2030 تک لوجک چپ کی ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور تیاری کے لیے 116 ارب ڈالر خرچ آئے گا

پچھلے سال کے شروع میں سام سنگ انٹل کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی چپ میکر کمپنی بن گئی۔ اس کامیابی میں زیادہ حصہ تو سام سنگ کے میموری ڈویژن کا تھا۔ آج سام سنگ نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 تک نان میموری چپس پر 116 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گے۔
اس سے کمپنی کا انحصار میموری ڈویژن پر کافی کم ہو جائے گا۔ پچھلی سہ ماہی میں کمپنی کے میموری ڈویژن کی کارکردگی کچھ زیادہ اچھی نہیں تھی۔
سام سنگ کا کہنا ہے کہ 116 ارب ڈالر میں سے آدھے سے زیادہ رقم تو ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اور 15000نئے ملازمت کے مواقع تخلیق کرنے پر خرچ ہوگی۔ باقی رقم سے انفراسٹرکچر تیار کیا جائےگا۔
سام سنگ سسٹم ایل ایس آئی، جو ایگزینوس چپس اور موڈیمز، ISOCELL سنسر اور دوسری کئی ڈیوائسز تیار کرتا ہے ، کو سام سنگ فاؤنڈری، جہاں چپ فیبریکشن ہوتی ہے، کے ساتھ 2030 تک سالانہ 9.5 ارب ڈالر ملیں گے۔
عام طور پر سام سنگ کا میموری ڈویژن ہی زیادہ منافع کما کر دیتا ہے اور اسے ہی کمپنی سے زیادہ فنڈنگ ملتی ہے۔چونکہ میموری ڈویژن کی کارکردگی کچھ کم ہو گئی ہے اس لیے کمپنی دوسروں شعبوں میں سرمایہ کاری میں اضافہ کر رہی ہے، جس کا مقصد مستقبل میں ملنے والے نئے مواقعوں سے استفادہ کرنا ہے۔
دوسری طرف انٹل 5 جی موڈیمز سے بھی پیچھے ہٹ گیا ہے۔
انٹل کے 5 جی موڈیمز کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ آئی فونز کے لیے فراہم کیے جائیں گے۔ اب ایسا لگتا ہے کہ آئی فونز کے لیے کوالکوم اور سام سنگ ہی 5 جی موڈیم فراہم کریں گے۔
2017میں سام سنگ نے کار الیکٹرونکس کی بڑی سپلائر کمپنی ہرمین کو بھی خرید لیا تھا۔ یعنی سام سنگ اب سیلف ڈرائیونگ کاروں کے لیے بھی موڈیمز، کیمرے اور مصنوعی ذہانت کے ہارڈ وئیر فراہم کرے گا۔
فاؤنڈری سائیڈ پر سام سنگ کا مقابلہ ٹی ایس ایم سی کے ساتھ ہے۔ ٹی ایس ایم سی کی کاروباری شراکت کوالکوم، ایپل، اے ایم ڈی، این ویڈیا اور ہواوے کے ساتھ ہے۔