوالہ، قائد اعظم لاءکالج اوکاڑہ کی کارکردگی کو غیر معیاری قرار دیا گیا۔

مذکورہ کالجوں میں ایل ایل بی میں طلباء کے داخلے تو کیے جاتے تھے تاہم ان طلباء کے لیے کلاسز اور اساتذہ کا بندوبست ہی نہیں تھا اس کے باوجود طلباء سے کلاسز کی فیسیں وصول کی جاتی تھیں۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ان کالجوں کی رجسٹریشن منسوخ کرکے انہیں بند کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سپریم کورٹ نے لاء کالجز کے معیار کے حوالے سے کیس کی سماعت 28 اگست تک ملتوی کرتے ہوئے متعلقہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو غیرمعیاری لاء کالجز کے خلاف کارروائی کر کے عملدرآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔